جذبات کاٹرننگ پوائنٹ

جذبات کاٹرننگ پوائنٹ

چوبیس سال قبل بھارتی شہرایودھیا میں مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے دور میں تعمیر ہونے والی تاریخی بابری مسجدکو ہندو بلوائیوں نے شہید کردیا تھا ۔بابری مسجد جب شہید کی جارہی تھی اس سے برسوں پہلے ہندوئوں نے یہ موقف اختیار کرکے کہ یہاں رام کی جنم بھومی اور ایک مندر تھا جسے بابر نے مسمار کرکے مسجد تعمیر کی تھی ،بابری مسجد کو متنازعہ بنا کر تالے لگوا دئیے تھے ۔دہائیوں سے بے آباد مسجد بھی ہندوانتہا پسندوں کی آنکھوں میں خار کی مانند کھٹکتی رہی اور ایک روز انتہا پسندوں نے بال ٹھاکرے ،کلیان سنگھ ،ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں ڈنڈوں ،کدالوں برچھوںاور ترشولوں سے حملہ کر کے بابری مسجد کو مسمار کر کے یہاں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا ۔بھارتی مسلمانوں نے اسے اپنی تاریخ اور ثقافت اور مذہبی شناخت پر حملہ قرار دے کو احتجاج کیا تو ہندو انتہا پسندوں نے پورے بھارت میں مسلمانوں پر جابجا حملے شرو ع کردئیے اورمسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنایا جانے لگا ۔ان مسلم کش فسادات میں تین ہزار مسلمان جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر کسی بھی شخص کو گرفتار کیا گیا نہ سزا دی گئی ۔بابری مسجد کی شہادت بھارت کی سیاست میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی ۔بابری مسجد کے ملبے پر ہندو انتہا پسندوں کی سیاست میں دھوم دھڑکے سے شرکت کا آغاز ہو گیا ۔اس واقعے سے پہلے بھارت میں سیاست کی ایک مرکزی کھلاڑی گاندھی اور نہرو سے منسوب اور سیکولراور سوشلسٹ خیالات کی پرچارک کانگریس تھی جبکہ اس کا مقابلہ کبھی جنتا پارٹی اور جنتا دل جیسے بائیں بازو کے کسی اتحاد کے ساتھ ہوتا تھا ۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا بھی پوری قوت سے کئی ریاستوں اور قومی سیاست کے میدان میں موجود تھی ۔بھارت کے انتہا پسند ہندو یا تو انہی جماعتوں میں شامل تھے یا پھر وہ ان جماعتوں کو ہرانے یا جتوانے کے لئے پریشر گروپ کا کردار ادا کرتے تھے ۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارتی انتہا پسندوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام سے ایک محاذ بنا کر قومی سیاست میں اپنا پہلا قدم رکھا ۔رفتہ رفتہ ہندو انتہا پسند بھارت میں سیاسی پیش رفت کرتے چلے گئے یہاں تک وہ فیصلہ سازی پر حاوی ہوگئے ۔مسلمان جو بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ہیں اس صورت حال پر پیچ و تاب کھا کر رہ گئے مگر بی جے پی کی سیاست میں آمد اور اُبھار کے بعد ان کے آپشن محدود ہو تے جا رہے تھے ۔مسلمانوں نے بی جے پی مخالف محاذوں کی طرف لڑھکنے کی کوشش کی مگر یہ بے سود رہی کیونکہ بی جے پی کی لہر نے کانگریس اور باقی جماعتوں کو بھی مسلمانوں کے حوالے سے دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا تھا ۔بابری مسجد کی شہادت صرف بھارت کی سیاست کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت نہیں ہوئی بلکہ اس نے مجموعی طور برصغیر پاک وہند میں شدت پسندانہ اور انتہا پسندانہ رویوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ۔