صرف انضمام مسائل کا حل نہیں

صرف انضمام مسائل کا حل نہیں

قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئر مین آفتاب احمد خان شیر پائو کی جانب سے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ملک کا دوسرا بڑا صوبہ ہونے پر اس کی اہمیت میں اضافہ ہونے کی بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔ فاٹا کے صوبے میں ضم ہونے سے سیاسی و معاشی فوائد سے بھی انکار نہیں لیکن اس کو قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ سمجھنا اس لئے درست نہ ہوگا کہ اس وقت خود خیبر پختونخوا میں شامل ایسے علاقے اور حصے موجود ہیں جہاں کے عوام کو بنیادی انسانی سہولیات میسر نہیں ۔جہاں بنیادی اساس اگر قائم ہی نہ ہونا قرار دیا جائے تو خلاف حقیقت نہ ہوگی۔ اگر فاٹا کے صوبے میں ضم ہونے کو مسائل کا حل مانا جائے تو صوبے میں حکومت نے جو نئے اضلاع بنائے ہیں وہاں تو عوامی مسائل کے حل میں نما یا ں بہتری آنی چاہیئے تھی اور وہاں کے عوام کو مطمئن ہونا چاہئے تھا۔ آج بھی تو ر غر کوہستان کے عوام جن حالات اور مشکلات کا شکار ہیں وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ ایسے میںاگر فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہوجاتا ہے تو اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ اس انضمام کے بعد فاٹامیں تعمیر و ترقی کا عمل شروع ہوگا اور قبائلی علاقہ جات کی ترقی کیلئے کافی فنڈز مختص کئے جائیں گے اور ان کا عوام کے مفاد میں استعمال یقینی بنایا جائے گا ۔فاٹا کا صوبے میں انضمام اگر ایک ناکام تجربہ ثابت ہوا تو اس سے تضادات اور مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ بنا بریں بہتر ہوگا کہ اس ضمن میں جلد بازی کی بجائے قبائلی علاقوں کو مرحلہ وار بندوبستی علاقوں میں شامل کیا جائے اور جن جن علاقوں کو بندوبستی علاقوں میں شامل کیا جا ئے وہاں کی بنیادی اساس کو اس قابل بنایا جائے کہ اس پر مضبوط ترقی کی بنیاد رکھی جاسکے اور عوام کے مسائل می

متعلقہ خبریں