بنیادی ضروریات بھی عوام کی دسترس سے باہر

بنیادی ضروریات بھی عوام کی دسترس سے باہر

ہمارے حکمرانوں کی عوامی مسائل میں عدم دلچسپی اور نا قص حکمرانی کی وجہ سے قان نام چیز دکھائی نہیں دیتی۔جسکی لاٹھی اُسکی بھینس والے فا رمولے پر اس بد نصیب معا شرے کا نظام چل رہا ہے گو کہ وطن عزیز میں جو قو انین بنائے گئے ہیںاس پر پہلے سے عمل نہیں ہو رہا مگر زندگی کے کچھ اہم شعبے اور اموربھی ہیں جن کے لئے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ ان شعبوں میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے، ڈاکٹر اور وکلاء حضرات شامل ہیں۔ کسی بھی ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے لوگوں کو روز گار، مُفت تعلیم، اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ملک میں سکول ، کالج اور ہسپتال تو ہیں مگر یہ وہ ریاستی ادارے ہیں جہاں پر اس ملک کے اہل ثروت لوگ اپنا علاج، بچوں کو تعلیم دینا اپنی شا یان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ میرے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ ہمیں حکومت کیا دے رہی ہے ، وطن عزیز کے غریب لوگ تعلیم، روز گار، خوراک ، اور صحت کی بنیادی سہولیات کا بندوبست اپنے لئے خود کر رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ سرکاری سکولوں اور کالجوں میں سالانہ دس روپے فیس لی جاتی تھی مگر اب حکومتی سکول ،کالجز اور یو نیو ر سٹیاں طالب علم کے غریب والدین کی چمڑی اُتاررہے ہیں۔ سا دہ الفاظ میں وہ شخص اپنا علاج ، تعلیم اور عدالت میں اپنے حق کی جنگ اور مقدمہ لڑ سکتا ہے جس کی جیب میں نوٹ ہیں ۔ گزشتہ دنوں ایک ماہر نفسیات کے پاس مریض کو معالجے کے لئے لے کر گیا ۔ماہر نفسیات کی فیس تین ہزار اور جو دوائی اُس نے مریض کو تجویز کی وہ 15 دنوں کی 5 ہزار روپے کی تھی ۔ اور مریض کو صوابی سے ڈا کٹر کے پاس لانے کا ٹیکسی کا کرایہ بھی 3000 ہزار روپے تھا۔ میں وثو ق سے کہتا ہوں کہ وطن عزیز کے 90فی صد لوگ اتنا خرچہ تو کجا، پیرا سیٹا مول کی گولی بھی نہیں خرید سکتے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک مریض کیساتھ ایک ہسپتال گیا ڈاکٹر نے بون میروٹرانسپلانٹ آپریشن کے 25 لاکھ روپے مانگے ۔ مریض نے کہا میں غریب ہوں ۔ ڈاکٹر کہنے لگے تمہیں کس نے کہا یہاں آئو یہاںتو غریب نہیں آتے۔ 10ویںروزے کو عصر کی نماز کے بعد میری کمر میں شدید درد شروع ہو گیا ۔ درد اتنا شدید تھا کہ جائے نماز سے اُٹھا نہیں جاتا ۔ڈا کٹر نے دوا تجو یز کی اُس سے وقتی افاقہ ہوا ۔ صُبح ایک ریٹا ئر ڈڈاکٹر میجر جنرل نیور و فزیشن کے پا س گیا ۔ یہ مو صوف جب ایم ایچ میں پریکٹس کر تے تھے تو یہ کسی کو کبھی ایکسرے، الٹرا سائونڈ، ایم آر آئی اور سٹی سکین تجویز نہیں کرتے بلکہ جو مریض سی ٹی سکین یا ایم آر آئی ہمراہ لاتے وہ اسکو ایک طرف پر رکھتے اور کہتے اسکی ضرورت نہیں۔ اُس وقت ان کی 400 روپے فیس ہوا کرتی ۔ مگر اب ریٹائر منٹ کے بعدانہوں نے فیس بھی 15سو روپے کر دی اور ہر مر یض کو سی ٹی سکین اور ایم آر آئی بھی تجویز کر تے ہیں اور ساتھ تاکید بھی کرتے ہیں کہ ساتھ والی لیبا رٹری سے کر نا۔خواہ اُسکی ضرورت ہو یا نہ ہو ۔ میں صُبح 10 بجے گیا اور میری باری شام کو 6 بجے آئی مُجھ سے پہلے وہ تقریباً 150مریض چیک کر چکے تھے۔ ڈا کٹر صا حب نے اپنا میڈیکل سٹور بھی کھولا ہے اور یہ مریضوں کو ایسی دوائی لکھواتے ہے جو ان کے سٹو ر کے علاوہ کسی اور سٹور سے ملتی نہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق کسی بھی میڈیکل سٹورسے کسی بھی دوائی پر 30 سے لیکر 45 فی صد تک کمیشن ملتی ہے۔ اب اندازہ لگائیں کہ ڈا کٹر اپنی فیس، دوائیوں میں 30 سے 35 فی صد تک کمیشن اور ایم آر آئی والی لیبا رٹری سب ملا کر انکی روزانہ آمدن 3اور ساڑھے تین لاکھ روپے کے قریب ہو گی۔ اسی طر ح وطن عزیز میں مختلف سکول مختلف فیسیں لے رہے ہیں ۔ نر سری سے لیکر میٹرک تک ایک بچے کی اوسط ماہانہ فیس دو سے تین ہزار اور بعض سکولوں کی فیس 4 اور 5 ہزار اور بعض کی 10 سے 20 ہزار روپے ہے۔زیادہ تر سکولوں میں اسا تذہ کرام کی بنیادی تعلیم اور تجربہ بھی نہیں ہوتا مگر اسکے با وجود بھی بھاری بھر کم فیسیں لیتے ہیں۔ 95فی صد پرائیویٹ سکولوں میں نہ تو سائنس لیبا رٹری ہے اور نہ کھیلنے کی جگہ مگر اسکے با وجود بھی غریب لوگوں کی کھال اُتاررہے ہیں۔سر کا ری سکولوں کا تو یہ حال ہے کہ وہاں کے اساتذہ کرام کے اپنے بچے اُن سکولوں میں نہیں پڑھتے بلکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑ ھتے ہیں۔ صحت اور تعلیم جو ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہئے تھی یہ اب مالدار اور صا حب ثروت لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی ہے اور یہ اب مشن نہیں بلکہ کمائی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔یہی حال ہمارے وکلا ء حضرات کا بھی ہے یہ لو گ بھی ایک معمولی کیس کے لاکھ اور ڈیڑھ لاکھ روپے لیتے ہیں ۔ اور زیادہ تر لوگ اسی وجہ سے عدالت نہیں جاتے اور مقدمے نہیں لڑتے کیو نکہ غریب کہاں سے وکیل کو لاکھ ڈیڑھ لاکھ دے گا۔ میری حکومت سے گزارش ہے کہ وہ وطن عزیز میں ڈاکٹروں ، وکیلوں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے قانون سازی کریں تاکہ وہ ایک خا ص طے شدہ فا ر مو لا کے تحت وطن عزیز کے تمام شہروں اور قصبوں میں ایک جیسی فیس لیں۔پرا ئیویٹ میڈیکل اور تعلیمی اداروں کو قانون سازی کے ذریعے پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے میڈیکل ہسپتالوں ، سکول اور کالجز میں ایک معیاررکھیں۔ اس سلسلے میں تعلیمی اور طبی ما ہرین کی ایک کمیٹی بنانی چاہئے تاکہ وہ تعلیمی اداروں ، اسکے اسا تذہ کرام اور نجی طبی اداروں اور انکے ڈا کٹر حضرات کے لئے قانون سازی میں معاونت کریں۔ اور تعلیمی اور طبی اداروں کے لئے فیسوں کا ایک ایسا نظام اور طریقہ کار مقرر کریں جو وطن عزیز کا غریب سے غریب یا کم ازکم ایک درمیانہ طبقے کا پاکستانی بر داشت کر سکے۔ 

متعلقہ خبریں