صدیوں کی ذہانت

صدیوں کی ذہانت

ہم نے بزرگوںسے سنا ہے کہ جب اپنی عقل کام نہ کرے تو بندہ کسی کے ساتھ مشورہ ہی کر لے اور اگر بندہ بھی نہ ملے تو دیوار کے ساتھ مشورہ کر لینا چاہیے۔ آج ہم جن مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ان کے حل کے لیے اگر بات ہمارے ذہن میں نہیں آتی تو بھائی کسی سے پوچھ لو دنیا ہی کو بغور دیکھ لو کہ اکیسویں صدی میں اقوام عالم کی کیا روش ہے۔ دنیا کے بہترین دماغ کیا سوچتے رہے اور انہوں نے اپنے بعد آنے والے لوگوں کو زندگی بہتر انداز میں گزارنے کے لیے کیا کیا نصیحتیں کیں؟ ایسی ہزاروں کتابیں ہیں جن کے تراجم ہوئے ان پر تبصرے کیے گئے اور حضرت انسان نے ان کتابوں سے بہت کچھ سیکھا۔جب بھی کتاب کا ذکر ہوتا ہے دنیا کی بہترین کتابوں کے حوالے دیے جاتے ہیں ان کی افادیت کا ذکر ہوتا ہے۔ ایک کتاب ایسی بھی ہے جس میں صرف اور صرف اقوال ہیں۔ جی ہاںجنہیں ہم اقوال زریں کہتے ہیں۔جن میں صدیوں کی ذہانت پوشیدہ ہوتی ہے ۔اس کتاب کا نام ہی اقوال ہے جس میں کنفیوشس کی وفات کے بعد اس کے شاگردوں نے ان اقوال کو جمع کر کے شائع کردیا۔ یہ بہت پرانی بات ہے۔کنفیوشس کی موت (٤٧٨ ق م) میں ہوئی تھی۔ یہ اقوال قدیم چینی زبان میں مرتب کیے گئے تھے۔ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ان اقوال کی قدروقیمت ،اہمیت و افادیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ دنیا کی ہر قوم کے پاس یہ اقوال پہنچے ۔ ہر دور میں کنفیوشس کی تعلیمات کے تراجم ہوتے رہے۔ پڑھنے والوں نے ان اقوال کو ہر دور میں خوش آمدید کہا۔کنفیوشس نے اپنی تعلیمات میں پانچ باتوں کو بڑی اہمیت دی ہے اس کی خواہش ہے کہ اس کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے والے یہ پانچ اوصاف اپنے اندر پیدا کریں۔ نرمی، تحمل، صداقت، وقار، شفقت، اور عاجزی۔ کنفیوشس موجودہ چین کے صوبے شان ننگ کے ایک گائوں میں پیدا ہوا۔اس کا سن پیدائش ٥٥١ ق م ہے۔کنفیوشس کے اقوال پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب باتیں اس نے آج کے دور میں کی ہیں۔ جیسے وہ آج کے مسائل سے با خبر تھا۔اس کے اقوال کا مطالعہ سوچ کے کتنے نئے در وا کردیتا ہے۔دانش و حکمت کے یہ خزانے صدیوں سے لوگوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ بڑے آدمی کی تعریف کرتے ہوئے کنفیوشس کہتا ہے۔ تیز طرار گفتگو دوسروں کو جان بوجھ کر متاثر کرنے والے آداب سے کوئی شخص بڑا آدمی نہیں بنتا۔ تین بار میں اپنا محاسبہ کرتا ہوں اور یہ جائزہ لیتا ہوں کہ کیا میں دوسرے لوگوں کے کاموںسے جی تو نہیں چرا رہا؟ کیا میں اپنے دوستوں سے فریب تو نہیں کررہا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو کچھ مجھے سکھایا گیا ہے میں اسے دوسروں تک پہنچانے میں ناکام رہا ہوں۔عظیم انسان کی تعریف یہ ہے کہ پہلے وہ خود دوسروں کے لیے مثال بنتا ہے پھر دوسروں کو تقلید کی دعوت دیتا ہے۔حکام کے انتخاب کے حوالے سے کیا خوب کہا ہے۔اگر آپ بے ایمان اور بے انصاف حکام کی جگہ منصف اور ایماندار لوگوں کو آگے لائیں گے تو لوگ آپ کی عزت کریں گے اور مطیع ہو جائیں گے۔لیکن اگر ایماندار اور منصف حکام کی جگہ بے ایمان اور بے انصاف حکام کو لائیں گے تو پھر لوگ نہ آپ سے خوش ہوں گے اور نہ مطیع ہوں گے۔آج ہمارے ادارے ٹوٹ رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم ذاتی مفادات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔کنفیوشس نے اس حوالے سے کہا کہ چھوٹے آدمی کو مراعات اور مفادات سے غرض ہوتی ہے بڑے آدمی کو اصول اور ضوابط کا پاس ہوتا ہے۔ وہ شخص جو اپنے اعمال کو صرف اپنے مقاصد اور مفاد کے لیے وقف کر دیتا ہے اس کے دشمنوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔اس با ت پر کبھی بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہیں۔ ہمیشہ اس بات پر دھیان دیں کہ آپ کو جو فرض سونپا گیا ہے وہ بخوبی انجام پائے۔احترام والدین کنفیوشس کی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک آپ کے والدین زندہ ہیں آپ کو مقدس مقامات کی زیارتوں کے لیے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کنفیوشس نے ایک دن شاگردوں سے سوال کیا کہ مجھے بتائو تمہا ری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ ایک شاگرد نے کہا کہ میں شاندار گاڑیوں گھوڑوں اور شاندار ملبوسات کی خواہش رکھتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ یہ اتنی افراط سے ہوں کہ انہیں اپنے دوستوں میں تقسیم کرسکوں اور اگر وہ ان کو ضائع بھی کردیں تو مجھے اپنے دوستوں پر غصہ نہ آئے۔ دوسرے نے کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں اپنی قابلیت کی بڑ نہ ہانکوں۔ میرے اچھے اعمال کبھی لوگوں پر ظاہر نہ ہوں۔ کنفیوشس نے اپنے شاگردوں کی خواہشات سننے کے بعد کہا کہ میری خواہش کوئی پوچھے تو یہ ہے کہ میں بوڑھوں کو ہمیشہ تحفظ دے سکوں۔ اپنے دوستوں کا ہمیشہ وفادار رہوں اور اپنے چھوٹوں سے ہمیشہ شفقت برتوں۔کنفیوشس کے چند مختصر اقوال ملاحظہ کیجیے۔ وہ شخص جو سچائی سے زندگی بسر نہیں کرتا اگر وہ تباہ نہیں ہوتا تو غیر معمولی طور پر خوش قسمت واقع ہوا ہے۔گوشت کے بغیر سادی سبزی کھانا پڑے۔پینے کے لیے صرف پانی ملے۔ سونے کے لیے تکیہ نہ ہو بلکہ اپنے بازو کو ہی تکیہ بنانا پڑے۔ یہ حالت بہتر ہے اس دولت سے جو بے انصافی سے حا صل کی گئی ہو۔بڑا آدمی ہمیشہ مطمئن رہتا ہے اور چھوٹا آدمی پریشان۔ مجھے باتونی آدمی اچھا نہیں لگتا۔ وہ جن میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی ولی ہوتے ہیں یا احمق!