ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور پاک افغان تعلقات

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور پاک افغان تعلقات

افغانستان کو ایشیا کا دل ہمارے عظیم قومی شاعر علامہ محمد اقبال نے قرار دیا تھا ۔

آسیا یک پیکر آب و گل است
افغانستان در پیکر اُو دل است
یہ اشعار اور افغانستان سے متعلق علامہ کی غزلیں اور نظمیں ہمارے نصاب کا حصہ ہوتیں تو شاید کچھ عقل ہمیں بھی حاصل ہو جاتی ۔ اب یہ بات تحقیق طلب ہے کہ علامہ اقبال نے افغانیوں کا اتنا گہرا مطالعہ کیسے کیا تھا ۔ وہ سوائے ایک دورہ کابل کے اور کس کس افغان عالم ، شخصیت یا عوام میں سے کس سے ملے تھے ۔ لیکن یہ بات بہر حال تسلیم شدہ ہے کہ علا مہ کا فلسفہ ، دور بینی ، دوراندیشی اور اسلام اور امت مسلمہ سے محبت اور اس امت کی ترقی اور شان و شوکت کے لئے اتحاد اُمت الہام الہٰی پر مبنی ہے ۔ '' محراب گل افغان کے افکار ''پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے علامہ افغانیوں کے دل کے اندر تشریف فرما ہیں ۔ افغانیوں کے جذبہ حریت کو کس شان سے ایک ہی شعر میں یوں بیان کیا ہے کہ کوئی کتابوں میں بھی شاید ہی بیان کر سکے ۔
باز نہ ہوگا کبھی بندہ کبک وحمام
حفظ بدن کے لئے روح کر دوں ہلاک!
یہ بات تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے کہ افغانستان کے حکمران طبقے نے کبھی بھی پاکستان کو وہ اہمیت نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔ایک مدت تک افغان حکمران طبقہ ، پنڈت چانیکہ کے مکارانہ فلسفہ کے جادو کے زیر اثر رہ کر پاکستان کے وجود کو برداشت نہیں کر رہے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ 1980ء کے عشرے تک تو وہ اُن قوتوں کے ساتھ ہاتھ ملائے ہوئے تھے جو پاکستان کی سا لمیت کے درپے تھے ۔ جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی اور افغانیوں کی جنگ آزادی کے لئے پاکستان ایک بیس کیمپ بنا ۔ افغانستان کے دانشور طبقے سے یہ سوال کرتا ہوں کہ خدا نخواستہ پاکستان نہ ہوتا تو افغانی کہا ں جاتے ۔ کیا ہندوستان ، روس کے خلاف جنگ میں افغانیوں کو وہ ساتھ فراہم کرتا جو پاکستان نے فراہم کیا ۔ ہندوستان تو اس تاریخی جنگ میں روس کا اتحاد ی اور دوست تھا ۔ آج کرزئی اور اشرف غنی بھارتی سرزمین پر مسلمانوں کے بد ترین دشمن ، متعصب ہندو نریندر مودی کی گود میں بیٹھ کر وہی زبان بولے جو مودی پاکستان کے بارے میں بولتا ہے ۔ اپنوں کے گلے شکوے بیچ چورا ہے نہیں ہوتے ۔ لہٰذا افغان صدر کو یاد رکھناچاہئیے کہ کہیں ان کا راستہ کرزئی کی طرح پاکستان سے بھی گزرنے کا محتاج ہو سکتا ہے ۔ اس لئے تنگ نظری میں اتنے اندھے نہ ہو جا یا کرو کہ کل دامن سمیٹ کر بھی گزرنے کا راستہ نے ملے ۔ افغانستان کے جو حالات ہیں ۔ ان میں آ پ جیسے صدر جو باہر سے تشریف لاتے ہیں ، عارضی قیام کے لئے ہی آتے ہیں ، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جو سٹریٹجک پوزیشن دی ہے ، اس کے سامنے اللہ کے فضل سے بڑے بڑے جھکے ہیں اور پھر بھی جھکیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ایا م اور شب و روز تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ اللہ سی پیک کو کامیا ب کرے اور ہوگا انشا ء اللہ ۔ تو ان شاء اللہ ، روس جیسے ممالک اس میں شامل ہونگے ۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ روس نے گرم پانیوں تک پہنچنے کے لئے غلط راستے کے انتخاب سے سبق سیکھ لیا ہے اور آج عزت اور مثبت کردار کے ساتھ وہاں پہنچنے والا ہے ۔ اس لئے تو امر تسر کانفرنس میں روسی مندوب نے بھارت اور افغان صدر کی ہرزہ سرائی کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کو سیا ست کی نذر نہ کیا جائے بلکہ افغانستان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے کہر اس کے انعقاد کایہی مقصد ہے ۔ اشرف غنی نے پاکستان کے خلوص اور تنگ دستی کے باوجود خطیر رقم کی امداد کو جس طرح ٹھکرایا ہے ، وقت آنے والا ہے کہ تاریخ ان کے اس کردار کی مذمت کرکے لعن طعن بھیجے گی ۔ بھارت ہزار بار ائیر کا رگوفراہم کرے ۔ ائیر کار گو کام کرتا تو چین اور روس سی پیک میں اربو ں ڈالر نہ لگا تے ۔ پھر اشرف غنی کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان فضائی راستے پاکستان کی بیکراں فضائی حدود سے گزرتے ہیں ، کیا یہ پاکستان کی اجازت کے بغیر ممکن ہو سکے گا ۔ کبھی نہیں لیکن آخرمیں اپنے حکمرانوں سے بھی اتنی سی عرض ہے کہ ایک ذرا سی خودی ، علامہ اقبال سے مستعار لیجئے ۔ جناب رسول اللہ ۖ کے امتی ہوتے ہوئے ہم واحد خدائے نیاز کے سامنے التجا کرنے کی بجائے بتوں کے سامنے پر نام کرنے والوں سے مذاکرات کی بھیک مانگتے ہیں ۔آخر اقبال نے ایسے ہی حالات کے پیش نظر تو کہا تھا کہ غیر ت سے ہے بڑی چیز جہان تگ و دومیں ۔پاکستان کو چاہیئے کہ افغانی عوام کے ساتھ رابطے مضبوط کرے اور اس کے لئے پاکستان میں موجود افغانیوں کوسیمیناروں ،جرگوں اور دیگر پروگراموں کے ذریعے ان اقدامات سے آگاہ کریں جو اُن کا صدر اُٹھا چکا ہے اور جس کے بہت برے اثرات پوری افغانی قوم پر مرتب ہوںگے ۔ اور ساتھ ہی اپنی خارجہ پالیسی کو مسلمانوں کے ساتھ تعاون پر استوار کرے۔

متعلقہ خبریں