بل گیٹس بمقابلہ مچھر

بل گیٹس بمقابلہ مچھر

لمحہ موجود میں دنیا تباہی کے دہانے پرکھڑی دکھائی دیتی ہے ۔امریکہ کی اسلحہ سا زانڈسٹری کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ جس کو چلانے کے لیے چوتھائی دنیا کاا آپس میں لڑنا لازمی ہے ۔ جب دنیا میں امن کی بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب امریکی اسلحہ ساز مزدوروں کے گھروں میں فاقے لیا جاسکتا ہے ۔دنیا کی براعظمی تقسیم میں دیکھا جائے تو ایشیا اور افریقہ ہی دو ایسے براعظم ہیں کہ جنہیںجنگ کی آغوش میں دیا جاسکتا ہے۔کارپوریٹ کلچر کے لیے امن سے زیادہ جنگ سود مند رہتی ہے ۔افغانستان کو پہلے اجاڑنے کی فنڈنگ ہوئی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے اسے تخریب سے آشنا کیا گیا اور پھر انسانی ہمدردی کے تحت اسے دوبارہ بسانے کے لیے نئی فنڈنگ ہوئی اور ملٹی نیشنل کمپنیاں پھر میدان میں آئیں اور افغانستان کو بسایا جارہا ہے ۔جنگ کرنا ہم پسماندوں کی شایدمجبوری ہوکہ امن کے ہم خوگر نہیں ۔لیکن ان کی بھی تو اپنی مجبوریا ں ہیں کہ جو جنگ کے امکانات ڈھونڈتے ہیں ۔ ٹرمپ سعودی عرب پر بھی اسلحہ بیچ آتا ہے اور قطر کو بھی اسلحہ کے سودے سے محرو م نہیں کرتا ۔پاکستا ن کو بھی اسلحہ دیتا ہے اور انڈیا سے بھی دفاعی معاہدے ہورہے ہیں ۔سو بیوپار چل رہا ہے سو چلتارہے گا ۔امریکی ریاست مشی گن کی فیکٹری میں تیار ہونے والی گولی سے پاکستان کا اسد ہلاک ہوتا ہے کہ افغانستان کا بریالے ۔بھارت کا وشنو یاشام کا علی یا عراق کا زبیر اس فیکٹری کے ملازم کو پتہ ہی نہیں کہ وہ تو موت کوتخلیق کررہا ہے ۔اس مقام پر کہ جہاں انسان نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے لیکن اس کی وحشیانہ عقلیت پر اب بھی سوال اٹھتا ہے کہ اس کے مرنے مارنے کی جبلت اب بھی پوری توانائی کے ساتھ دنیا پر اثرانداز ہے ۔ نفرت اور تعصب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ انڈیا اور امریکہ جیسی بڑی جمہوریتوں میں انتہاپسند سوچ کو الیکشن جتوایا جارہا ہے ۔گویا کسی بھی وقت یہ دنیا تیسری ہولناک جنگ میں پھنس سکتی ہے ۔ یہاں مائیکروسافٹ کے خالق اور مالک بل گیٹس نے اس ساری بحث سے ہٹ کر ایک اور جنگ کی طرف اشارہ کردیا ہے۔بل گیٹس جو اپنی بہت ز یادہ دولت کو اب دکھی انسانیت کے لیے چیرٹی کرنے پر آمادہ ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ مچھروں سے پھیلنے والی وبائیں عالمی جنگ سے زیادہ خطرناک ہیں ۔اس بات کا اظہار انہوں نے مچھروں سے پھیلنے والی وباؤں پر مبنی ایک ڈاکومنٹری میں کیا۔ 70سے زیادہ ممالک میں زیکا وائرس کے پھیلاؤ کے تدارک کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں ۔ یہ قاتل کیڑا انسان کو نت نئی بیماریوں سے آشنا کررہا ہے ۔