سیاحوں سے قدرتی ماحول کو خطرات

سیاحوں سے قدرتی ماحول کو خطرات

خیبر پختونخوا کے پر فضا مقامات کی سیاحت کیلئے موزو نیت اور کشش کے باعث سیاحوں کاکھچ کر ان مقامات کی طرف چلے آنے میں اس لئے بھی اضافہ ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی طویل اور تاریک رات کے بعد اب امن بحال ہوا ہے ۔ ایسے میں سالوں سے حالا ت کی چکی میں پسے مقامی افراد بھی سیر سپاٹے کی قدرو اہمیت سے واقف ہو چکے ہیں وگرنہ پہلے یہ ان کے کلچر کا حصہ نہ تھا۔ بہر حال وجوہات جوبھی ہوں صوبے کے پر فضا مقامات کی سیاحت سے پیدا شدہ مسائل قابل توجہ ہیں ۔ہمارے نمائندے کی خصوصی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سیاحت کیلئے تقریباً پچیس لاکھ سیاح آئے جو ایک لاکھ ٹن سے زائد کچرا پھینک کر چلے گئے۔ اس سے قدرتی تالابوں جھیلوں ، ندی نالوں سبزہ زاروں اور جنگلات کا خاص طور پر متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اس سے بڑھ کر ستم ظریفی کیا ہو سکتی ہے کہ ہم جن مقامات کی خوبصورتی دلکشی اور نظاروں کیلئے وہاں کا رخ کرتے ہیں واپسی میں وہاں اپنی ایسی نشانیاں چھوڑ آتے ہیں جن کی صفائی اور کچرا اٹھانے کیلئے سرکاری طور پر کوئی معقول بندوبست نہیں۔ پچیس لاکھ افراد کے پھینکے گئے کچرے اور دیگر سامان کو اٹھانے کیلئے حکومتی وسائل کی کمی اپنی جگہ کیا یہ ہر سیاح کی ذمہ داری نہیںکہ وہ جس فطرت سے پیار کرنے وہاں تک گیا ہے اس کے تحفظ میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔ اس ضمن میں اولاً شعور اجا گر کرنے اور سیاحوں کو راغب کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر تعزیر سے کام لیا جائے ۔ سیاحوں کے زیر استعمال اکثر چیزیں پلاسٹک سے بنی ہوتی ہیں خیبر پختونخوا کی حکومت نے چھ ماہ قبل صوبے میں پلاسٹک کے تھیلوں میں چیزوں کی فروخت اور پلاسٹک کے تھیلوں کی تیاری کی ممانعت کر دی تھی اور پلاسٹک کی تھیلیاں بنانے والے کارخانوں کو بند کر کے اس کی جگہ قابل تحلیل مواد سے متبادل بندوبست کا وعدہ کیا تھا ۔ مگر چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا کوئی پیشرفت دکھائی نہیں دیتی ۔پلاسٹک کی تھیلیاں بن کر بازاروں میں سپلائی ہورہی ہیں اور جب بھی تیز ہوا چلتی ہے دھول میں اڑ اڑ کر حکومتی اقدامات کو دھول میںاڑارہی ہوتی ہیں۔ محکمہ ماحولیات صوبے میں نام کی حد تک کا محکمہ ہے ۔ ایسے میں اگر پر فضا مقامات کچرے کے ڈھیر بن رہے ہیں تو حیرت کی بات نہیں ۔ صوبائی حکومت اگر فطرت کے قریب مقامات پر ہی پلاسٹک سے بنی ایسی ایشیاء جو ایک مرتبہ استعمال کے بعد پھینک دی جاتی ہوں لیجانے پر سختی سے پابندی لگا کر اس پر عملدر آمد کرے تو سیاحتی مقامات پر ٹنوں کچرا جمع نہ ہو۔ رضا کاروں کی ٹیم کی جھیل سیف الملوک اور گلیات کی صفائی پر توجہ خوش آئند ہے۔ اس ضمن میں مقامی افراد کو بھی شامل کرنے پر توجہ دی جائے جبکہ علاقے کے تعلیمی اداروں کے سربراہان اپنے طالب علموں کو وقتاً فوقتا اس رضا کارانہ خدمت کی طرف راغب کریں اور روایتی معاشرے میں کوڑے دانوں کی تنصیب اور ان کے استعمال کی تجویز ہی عبث ہوگی۔ لیکن بہر حال ایسی سہولیات ہونی چاہئیں کہ سیاح وہاں پر فالتو اشیاء کو ٹھکانے لگائیں ۔
درختوں کی کٹائی کے معاملے کو دبانے کی کوشش
گلبہار میں درختو ں کی بے دریغ کٹائی کی شکایت کرنے والے افراد کے معلوم اور نامعلوم ہونے سے فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اس عاجلانہ نکتے سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ درختوں کی بلاجواز کٹائی اظہر من الشمس ہے جس کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کو قانون کے مطابق سزادینے کی ضرورت ہے مگر لگتا یہی ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت ذمہ دارافراد کو بچانے کی سعی کے طور پر متضاد رپورٹیں مرتب کر لی گئی ہیں۔ ہمارے تئیں اس واقعے میں قریب حقیقت امر یہی ہو سکتا ہے کہ عوامی نمائندے اور سرکاری عملہ دونوں ہی برابر کے شریک جرم ہیں یاپھر سرکاری عملے کو دبائو میں لایا گیا ہوگا۔ اگر سرکاری عملے کا اپنے تئیں اس طرح کے واقعے میں ملوث ہونے کا امکان کم ہی ہے اگر ایسا ہے تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ علاقہ ایم پی اے اور ناظم نے اس کا بروقت نوٹس کیو ں نہ لیا اور علاقے کے عوام کو احتجاج پر مجبور کیوں ہونا پڑا۔ معاملے کے میڈیا میں آنے کے بعد ہی اس پر نمائشی توجہ کیوں دی گئی ۔ ہمارے تئیں جانبداری پر مبنی کمزور تحقیقات سے نتائج کی توقع عبث ہوگی اور یہ ضابطے کی کارروائی مکمل کر کے معاملے کے ٹھنڈا ہونے پر داخل دفتر کر کے قصہ پارینہ بنادینے کی روایت کا اعادہ ہوگا ۔ بلین ٹری سونامی کی دعویدارحکومت کے دور میں اگر ایستادہ درختوں کی شہر کے وسط میں ایسی تباہی پر بھی صرف نظر اختیار کی جائے اور دوسری جانب صوبے کو اشجار سے بھر دینے اور پشاور کو پھولوں کا شہر بنانے کا دعویٰ کیا جائے تو یہ المیہ ہی ٹھہرے گا ۔ معاملے کی حساسیت کی بناء پر اس واقع کی از سر نو اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر تحقیقات کرائی جائے جس میں عمائدین علاقہ کو بھی شامل کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو ۔

متعلقہ خبریں