پاکستان کے ناکردہ گناہ

پاکستان کے ناکردہ گناہ

غیر تو گزشتہ ستر برسوں سے پاکستان کے قیام اور وجود پر نشتر زنی کر تے رہے ہیں اور اس کے قیام سے پہلے سب نے مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگا یا کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بھارت ماتا کے دو ٹکڑے نہ ہوں ۔۔۔لیکن قیام پاکستان مشیت ایزدی تھا ، لہٰذا کوئی اسے نہ روک سکا ۔ لیکن قیام کے پہلے دن سے لیکر آج تک اس پر الزامات اور غلطیوں کے ارتکاب کے ایسے تیر چلائے گئے جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔1971ء کے عشرے میں پاکستان جن مشکلات میں گھرا ہوا تھا ، اور افغانستان کی سرزمین پر بھارت کی حمایت سے قوم پر ستوں کا جو جمگھٹا بنا ہو ا تھا ، وہ پاکستان کی سا لمیت کے لئے بہت بڑا خطرہ تھا ، لیکن ذوالفقار علی بھٹو شہید نے جس انداز میں پاکستان کو اس مشکل سے نکالا اور ملک کو ایک نئی راہ پر ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ۔ وہ اسلامی سربراہی سمٹ اور ایٹمی توانائی کے حصول کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا ۔ بھٹو کے ان عزائم نے پاکستان کے دشمنوں کو دبائومیں لا کر اُن کی جان کے درپے کر ایا اور آخر کار اُن کو ٹھکانے لگایا گیا ۔ لیکن پاکستان کی سخت جانی ملا حظہ کیجئے کہ اتنے بڑے دھچکے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے اسے یوں سنبھالا دیا کہ پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا اور افغانستان پر روسی حملے کے بعد افغان قوم کا پشتی بان بن کر ایک سپر پاور کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب رہا ۔ میرے نزدیک پاکستان کی تاریخ میں قیام پاکستان کے بعد یہ بہت بڑا واقعہ ہے اگر چہ بعض لوگ اب بھی روس افغان جنگ میں پاکستان کی مداخلت ،مزاحمت اورپشیتبانی کو ''دخل در معقولات ''سمجھتے ہیں اور آج تک اسے پاکستان کے ناکردہ گناہوں میںشمار کرتے ہیں اور اسے امریکہ کی جنگ میں پاکستان کو کرائے کا سپاہی کہنے سے گریز نہیں کرتے اور آج پاکستان میں دہشت گردی اور اس کے نقصانات کو اُس جنگ کا شا خسانہ سمجھتے ہیں لیکن یہ اُن کی رائے سے ظاہر ہے اس سے ہمارا اختلاف ہے اور ٹھوس بنیادوں پر ہے ۔ لیکن بہر حال پاکستان کا یہی وہ کردار ہے جس کی بنا پر یہ بعض لوگوں ، اقوام اور ملکوں کی آنکھوں میں کانٹوں کی طرح کھٹکتا ہے سب سے پہلے امریکہ کو لیں ۔ گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان نے ہمیشہ امریکہ کی تابعداری کی اور ہر معاملے پر یس سر کہا یہاں تک کہ 9/11کے بعد امریکہ کے دشمنوں کو ، اپنا دشمن اور دوستوں کو دوست سمجھ لیا ۔ اور اس کے بد لے میں امریکہ نے ''جذبات '' میں آکر ہمیں نان نیٹو اتحادی کا درجہ عنایت فرمایا ۔ لیکن اس کے باوجود جب کبھی اور کہیں پاکستان کے چھوٹے موٹے مفاد کا موقع آیا اور ہم نے امریکہ کو گاڈ فادر کا درجہ دیتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو اُس نے آنکھیں ایسے پھیر لیں کہ گویا ہم تو جانتے نہیں ، پہچانتے ہیں ۔اور مدد تو گئی بھاڑ میں ۔ ہنری کسنجر کے یہ الفاظ تاریخ میں رقم ہیں کہ '' ہم بھی چاہتے تھے کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن جائے '' ۔ ہمیں افغانستان کی خانہ جنگی میں تنہا چھوڑ کر امریکہ آرام سے تما شا دیکھنے واپس چلا گیا ۔ لیکن جب طالبان کی حکومت اور اُسامہ کو ختم کرنے کے لئے دوبارہ ضرورت پڑی تو پاکستان گزشتہ بے وفائیوں کو بھول کر نئی امیدوں کے ساتھ دوبارہ دوستی کی راہ پر گامزن ہوا اور اس دفعہ پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں کے ذریعے ہماری خود مختاری کو بھی پائمال کیا ۔ لیکن امریکہ ہے کہ پاکستان سے کبھی اتنا ناراض نہ ہوا جتنا بھارت سے دل و جان سے ملا ہوا ہے حالانکہ بھارت نے پاکستان کے مقابلے میں امریکہ کے لئے وہ کردار ادا ہی نہیں کیا ہے جو پاکستان ستر برس سے کرتا رہا ہے ۔ اور اب ایک بار پھر واشنگٹن اور پنٹا گان میں پاکستان کے بارے میں پالیسی سخت کرنے اور ڈرون حملوں کو تیز کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ۔ ظاہر ہے ان حالات کا پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر ناخوشگوار اثر پڑے گا ۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان نے گویا جنم جنم کا بُرا کیا ہے ۔

