حریص گھوڑوں کے درمیان ایک دن

حریص گھوڑوں کے درمیان ایک دن

ہمیں یاد پڑتا ہے گھوڑوں کے درمیان ایک شام اردو افسانوں کے کسی مجموعے کا نام ہے ، مصنف کا نام فی الوقت ذہن سے اُتر گیا ہے ۔ اس مصنف نے تو گھوڑوں کے درمیان ایک شام کا ذکر کیا تھا ہماری زندگی تو مستقلاً حریص اور خونخوار قسم کے گھوڑوں کے درمیان بسر ہو رہی ہے۔ اپنے حوصلے کی داد چاہیںگے کہ ہم پھر بھی اُنہیں برداشت کر رہے ہیں۔ جی میں آیا کہ جب اللہ نے اپنے تجربات بہ نوک قلم بیان کرنے کی صلاحیت دے رکھی ہے تو کیوں نہ حریص گھوڑوں کے درمیان صرف ایک دن کی روداد پیش کر دی جائے ۔گھوڑا بڑا شریف جانور ہے ، مالک کا وفادار ، پرانے زمانے میں تو اونٹ اور ہاتھیوں کے علاوہ صرف ایک گھوڑا ہی حمل و نقل کا ذریعہ تھا بادشاہوں کے رتھ گھوڑے کھینچتے، سواری کے لئے استعمال کئے جاتے ۔ آریا گھوڑوں پر ہی بیٹھ کروسط ایشیا سے روانہ ہوئے اور تمام ہندوستان میں پھیل گئے ، سکندر اعظم یو نان سے اور بابرفرغانہ سے ہی اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ گھوڑوں پر ہی سوارہو کر بر صغیر میں داخل ہوئے۔ محمود غزنوی کے سومنات پر سترہ حملوں میں بھی گھوڑوں کا بڑا کردار رہا ہے ۔ بتا نا یہ مقصود تھا کہ گھوڑوں کا ہماری تاریخ بنانے میں بڑا ہاتھ رہا ہے۔ آج کل بادشاہ بھی اپنی تمکنت اور شان وشوکت کے اظہار کے لئے گھوڑوں کا ہی سہارا لیتے ہیں ۔ آپ نے ملکہ برطانیہ کو بگھی میں سوار دیکھا ہوگا۔ ہمارے صدر اور وزیر اعظم بھی بعض تقریبات میں گھوڑوں کے جلو میں جاتے نظر آتے ہیں۔ ان مثالوں سے آپ گھوڑوں کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ ہم مگر آج جن گھوڑوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ انسانوں کے روپ میں گھوڑے ہیں۔ منافقت دروغ بافی ، فریب کاری اور لالچ کے ایسے جیتے جاگتے نمونے ، جن کا اصل گھوڑوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یو ں سمجھئے یہاں گھوڑا ، ایک علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ گھوڑوں کے درمیان دن کا آغاز کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ ہم جب دودھ لینے کے لئے گھر سے نکلے وضاحت کردیں کہ ہم قدرے گوارا دودھ لینے روزانہ 5کلو میٹر کا فاصلہ گاڑی میں طے کر تے ہیں ۔ گوارا دودھ ہم نے ان معنوں میں کہاکہ گوالا اُس میں پانی ملاتے وقت ہاتھ ذرا ہو لا رکھتا ہے۔ یوں سمجھئے اس محلول میں دودھ کا ذائقہ کچھ نمایاں ہوتا ہے ، خاموش سڑک اور پر سکون لوگوں کو رواں دیکھ کر اچانک ہمارے دل میں خیال آیا کہ کچھ روز سے خود کشیوں غیرت کے نام پر قتل ، سیکورٹی عملے کی گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعات کے علاوہ مساجد میں بھی کچھ زیادہ تو تو میں میں اور سر پھٹول کے واقعات سننے اور دیکھنے میں نہیں آئے ۔ یاد رہے یہ ماہ رمضان کے آخری عشرے کے ایک دن کا ذکر ہے ۔یہی سوال ہم نے احمد سے پوچھا ، جی ہاں وہ بولا ،گرمیوں کے روزوں نے عوام الناس کو نڈھال کر رکھا ہے ۔ واپسی پر ہم شہر کی ایک مشہور و معروف بیکری سے اپنے لئے برائون ڈبل روٹی خریدنے رکے ، بیکری والا شریف آدمی ہے یادداشت اُسکی بڑی کمزور ہے۔ ہمارے پانچ روپے واپس کرنا ہمیشہ بھول جاتا ہے یاپھر ارادتاً خاموش ہو جاتا ہے ، حسب معمول جب آج بھی انہوں نے یہی حرکت فرمائی تو ہم نے قدرے سختی سے پانچ روپے بقایا کا مطالبہ کر دیا ۔ با دل نا خواستہ رقم تو واپس کردی ساتھ ہی مگر یہ بھی ارشاد فرمایا ، پینزہ روپئے خودمرہ پیسے نہ دی ،آگے ایک بڑے سٹور سے 20لیٹر پانی کی بوتل خریدنے رکے ۔ احمد کو یاد دلایا کہ پچھلی دفعہ حضرت نے پانچ روپے یہ کہتے ہوئے کم روک لئے تھے کہ اگلی بار ،کم دے دینا ، ریز گاری نہیں ہے ۔ واپسی پر احمد نے بتایا کائونٹر پر بیٹھا آدمی کہتا ہے وہ میں نہیں دوسرا سیلز مین تھا ۔ اُس سے کسی روز وصول کر لینا ، ہم گاڑی سے اُتر کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دست بستہ عرض کیا وہ آپ نہ سہی ، کائو نٹر اور دکان تو وہی ہے ہمیں پانچ روپے کی خطیر رقم کی وصولی کے لئے آپ کو پھر یا د دہانی کرنا پڑے گی ، شرمندہ ہو کر پانچ کا سکہ کائونٹر پر رکھ دیا ، آگے آکر سڑک کے کنارے کھڑی ایک ریڑھی دے آم خریدنے رکے ۔ بھائو پر کچھ گفت و شنید کی وہ چن چن کر داغدار اور چپکے ہوئے آم تولنے کی کوشش کر رہے تھے ، ایک دو آموں کے داغوں پر تو اس فنکار نے سٹکرچپکا رکھے تھے ہم نے داغدار آم ترازو سے ہٹانے کے لئے ہاتھ بڑھا یا تو ارشاد فرمایا ۔ ایمان پر بھی تو کبھی کبھار چھوٹا موٹا داغ پڑ جاتا ہے گزارکریں اس کی زیادہ پرواہ نہ کیجئے ۔ اس عجیب وغریب منطق پر شدید غصہ آیا ہمارے ایمان پر تو بفضل خدا کوئی داغ نہیں آپ کے بارے میں کچھ عرض نہیں کر سکتے۔ پھل فروش ہماری اونچی آواز اور جذباتی لہجے سے گھبرا گیا کہا زہ زہ مشرہ بحث کی ضرورت نہیں ۔ ہم نے مشکوک ایمان کے آم خریدنے سے انکار کر دیا ۔ واپسی پر ہم سوچ رہے تھے ، ہم اگر منافقت سے کام نہ لیں کروڑوں روپے کاروبار میں گاہگ کے ارادتاً پانچ روپے دبانے کی کوشش نہ کریں ۔ ایمان کو داغدار آم نہ سمجھیں تو زندگی بڑی حد تک پر سکون آرام دہ اور ٹینشن فری ہو سکتی ہے کیا یہ سب کچھ ممکن ہے ۔ گھوڑوں سے ہم ایک بار معذرت چاہتے ہیں یقین جانیئے یہ ہم اُن کا ذکر نہیں کر رہے ہماری مراد انسانوںکے روپ میں لالچی اور منافق گھوڑوں سے ہے یہ تو صرف ایک دن کی روداد تھی ہم تو زندگی منافق اور خونخوار گھوڑوں کے درمیان بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں