قابل توجہ معاملات

قابل توجہ معاملات

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے مطابق خیبرپختونخوا میں دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم اور سیاحت کی ترقی کے لئے بھی پاک فضائیہ کے تعاون سے کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ سوات میں سیدو شریف ائیرپورٹ کی اربوں روپے کی لاگت سے توسیع پر کام تیزی سے جاری ہے جس کے بعد یہاں عنقریب صرف فوکرطیارے ہی نہیں بلکہ بوئنگ اور بین الاقوامی پروازوں کی آمد و رفت بھی شروع ہو جائے گی جس سے مقامی لوگوں کے علاوہ ملکی و غیر ملکی سیاح بھی مستفید ہونگے۔ دریں اثناوزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں پی اے ایف اکیڈمی رسالپور کے ائیر آفیسر کمانڈنگ ائیر وائس مارشل عمران خالد کی زیرقیادت وفد سے ملاقات میں صوبے میں پاک ائیرفورس کے جاری و نئے ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ بعض ضروری فیصلے بھی کئے گئے ۔ وزیراعلیٰ نے وفد کی درخواست پر پاک فضائیہ میں ملاکنڈ ڈویژن کے نوجوانوں کی بھرتیوں میں سہولت کے لئے سوات میں ائیرفورس انفارمیشن اینڈ سلیکشن سنٹر کے قیام، کانجو ٹائون شپ اور ائیرپورٹ سے ملحقہ تین سو کنال غیرآباد اراضی ہوائی مستقر، ورکشاپس اور عملے کی رہائشی ضروریات کی لئے بروئے کار لانے اور خویشگی جھیل سے ملحقہ مزید اراضی سیاحتی مقاصد کے لئے پاک فضائیہ کو لیز پر دینے کی منظوری بھی دی ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کو نوشہرہ کے قریب دریا کے سنگم پر واقع خویشگی جھیل اور ملحقہ اراضی پر نیشنل پارک کے قیام اور اسے دریائے سندھ تک سیاحوں کے لئے زیادہ سے زیادہ پرکشش بنانے کے لئے پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ پرویز خٹک نے پارک میں کشتی رانی، ماہی گیری، جنگلی حیات، بچوں کے جھولوں اور واٹر سپورٹس سمیت دیگر سیاحتی کھیلوںکا بین الاقوامی معیار کے مطابق بندوبست اور منصوبہ بندی کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سرمایہ کاری کے لئے پرکشش بنانا ضروری ہے۔ اس عمل میں پاک فضائیہ کی معاونت کا بھی خیرمقدم کیا جائے گا۔خیبر پختونخوا حکومت اور پاک فضائیہ کے درمیان پہلے ہی فنی تعلیم کے اداروں کو بہتر انداز میں چلانے پر اتفاق ہو چکا ہے ۔ صوبائی حکومت اور پاک فضائیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون فطری امر ہے ۔ پاک فضائیہ صوبائی حکومت کی اعانت سے جو منصوبے بنارہی ہے اس میں ائیر فورس کے استفادے کے علاوہ صوبے کے عوام کو بھی ان منصوبوں سے استفادے کا پورا موقع دینے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ جہاں جہاں صوبائی حکومت کے تعاون سے تفریحی ، تعلیمی یا دیگر منصوبے بنائے جائیں اس میں اس مناسبت سے صوبے کو بھی فوائد میں شامل کرنے کا سہل طریقہ کار طے کرنے کی ضرورت ہے ۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات میں دیگر معاملات کی طرح اس پر بھی ضرور غور کیا گیا ہوگا ۔ جہاں تک صوبے میں ہوائی اڈوں کی توسیع اور پروازوں کی بحالی کا سوال ہے اس سے ائیر فورس کا براہ راست تو تعلق نہیں لیکن اس ضمن میں ان کی مشاورت اور تعاون کی اہمیت مسلمہ ہے۔ وزیرا علیٰ نے ان سے ملاقات میں شاید اسی تناظر میں سوات ائیر پورٹ کی توسیع و مرمت اور اسے بین الاقوامی پروازوں کے قابل بنانے کا تذکرہ کیا ہے ۔جہاں تک صوبے میں بین الاقوامی پروازوں اور موزوں ہوائی اڈوں کی موجودگی کا سوال ہے اسے خیبر پختونخوا کی بد قسمتی ہی سے تعبیر کیا جائے گا کہ صوبے کا واحد بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی اب اس معیار اور درجے کا نہیں جسے بین الاقوامی پروازوں کیلئے موزوں قراردیا جاسکے ۔ پشاور کا ہوائی اڈہ آبادی میں گھرا اور پروازوں کی آمد ورفت کیلئے موزونیت کھو چکا ہے۔ جبکہ طیاروں کے اترنے اور پرواز کے وقت دیگر مشکلات کے علاوہ پروازوں کے تحفظ بھی خطرات کی زد میں رہتے ہیں پشاور سے بیشتر بین الاقوامی اور اندرون ملک پروازوں کی دہشت گردی کے حالات کے باعث بندش کے بعدہنوز بحالی نہیں ہو سکی ہے ۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے پشاور کے ہوائی مستقر کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ باچا خان انٹر نیشنل ائیر پورٹ کے محل وقوع اور سہولیات کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیں کہ پشاور میں کسی موزوں مضافاتی علاقے میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ تعمیر کیا جائے۔ جہاں تک سیاحوں کی سہولت اور سیاحت کے پیش نظر ہوائی اڈوں کی تعمیر و توسیع کا سوال ہے اس ضمن میں سوات کے علاوہ چترال ایئر پورٹ کی بھی توسیع و مرمت کی ضرورت ہے اور ان دونوں ائیر پورٹس پر اسلام آباد سے پروازوں کی تعداد میں اضافے کی بھی ضرورت ہوگی تاکہ سیاح اسلام آباد سے براہ راست ان علاقوں کی سیاحت کیلئے پہنچ سکیں۔ کا روباری نقطہ نظر سے بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ہوائی اڈوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ صوبائی حکومت کو صوبے میں فضائی آمد ورفت اور فضائی سفر کی سہولیات میںاضافے کیلئے وزارت دفاع اور شہری ہوا بازی کے ادارے کے ساتھ ساتھ ملکی و بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں سے بھی رابطہ بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں