غلطی کا پتلا

غلطی کا پتلا

ہم بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں ؟آپ کی گئی غلطیاں لوگوں کو یاد رہتی ہیں اور ضرورت پڑے تو نہ صرف آپ کو یاد کروائی جاتی ہیں بلکہ ان کے حوالے بھی دیے جاتے ہیں اگر گول کیپر ایک سو ایک گول ناکام بنادے تو یہ کارنامہ کسی کو یاد نہیں رہتا لیکن جس گول کو بچانے میں گول کیپر ناکام ہوجاتا ہے وہ ساری زندگی لوگوں کو یاد رہتا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرکے ایک قسم کی طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود یہ مسئلہ اتنا آسان نہیں ہے بہت سی غلطیوں کی نشاندہی اس لیے بھی کی جاتی ہے کہ نشان دہی کرنے والا غلطی کرنے والے کا بھلا چاہتا ہے اس سے محبت کرتا ہے اس کی شخصیت کی خامیوں کو دور کرنا چاہتا ہے نفسیاتی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نصیحت سے زیادہ عملی مثالیں فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں اگر ایک باپ اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ اپنے بچوں کے لیے ایک بہترین رول ماڈل ثابت ہوتا ہے۔ اس کی اولاد اپنے باپ کے نقش قدم پر چلنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ اسی طرح ایک استاد اپنے اخلاق و عمل سے اپنے شاگردوں کو متاثر کرسکتا ہے ایک بددیانت استاد اپنے شاگردوں پر کبھی بھی اچھا تاثر نہیں چھوڑسکتا سچ بولنے والے استاد کے شاگرد ہی سچ بولنا سیکھتے ہیں انہیں سچ کی قدروقیمت کا احساس ہوتا ہے دودھ میں پانی ملانے والا باپ اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کیسے کرسکتا ہے کہ دودھ میں پانی ملانا بہت بڑا جرم ہے۔ زبانی کلامی نصیحت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اس ساری کہانی کا ایک نفسیاتی پہلو یہ بھی ہے کہ نصیحت کرنے والا احساس برتری کا شکار ہوتا ہے اسے دوسروں کو سمجھاتے ہوئے اپنی برتری کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دانا اور جسے نصیحت کررہا ہوتا ہے اسے نادان سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی باور کروانا چاہتا ہے کہ وہ جسے نصیحت کر رہا ہے کوئی اچھی بات سکھا رہا ہے۔ وہ اس کا ہمدرد ہے اس کی بھلائی چاہتا ہے وہ دراصل دوسروں کی اصلاح سے زیادہ اپنی نیکی کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہوتا ہے ایک بات تو واضح ہے کہ ہرشخص غلطیاں کرتا ہے اسی لیے انسان کو غلطی کا پتلا کہا گیا ہے۔ بعض ستم ظریف تو انسان کو غلطی کا پتیلا بھی کہتے ہیں۔جب انسان اور غلطی کا ساتھ ابدی ہے دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے تو پھر بہتری اسی میں ہے کہ اپنی غلطیوں کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ گزشتہ را صلواة آئندہ راہ احتیاط والے اصول کو اپنایا جائے تو بہتر ہے۔ پچھلے دروازے بند کرکے آگے بڑھتے چلے جائیے۔ یہ غلطیاں ہی ہوتی ہیں جو ہمیں تجربہ کار بناتی ہیں مزے کی بات تو یہ ہے کہ جس کا جتنا زیادہ تجربہ ہوتا ہے اس کی اتنی ہی زیادہ غلطیاں ہوتی ہیںتجربہ کاراور بیوقوف شخص میں بس یہی فرق ہوتا ہے کہ ایک اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور دوسرا اپنی غلطیاں بار بار دہراتا چلا جاتا ہے۔

دوسروں کی غلطیوں کو طشت ازبام کرنے میں نیت کا عمل دخل بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک سائنسدان ہیں اور کسی لیبارٹری میں دوسرے سائنسدان ساتھیوں کے ساتھ مل کر نت نئے تجربات کر رہے ہیں اور اس دوران آپ سے یا آپ کے کسی ساتھی سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے اور کوئی ساتھی اس کی نشاندہی کرتا ہے تو اس کا ارادہ نیک ہوتا ہے وہ سب اپنے تجربے کی کامیابی کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اسی حوالے سے دوسری بڑی مثال سیاستدانوں کے حوالے سے دی جاسکتی ہے جب سیاستدان دوسرے سیاستدان کی کی گئی غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے وہ اسے عوام کی نظروں میں گرانا چاہتا ہے۔ ہم سیاست میں پچھلی کئی دہائیوں سے یہی دیکھ رہے ہیں کہ اپنی تعریفیں کی جاتی ہیں اور دوسروں کی خامیوں کو آشکارا کیا جاتا ہے یہی وہ تنقید برائے تنقید ہے جس نے سیاست کو ایک ایسے کھیل میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے جس میں سب کی پگڑیا ں اچھالی جاتی ہیںکچھ غلطیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو جان بوجھ کر کی جاتی ہیں۔ اس قسم کی غلطیاں ہمیں سرکاری دفاتر میں بہت زیادہ دیکھنے کو ملتی ہیں اس قسم کی غلطیاں کرنے والے کام چور کہلاتے ہیں۔ غلطی کی ایک اور قسم بھی ہے جو یقینا انتہائی خطرناک ہے یہ وہ غلطی ہے جسے کرنے والا اس سے بے خبر ہوتا ہے وہ اپنی غلطی کو غلطی نہیں سمجھتا آپ اسے ذہنی اندھا پن بھی کہہ سکتے ہیں۔ غلطی کی اصلاح اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اسے تسلیم کیا جائے لیکن جب صورت یہ ہو کہ اپنی غلطی کو غلطی ہی نہ سمجھا جائے تو صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیتی ہے۔ اس قسم کا رویہ ہمیں سیاستدانوں میں بہت زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان بیچاروں پر مخالف سیاستدان اتنی زیادہ تنقید کرتے ہیں کہ وہ ان کی مخالفت میں اپنی غلطیوں پر جم جاتے ہیں اور ہٹ دھرمی کی تمام حدود پار کرجاتے ہیں لیکن اپنے طور طریقے نہیں بدلتے۔ اپنی غلطیوں کی اصلاح پر مائل نہیں ہوتے !یہ ہم سب کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کیونکہ سیاستدان ہمارے معاشرے کا سب سے اہم طبقہ ہے ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا صاحب کردار ہونا بہت ضروری ہے اگر ان کی پہلی ترجیح وطن کی محبت ہو تعمیر و ترقی ہو تو یہ قوم کی بہت بڑی خوش قسمتی ہوتی ہے لیکن اگر یہ اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل میں سرگرم عمل ہوجائیں تو اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے؟۔

متعلقہ خبریں