ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو .میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو .میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اندریں حالات اگر قرار دیا جائے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک ایسا خود مختار آئینی ادارہ قرار دیا جائے جس کے فیصلے اور اقدام کے خلاف کسی عدالت سے رجوع ہی نہیں ہونا چاہئے تو غلط نہ ہوگا تاکہ انصاف کے متلاشیوں کو بروقت انصاف مل سکے اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم ایک ہی ادارہ اور فورم ایسا ہونا چاہئے جہاں الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور اقدام کے خلاف شنوائی کیلئے رجوع کیا جاسکے۔ہمیں اس امر کا بجا طور پر احساس ہے کہ عدالت عالیہ کا اپنا ایک مقام ہے جس کا احترام ضروری ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ادارہ اپنے آئینی اختیارات کو آئینی طور پر استعمال کرے، انصاف ہو اور دکھائی بھی دے ۔ اگر ہمیں پارلیمنٹ میں اہلیت اور قانونی استحقاق نہ رکھنے والے عناصر کا داخلہ روکنا ہے یا کم سے کم وقت میں اس طرح کے عناصر پر اسمبلی کے دروازے بند کرنا ہے تو پھر قوانین میں ایسی تبدیلی لانے اور الیکشن کمیشن کو ایسا ادارہ بنانے کی ضرورت ہے جس میں نظام کے سقم اور انصاف میں تاخیر کی گنجائش نہ ہو۔ الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور اقدامات کے خلاف متوازی سطح کی عدالتوں سے حکم امتناعی نہ لیا جاسکے اس کے فیصلوں اور اقدامات کے خلاف صرف عدالت عظمی سے رجوع ہوسکے اور کسی ایسے ستوں کی گنجائش باقی نہ رہے جس کی اوٹ میں کوئی عوامی مینڈیٹ کا حق نہ رکھنے والا شخص شامل اقتدار ہوسکے۔ عوامی نمائندگی اور قانون سازی کے عمل میں کافی عرصہ نہ رہ سکے اور نہ ہی وہ ان مراعات و اختیارات کا استعمال کر سکے جو بعد میں سرے سے اس کا مستحق ہی نہیں ٹھہرتا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پارلیمنٹ ،سیاسی جماعتوں اور متعلقین کو ان خرابیوں کا احساس ہوگا اور وہ الیکشن کمیشن کو ایک اپاہج ادارہ بنا کر تنقید وتنقیح کرنے والوں کیلئے تختہ مشق بنا کر رکھے جانے کی بجائے اس کی اہمیت کا احساس کریں گے اور ایسے عملی اقدامات جلد سے جلد اٹھائے جائیں گے کہ الیکشن کمیشن ایک برائے نام آئینی ادارہ کہلانے کی بجائے حقیقی معنوں میں ایک بااحتیار اور مقتدر ادارہ بنا دیا جائیگا اس کے فیصلوں کی وقعت اور الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد میں خود کو پابجولاں پانے کی بجائے ایک مقتدر ادارہ سمجھ سکے جس کی بنیادی ذمہ داری بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہو جس کے نتیجے میں ملک میں منتقلی اقتدار کے عمل کی اطمینان بخش تکمیل ہو۔
ٹیکنوکریٹ حکومت۔ ایک شوشہ یا ۔۔۔۔؟
وطن عزیز میں ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کے حوالے سے چہ مگوئیوں میں کمی نہیں آرہی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی تفتیش کے دنوں سے ہی تین سال کی مدت کیلئے ٹیکنوکریٹس کے ذریعے ملکی معاملات کو آگے بڑھانے، آئین میں مبینہ طور پر ضروری ترامیم کرنے، کرپشن میں ملوث افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچا نے کے بعد نئے انتخابات کے انعقاد کی اطلاعات گردش کرتی رہی ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی کیسے، کیونکہ آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بعض سیاسی رہنماء بھی ان افواہوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا بر ملا اظہار کر رہے ہیں جن سے یہی اندازہ ہورہا ہے کہ کہیں نہ کہیں اس طرح کی کھچڑی شاید پک رہی ہے ۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو اس بات کو دہراتے رہتے ہیں سیاستدانوں کے یکے بعدیگرے بیانات سے ان افواہوں کو مزید تقویت مل رہی ہے، آفتاب شیرپاؤ نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کی حکومت کی تشکیل کی مخالفت کریں گے، آفتاب احمد خان شیرپائو کے ٹینکو کریٹ حکومت کے قیام کی مخالفت کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی یہ بات بالکل درست ہے کہ آئین سے ماورا کسی بھی قسم کے اقدام سے اداروں کے درمیان ٹکرائو کی صورتحال جنم لے گی ۔ اور اس قسم کی صورتحال موجودہ سیاسی حالات خصوصاً عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف جنم لینے والی ریشہ دوانیوں کے تناظر میں کسی بہتری کی جانب اشارہ نہیں کر رہی ہیں، اب جبکہ عام انتخابات میں بھی بہت کم عرصہ رہ گیا ہے تو کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے گریز کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور ٹیکنو کریٹ حکومت کا شوشہ ملکی حالات کو مشکل صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے جس کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی آئین ودستور میں اس کی کوئی گنجائش نکلتی ہے۔

متعلقہ خبریں