ہاتھ ظالم کے گریباں پر کسی کا بھی نہیں

ہاتھ ظالم کے گریباں پر کسی کا بھی نہیں

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کے مبینہ مرکزی ملزم حماد صدیقی کو پاکستان لانے کے حوالے سے انتظامات کر لئے گئے ہیں اور اسے دوبئی پولیس نے گرفتار کر کے جو ابتدائی تفتیش کی ہے اس کے دوران حماد صدیقی نے کئی انکشافات کئے ہیں جبکہ اس کی گرفتاری کے وقت اس کے دو سہولت کار وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن کو دوبئی پولیس گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حماد صدیقی کے بارے میں تھائی لینڈ سے گرفتار کئے جانے والے رحمن بھولا نے واردات میں مرکزی کردار ادا کرنے کا انکشاف کیا تھا اگرچہ بعد میں اس نے عدالت میں اپنے تمام انکشافات کو سیکورٹی اداروں کے دبائو کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ بہرحال اب دیکھتے ہیں کہ حماد صدیقی کو کب پاکستان کے حوالے کئے جانے کے بعد واپس کراچی منتقل کیا جاتا ہے اور یہاں وہ مزید کیا کیا انکشافات کر کے بعد میں مکرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ اس حوالے سے ایک اہم سوال بلکہ کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یعنی جب ہم کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، ڈکیتیوں، گاڑیاں چھیننے اور دہشت گردی کے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں جن کے بارے میں پکڑے جانے والے کئی افراد کے انکشافات میں کئے جانے والے اشارے کن بڑی شخصیات کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں، ان سے اب تک کوئی تعرض نہ رکھنے اور ان کے خلاف اقدامات کیوں نہیں کئے جارہے ہیں؟ راحت امذوری نے اسی لئے تو کہا تھا

