الیکشن کمیشن اور عدلیاتی ہم آہنگی

الیکشن کمیشن اور عدلیاتی ہم آہنگی

کہنے کو توالیکشن کمیشن آف پاکستان ایک بااختیار اور خود مختار ادارہ کہلاتا ہے اور ملک کی سیاسی جماعتیں بھی اس امر کی داعی ہیں کہ وہ الیکشن کمیشن کو ایک مضبوط فعال اور خود مختارادارہ دیکھنا چاہتی ہیں مگر عملی طور پر ایسا نہیں الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور الیکشن کمیشن ہی وہ ادارہ ہے جو وہ انسانی سرمایہ فراہم کرتی ہے جس سے حکومت سازی ہوتی ہے ۔پارلیمنٹ کی تکمیل ہوتی ہے، اسمبلیاں بنتی ہیں، کابینہ بنتا ہے اور سربراہ حکومت کا چنائو ہوتا ہے۔ اس تناظر میں تو الیکشن کمیشن کو ایک خود مختار اور فعال ادارہ ہونا چاہیئے یا بنانے کی ضرورت ہے لیکن چونکہ انصاف کے تقاضے بھی پورے کرنے ہوتے ہیں اور حتمی تشریح و فیصلے کیلئے کوئی ادارہ ہونا چاہیئے اور اس طرح کا ادارہ کسی ملک میں ایک ہی ہونا چاہیئے بنا بریں الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ جتنی خود مختاری اور اختیار ات دینے کی وکالت ممکن نہیں سپریم کورٹ کے سامنے الیکشن کمیشن کی جوابدہی قانونی تقاضا بلکہ ضرورت ہے ایک ایسے نظام کی جس میں الیکشن کمیشن کے کسی فیصلے کے خلاف صرف ایک قدم آگے ہی کسی ادارے سے رجوع کیا جا سکے اس درمیان کسی آئینی وقانونی ادارے کا وجود مناسب نہیں ۔اس ضمن میں اگر فیڈرل سروس ٹریبونل کی مثال دی جائے تو بے جانہ ہوگا جس کے فیصلے کے خلاف صرف سپریم کورٹ سے ہی رجوع ہو سکتا ہے ۔اگر اس تغیر کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف بھی صرف عدالت عظمیٰ سے ہی رجوع کا طریقہ کار بنادیا جائے تو احسن ہوگا اور دوسری عدالتوں میں وقت کا جو ضیاع ہوتا ہے اس کی نوبت نہیں آئے گی نیز الیکشن کمیشن کے قد کا ٹھ اور وقار میں اضافہ بھی ہوگا ۔ ایسا ہونا اس لئے بھی فطری امر ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس یا جج کر رہا ہوتا ہے اور باقی ممبران عدالت عالیہ کے جج صاحبان رہ چکے ہوتے ہیں اب اس میں ٹیکنو کریٹس کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے لیکن من حیث المجمو ع اس کی ہیت ہائیکورٹ سے زیادہ اور سپریم کورٹ سے قدرے کم ایک آئینی ادارے کی سی ہے۔ ایسے میں اصولی طور پر تو ہونا یہ چاہیئے کہ اس کے فیصلوں کو سوائے عدالت عظمیٰ کے کسی اور فورم پر چیلنج نہیں کیا جانا چاہیئے مگر ایسا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف عدالت عالیہ اور اس کے ذیلی بنچوں سے رجوع ہوتا ہے اس کیلئے آئین کے آرٹیکل 199کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ہمارے ہاں یہ آرٹیکل 199کی درست تشریح نہیں اس آرٹیکل کے تحت جہاں رٹ کا اختیارہے وہاں اس اختیار کو اپیل کے طور پر نہیں استعمال کیا جا سکتا۔ رٹ کا فعال استعمال اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اسے اپیل کے طور پر نہ سناجائے کیونکہ عدالت عالیہ اس اختیارکو بطور ایپلٹ اتھارٹی استعمال نہیں کرسکتی۔ ہائیکورٹ کا اصل دائرہ اختیار جواپیل کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتااگرالیکشن کمیشن کے فیصلوں کو بھی رٹ کے طور پر چیلنج کیا جائے تو پھر الیکشن کمیشن اور دوسرے اداروں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔دوسرے اداروں کے خلاف بھی عدالت عالیہ رٹ کے دائرہ اختیار کو اپیل کے طور پر نہیں سن سکتی مگر الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف رٹ پٹیشن دائر ہوتی ہیں ۔ ہمارے تئیں اس میں دو قسم کی قباحتیں ہیں اولاً یہ کہ اس طرح سے الیکشن کمیشن آئینی عدلیہ کے ریٹائرڈ جسٹس صاحبان کے فیصلوں کو ایک ایسے فورم پر لے جایا جا تا ہے جو ایک خود مختار اور آئینی ادارہ ہے اور ایک ایسا ادارہ جو نہایت اہم قومی خد مت اور عمل کی نگرانی کر تی ہے جسے ہر حال میں مقتدر اور حتمی فورم ہونا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوادارہ پارلیمنٹ کے وجود، اسمبلیوں کے قیام اور حکومت سازی کے عمل کا نگران اور باعث ہے اس کے فیصلے پھر ایک ایسے فورم پر چیلنج ہوتے ہیں جو اصولی طور پر اس کا متوازی ادارہ بھی کہلانے کا حامل نہیں۔دوم یہ کہ سب سے بڑی خرابی کا باعث امر یہ ہے کہ جب اس سطح کی عدالت میں کوئی معاملہ جاتا ہے تو پھر ڈھیل ڈھال کے ہمارے طور طریقوں ،وکلاء کی کج بحثی اور خاص طور پر تاخیر در تاخیر کی پالیسیوں کے باعث کسی ممبر کی اہلیت و نا اہلیت کا فیصلہ سالوں ہو نہیں پاتا جبکہ وقت کسی کیلئے ٹھہرتا نہیں۔ یوں دن ، ہفتے ، مہینوں اور مہینے سالوں میں بدلتے رہتے ہیں مگر فیصلہ نہیں آتا بعض اوقات تو فیصلہ اس وقت تک بھی نہیں آتا جب پانچ کلینڈر تبدیل ہو کر نئے عام انتخابات کا وقت آجاتا ہے یا پھر دو ڈھائی سال آرام سے ہائیکورٹ کی راہداریوں میں گزرتے ہیں اور فیصلہ آنے پرسپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی نوبت آتی ہے وہاںپر بھی ایک عمل اور طریقہ کار اختیار کرنے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے۔ قانونی و آئینی معاملات کا جائزہ لینے کے بعد جب فیصلہ آتا ہے تو انصاف کے متلاشی کو انصاف ملنے میں بہت تاخیر ہو چکی ہوتی ہے فی الوقت عدالتوں میں ایسے مقدمات کی مثالیں دی جاسکتی ہیں جس میں سرکاری ملازمت چھوڑنے کے مقررہ مدت سے بہت قبل انتخابات لڑ کر ممبر اسمبلی اور مشیر و وزیر بننے والوں کو ابھی علیحدہ نہیں کیا جا سکا ہے اور نہ ہی مقدمے کا حتمی فیصلہ آچکا ہے اب لے دے کے جو سات ،آٹھ مہینے باقی رہ گئے ہیں کیا اب تاخیر درتا خیر کے بعد فیصلے کی کچھ افادیت رہ جاتی ہے اس کا فیصلہ ہم آپ پر اور متعلقین پر چھوڑتے ہیں ۔ کیا اس طرح سے ہم الیکشن کمیشن کو جانے انجانے ایک ’’بونا ادارہ‘‘ ثابت نہیں کرتے ؟کیا اس طرح اس کے مقام ومرتبے کا استخفاف نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ انصاف کے متلاشیوں کو بھی دو دو دہلیزوں پر جانا پڑتا ہے اگر ان کو ایک ہی دہلیز پر انصاف میسر آجائے تو دوسری دہلیز جانے کا وقت اور وسائل دونوں بچ جائیں اور اس طرح کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

متعلقہ خبریں