اس کیڑے نے ماضی بعید میں بھی اللہ کے نافرمان نمرود کی خودساختہ خدائی کو نیست و نابود کردیا تھا اور انسانی تکبر و غرور کی ابتدائی صورتوں کو خاک میں ملادیا تھا ۔اب بھی یہ ننھا سا کیڑا انسان کی ترقی میں ڈوبے ہوئے غرور کو چیلنج کررہا ہے لیکن انسان ابھی تک اس پر قابو نہیں پاسکا ۔ملیریا، طاعون ،ڈینگی ،زیکاوغیرہ کتنی جان لیوا بیماریاں ہیں جو انسان کوتلف کردیتی ہیں اس کا باعث مچھر ہی ہے ۔دیکھا جائے تومچھر بنیادی طور پر انسان کی لاپرواہی سے جنم لیتا ہے ۔گندگی اس کا مولد ہے ۔اور گندگی کا باپ خود انسان ہے ۔گویا ہم انسان خود اس قاتل کیڑے کو جنم دینے میں مدددیتے ہیں ۔ اپنے اردگرد دیکھتا ہوں شدید دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاتھوںمیں ایپس سے بھر ا ہوا فون بھی آچکا ہے، ہمارے کمرے موسمی حوالوں سے گر م اور سرد بھی ہوچکے ہیں ،ہماری گاڑیاں لگژری ہوگئی ہیں ، ہمارے مکانات سہولیات سے مزین ہوچکے ہیں ،ہمارے سفر آسان اور آرام دہ ہوچکے ہیں،ہمارے روز و شب پہلے کی نسبت بہت خوشگوار ہوچکے ہیں ،لیکن افسوس کہ ہمارا منظرنامہ بڑا غلیظ ،مکروہ اور گندہ ہے ۔ہم ایک پرتعفن فضا میں سانس لے رہے ہیں ۔ہم جمہوریت کے ڈونگرے بجانے والے ،تبدیلی کا نعرہ لگانے والے ، ہم خود کو نئے دور کا انسان کہنے والے اب تک اپنے کوڑے کوٹھکانے لگانے سے قاصر ہیں۔اب بھی ہماری نالیاںہمارے گٹر ہیں جہاں بیماریاں ہمارے گھروں سے نکل کر پھر ہمارے گھر واپس آجاتی ہیں۔ہمارے پینے کے پانیوں کے پائپ پانی جیسی زندگی لے کر ہمارے گھروں میں آتے ہیں لیکن اسی پانی میں قاتل پانی بھی شامل ہوتا ہے اور ہم اس زہر بھرے پانی کو غٹاغٹ پی جاتے ہیں ۔ہمارے تعلیمی نظام میں حفظان صحت کا صفحہ خانہ پری ہی ہے ۔ یار جب سکولوں اور کالجوں میںمعیاری لیٹرین موجود نہ ہوں تو اس سماج کے تعلیمی معیار کو سلام ہی کیا جاسکتا ہے ۔ کمال یہ ہے سب سے زیادہ پیسہ ہمارے یہاں بنیادی تعلیم کے ڈونر کے ذریعے آتا ہے لیکن جاتا کہاں ہے یہ اللہ جانتا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ جو واقعی جانتے ہیں لیکن ہمیں سکولوں میں کچھ نہیں سکھا یا جاتا ۔سو مچھر کی حکمرانی ہے ، میاں صاحب، مودی صاحب ، اشرف غنی وغیرہ یہ سمجھتے ہی ہوں گے کہ ہم حکمران ہیں لیکن انہیں تو کوئی پانامہ فارغ کرسکتا ہے لیکن مچھر بادشاہ سے تو دنیا کا مالدارترین شخص بل گیٹس بھی نالاں ہے ۔لاکھوں کروڑوں ڈالر اس مچھر کے خلاف جنگ میں استعمال ہورہے ہیں ۔لیکن اس مچھر کو ختم کرنے میں شعور ہی کام کرسکتا ہے۔شعور پھیلانا حکومتوں کا کام ہے کہ وہ اسے تعلیمی ادارو ں سے پھیلاتے ہیں کہ میڈیاکے ذریعے ۔جس گندی فضا میں ہم زندہ ہیں اس میں سانس لے کر تو اللہ پر ایمان اور بھی پختہ ہوجاتا ہے کہ وہی بچانے والا ہے ورنہ تو حکومتوں اور ان کے اداروں نے ہمیں مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ۔

متعلقہ خبریں