بابری مسجد کی شہادت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی اور ردعمل نے پاکستان کو بھی متاثر کیا اور پاکستان میں بھارت مخالف جذبات کو عروج حاصل ہوا۔کئی تنظیمیں اس سوچ کا پرچار کرنے لگیں کہ بھارت میں مسلمانوں کا مستقبل ہی نہیں بلکہ صدیوں کا تاریخی اور تہذیبی ورثہ بھی خطرے میں ہے ۔بابری مسجد کے بعد انتہاپسندوں کی طرف سے کئی مساجدکے گرد سرخ دائرہ کھینچنے سے ردعمل کے شعلوں کو ہوا ملتی چلی گئی ۔ بابری مسجد کے بعد متھرا کی تاریخی مسجد اسی انجام کی طرف دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی۔2003 میںمجھے دہلی سے آگرہ کے سفر میں شری کرشنا کے نام سے موسوم ایک بڑے مندر کو دیکھنے کا موقع ملا ۔یہاں ہندوئوں کا کوئی تہوار چل رہا تھا اور نارنجی لباس میں سادھو ترشول اُٹھائے قافلہ در قافلہ متھرا سڑکوں پر رواں دواں تھے ۔شری کرشنا مندر کے احاطے میں ایک کونے میں ایک ویران اور بیابان عمارت اپنے عظیم ماضی اورلاچارحال کی تصویر بنی کھڑی تھی ۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہ مسجد ہے جو بابری مسجد کے بعد انتہاپسندوں کے نشانے پر ہے ۔جہاں کبھی ایک ہی صف میں شاہ و گدا کی جبینیں جھکا کرتی تھیں اب وہاں دروازوں کے باہرموٹے تالے اور اندرچڑیوں اور پرندوں کا بسیر ا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت نے جہاںپورے خطے کے مسلمانوں کو مایوس اور ردعمل کا شکار کیا وہیں بھارت میں انتہا پسندوں نے اسے اپنا کامیاب سیاسی ٹیک آف جانا ۔اس پہلی کامیابی نے انہیں اعتماد اور حوصلہ عطا کیا اور وہ زیادہ تیز رفتاری سے بھارت کا مجموعی ماحول اور سیاسی کلچر بدلنے کی اپنی راہ پر گامزن ہو تے چلے گئے۔ایک رائے یہ ہے کہ بابری مسجد کا سانحہ نہ ہوتا تو شاید یہ خطہ ردعمل اور انتقام در انتقام کی موجودہ کیفیت کا شکار نہ ہوتا ۔مسجد کے ملبے پر ہندو انتہا پسندوں نے اپنی دیوہیکل سیاسی عمارت کے لئے ایک بنیاد تو ڈال دی مگر اس کے نتیجے میں ردعمل اور کشمکش کی جو آگ بھڑک اُٹھی آج پاکستان،بنگلہ دیش اور بھارت میں مختلف صورتوں میں اس کے شعلے آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔بابری مسجد ایک مدت تک پاکستان میں بہت سے سیاسی اور مذہبی رہنمائوں کی تقاریر کا اہم موضوع بنی رہی ۔ نریندرمودی کی وزارت عظمیٰ بابری مسجد سے شروع ہونے والے ہندو انتہا پسندوں کا نقطہ عروج ہے ۔اب بھارت کا سیکولرازم جو پہلے ہی برائے نام تھا ماضی کی کہانی بنتا جا رہا ہے ۔بھارت سیکولرازم کے بینر اور نام تلے ایک کٹر ہندو ریاست کی شکل اختیا رکرتا جا رہا ہے ۔بابری مسجد سے نہرو اور گاندھی کے سیکولر انڈیا کے سردار پٹیل اور بال ٹھاکرے کے ہندو انڈیا میں بدلنے کا جو سفر شروع ہوا تھا چوبیس سال گزرنے کے بعد اس میں تیزی اور شدت آگئی ہے ۔بھارت اس نئی شبیہہ اور شناخت کے ساتھ اپنا وجود کس حد تک برقرار رکھ سکتا ہے ؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

متعلقہ خبریں