اس لئے اُسے دنیا جہاں کی خرابیاں پاکستان میں نظر آرہی ہیں ۔ حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ ایک برادر ہمسایہ ملک کی حیثیت سے افغانستان کے ساتھ ہرلحاظ سے بھلائی کی ہے ۔لیکن اس کے باوجود اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان اختلافات اور افغانستان میں دیگر کئی ملکوں یعنی امریکہ ، بھارت ، ایران ، روس اور چین کے مفادات کے پیش نظر جو فساد ، برپا ہے ، افغانستان اس کا الزام پاکستان پر لگانے سے گریز نہیں کر تا کیونکہ یہ ایک آسان کام ہے اور اشرف غنی سمجھتا ہے کہ اس طرح کرنے سے اُس کی ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں ۔ ایران اپنے آپ کو اچھا بھلا معقول سمجھتا ہے اور دنیا بھر اور مشرق وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیاء کے معاملات میں اپنے آپ کو ایک اہم کردار کے طور پر پیش کرتا ہے ، لیکن پاکستان کے حوالے سے بہت حساسیت کا شکار ہو جاتا ہے اور معمولی باتوں پر پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی سے باز نہیں رہتا ۔ یہاں تک کہ پچھلے دنوں جاسوس ڈرون بھیج دیا۔ اُدھر سعودی عرب ، ایران کے خوف سے اپنے ہی بھائی بندوں کے خلاف وہ قدم اٹھا چکا ہے جو سپراور علاقائی قوتوں کو مشرق وسطیٰ میں کود نے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ یہاں بھی پاکستان کا ناکردہ گناہ یہ ہے کہ ایران اور قطر کے خلاف سعودی عرب کا غیر مشروط ساتھ دینے کا اعلان کیوں نہیں کرتا ۔ اس طرح ایران اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ پر بہت جزبز کا شکار ہے ۔ عالمی سطح پر امریکہ ، اسرائیل اوربھارت ، پاکستان کے اس لئے خلاف ہیں اور کسی بھی موقع پر پاکستان کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ بہترین فواج کا حامل ہے ۔ ایمان ، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے ماٹو کی حامل افواج پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں خارہیں ۔ ان ہی دو وجوہات کی بناء اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش لیکن ان ساری مکر وہات کے باوجود ان شاء اللہ پاکستان ان تکالیف سے نکلے گا اور آنے والے وقتوں میں وہ کردار ادا کرے گا جس کے لئے پاکستان قائم ہوا ہے۔اللہ عالم اسلام میں مزید طیب اردوان پیدا کرے ۔ آمین ۔

متعلقہ خبریں