اب کہاں ڈھونڈنے جائو گے ہمارے قاتل
آپ تو قتل کا الزام ہمیں پر رکھ دو
ذرا پیچھے مڑ کے دیکھیں تو صولت مرزا کے انکشافات نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر مسلسل قبضہ کر رکھا تھا۔ روز نئے انکشافات سے نت نئی کہانیاں سامنے آرہی تھیں، ماہرین قانون نے اس کے انکشافات کے حوالے سے قانونی موشگافیاں کر کے ان پر طرح طرح کے سوال اٹھا دیئے تھے جبکہ ایم کیو ایم کی صفوں سے اس وقت دھمکی آمیز بیان بازی بھی کی جاتی رہی، صولت مرزا کو بالآخر پھانسی کا پھندہ چھونا پڑا لیکن اعترافی بیان میں اس نے جن پر سنگین الزامات لگائے ان کے خلاف آج تک کوئی ایسا اقدام سامنے نہیں آسکا جو ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچا نے کا باعث بن سکے، اتنا ضرور ہوا کہ متحدہ کی صفوں میں دراڑیں پڑ گئیں لیکن اس کا کارن صولت مرزا کے انکشافات سے زیادہ خود الطاف حسین کے وہ بیانات تھے جن میں سیکورٹی حکام کو دھمکیاں دی گئی تھیں، ان بیانات کے نتیجے میںایم کیو ایم دو دھڑوں میں بٹ گئی تھی حالانکہ باخبر لوگ اسے جس طرح ڈرامہ بازی قرار دے رہے تھے اور ایم کیو ایم پاکستان کے لیڈر اپنی جماعت کے بانی اور قائد سے لاتعلقی کے حوالے سے پاکستانی عوام کو مسلسل یقین دہانی کرا رہے تھے کہ اب ان سے کوئی واسطہ نہیں رہا جبکہ چند روز پہلے ہی خود ایم کیو ایم میں ایک بار پھر پھوٹ پڑنے کے بعد باہر نکالے جانے والے سلمان مجاہد بلوچ نے اس ساری ڈرامے بازی کو بے نقاب کرکے متحدہ پاکستان کے چہرے کی اصلیت بتا دی اور الزام عائد کیا کہ متحدہ پاکستان اب بھی الطاف حسین کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہے اور قائد کو اب بھی رقوم کی ترسیل جاری ہے، اس حوالے سے مجاہد بلوچ نے اس خاتون کا نام بھی بتا دیا تھا جس کے اکائونٹ سے لندن اب بھی رقم منتقل ہوتی ہے جبکہ فاروق ستار نے اس کی تردید کردی ہے ،کچھ ایسی ہی صورتحال عزیز بلوچ کے حوالے سے بھی ہے، عزیز بلوچ نے کئی لوگوں کے قتل کا مبینہ طور پر اعتراف کرتے ہوئے بھتہ خوری اور دیگر جرائم کے نیٹ ورک کے ضمن میں جو انکشافات کئے ہیں ان میں ایک اہم لیڈر اور ان کی بہن کا نام بھی آتاہے مگر عزیز بلوچ کے حکام کے سامنے اعترافی بیان کی ویڈیو کی موجودگی کے باوجود اصل ’’مجرموں‘‘ سے کوئی تعرض کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟ یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر حرف زنی کا باعث بھی ہے۔ سمجھ سے بالاتر مگر یہ بات ہے کہ اگر صولت مرزا، رحمن بھولا اور عزیز بلوچ کے انکشافات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تو رحمن بھولا اور عزیز بلوچ کو بھی رہا کر دینا چاہئے، صولت مرزا کو اگر پھانسی دی گئی تو عزیز بلوچ کو بھی لوگوں کو قتل کرنے کی سزا ضرور ملنی چاہئے اور رہ گیا رحمن بھولا تو وہ بھی سانحہ بلدیہ ٹائون کے حوالے سے دو ڈھائی سو بیگناہ افراد کو زندہ جلانے کا ذمہ دار ہے اس لئے ان کو بھی قرار واقعی سزا ملنی چاہئے لیکن پھر ان کے انکشافات میں جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں ان کے خلاف کون قانون کے مطابق اقدام کرے گا؟ اب جو حماد صدیقی کو گرفتار کرنے کی خبریں آرہی ہیں اور عنقریب موصوف کو وطن واپس لا کر اسے تفتیش کے مراحل سے گزارا جائے گا جبکہ اس کے دو سہولت کاروں کے حوالے سے بھی خبریں آچکی ہیں اور امید ہے کہ ان دونوں کو بھی جلد ہی قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا تو پھر یہی بات ذہن میں کئی سوال ابھرنے کا باعث بن جائے گی کہ ان ’’ملزموں‘‘ کو اصل حقائق ظاہر کرنے کیلئے تفتیش کے مراحل سے گزارنے کے بعد بھی اگر رحمن بھولا اور عزیز بلوچ کی طرح صرف قانون کے شکنجے میں جکڑ ے رکھنے پر ہی اکتفا کیا گیا اور سنگین واردات میںملوث ہونے کی وجہ سے اصل مجرموں تک رسائی کے باوجود ان سے کسی قسم کا تعرض نہ رکھنے کی پالیسی اختیار کی گئی اور عزیز بلوچ اور رحمن بھولا کی طرح حماد صدیقی اور دیگر دو سہولت کاروں کو بھی صرف حراست میں رکھنے کی کوشش پر ہی اکتفا کیا گیا تو ان دو ڈھائی سو افراد کے اہل خاندان کو انصاف کیسے مہیا کیا جا سکے گا جنہیں نہایت ہی بہیمانہ طریقے سے زندہ جلا کر موت کی آغوش میں دھکیل دیا گیا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ محولہ ملزموں کے انکشافات میں جن لوگوں کی جانب اشارے ملتے ہیں اور یہ وارداتیں جن لوگوں نے ان سے کروائی ہیں اب ان کو بھی قانون کے شکنجے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔
مرنے والوں کیلئے ماتم میں سب مصروف ہیں
ہاتھ ظالم کے گریباں پر کسی کا بھی نہیں

متعلقہ خبریں