مشرقیات

مشرقیات

حضرت عبدالرحمن بن عوف کا شمار مالدار ترین صحابہ کرام میں ہوتا تھا ۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ اپنے گھر میں تھیں کہ انہوںنے مدینہ میں ایک شور سنا ۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا تجارتی قافلہ ملک شام سے ضرورت کی ہر چیز لے کر آرہا ہے ۔ حضرت انس فرماتے ہیں : ( اس قافلہ میں ) 700اونٹ تھے اور سارا مدینہ اس شور کی آواز سے گونج اٹھا ۔ اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے حضور اکرمۖ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے جنت میں داخل ہورہے ہیں ۔ یہ بات حضرت عبدالرحمن بن عوف کو پہنچی تو انہوں نے کہا : میں پوری کوشش کروں گا کہ میں جنت میں (قدموں پر ) چل کر داخل ہوں اور یہ کہہ کر اپنا سارا قافلہ مع سارے سامان تجارت اور کجاوئوں کے خدا کے راستے میں صدقہ کر دیا ۔
امام زہری فرماتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضور اکرمۖ ۖکے زمانے میں اپنا آدھا مال 4ہزار درہم خدا کے راستہ میں صدقہ کئے ۔ پھر 40ہزار صدقہ کئے ، پھر 40ہزار دینار صدقہ کئے ۔ پھر 5سو گھوڑے خدا کے راستہ میں دیئے ۔پھر ڈیڑھ ہزار اونٹ خدا کے راستہ میں دیئے ۔ ان کا اکثر مال تجارت کے ذریعے کمایا ہوا تھا ۔
حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں ارویٰ نامی عورت نے حضرت سعید بن زید کے ظلم کی جھوٹی شکایت کرکے مروان سے مدد چاہی ۔
حضرت سعید نے یہ بد دعا کی اے اللہ ! یہ ارویٰ دعویٰ کررہی ہے کہ میں نے اس پر ظلم کیا ہے اگریہ جھوٹی ہے تو تو اسے اندھا کردے اور اسے اس کے کنویں میں گرادے اور میرے حق میں ایسی روشن دلیل ظاہر کر جس سے سارے مسلمانوں کو صاف نظر آجائے کہ میں نے اس پر ظلم نہیں کیا۔ اسی دوران وادی عقیق میں ایسا زبردست سیلاب آیا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا سیلاب نہیں آیا تھا۔ سیلاب کی وجہ سے وہ حد صاف واضح ہوگئی جس میں حضرت سعید اور ارویٰ اندھی کا اختلاف تھا اور اس میں حضرت سعید بالکل سچے ۔نکلے پھر ایک مہینہ نہیں گزرا تھا کہ ارویٰ اندھی ہوگئی اور ایک دفعہ وہ اپنی اسی زمین کا چکر لگا رہ تھی کہ اچانک اپنے کنویں میںگرگئی اور جب ہم چھوٹے بچے تھے تو سنا کرتے تھے کہ لوگ ایک دوسرے کو کہا کرتے تھے اللہ تجھے ایسے اندھا کرے جیسے ارویٰ کو اندھا کیا ہم یہی سمجھتے تھے کہ ارویٰ سے مراد جنگلی پہاڑی بکریاں ہیں (کیونکہ عربی زبان میں ارویٰ کا یہی ترجمہ ہے ) یہ تو بعد میں ہمیں اس قصہ کا پتہ چلا اور اس سے معلوم ہوا کہ ارویٰ سے مراد توایک عورت ہے جسے حضرت سعید بن زید کی بد دعا لگی تھی اور چونکہ اللہ نے ان کی بد دعا پوری کر دی تھی اس لئے لوگ یہ بات کہتے تھے ۔
(حیاة الصحابہ ، جلد سوم )

متعلقہ خبریں