نہ ختم ہونے والی بے سکونی

نہ ختم ہونے والی بے سکونی

کسی بھی ملک میں اگر آپ کو امن ،خوشحالی اور عوامی اطمینان نظر آئے تو سمجھ لیجئے کہ اس ملک کے لوگ انصاف پرور ہیں۔خواہ وہ حکومت میں ہوں،فوج میں ،عدلیہ میں یا صحافت میں۔انصاف ہو رہا ہو تومیزان درست رہتا ہے اور میزان درست ہو جائے توشر و بدی کی قوتوں کا زور ٹوٹتا ہے اور جب بدی کی قوتیں کمزور ہوتی ہیں تو خیر کا دور دورہ ہوتا ہے اور جب خیر کی کارفرمائی ہو تو اس ملک، اس قوم اور اس سرزمین پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں اور ہر شے با برکت ہو جاتی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ جب ایک شخص کماتا تھا اور گھر کے دس بندے کھاتے تھے۔کمائی تھوڑی تھی لیکن روپے میں برکت تھی۔با برکت روپیہ جب گاہک کی جیب سے نکل کر دکاندار کے غلے میں جاتا تھا تو گاہک کو پورے روپے کی پوری چیز بغیر کسی ملاوٹ کے ملتی تھی۔ہر شخص ایماندار تھا،امیر میں صلہ رحمی اور غریب میں بلا کی قناعت تھی۔کوئی غریب راتوں رات امیر ہونے کے خواب دیکھتا تھا نہ اس کے لئے ناجائز ذرائع اختیار کرتا تھا۔کسی کے گھر مہمان آتے تو وہ خوشی سے نہال ہو جاتا کہ اللہ کی رحمت آئی ہے۔کھانا تیار ہوتا تو پہلی پلیٹ پڑوسی کے گھر جاتی۔پی ٹی وی کی صورت صرف ایک چینل تھا جس کی نشریات شام چار بجے شروع اور رات بارہ بجے ختم ہو جا تیں۔خواتین اور بچوں کا رومانس شب آٹھ بجے والے ڈرامے کے ساتھ اور مردوں کی دلچسپی نو بجے والے خبرنامے کے ساتھ تھی۔جونہی خالد حمید اور عشرت فاطمہ سکرین پر نمودار ہوتے مر د پوری دلجمعی کے ساتھ جم کر بیٹھ جاتے ۔نہ کوئی بریکنگ نیوز نہ کوئی نیوز الرٹ ۔صرف خبریں اور اللہ اللہ خیر صلا۔یہی ملک تھا یہی قوم تھی اور یہی میڈیا۔خبریں صداقت پر مبنی اور خبر بنانے والے صحافیوں کی ایسی عزت کہ کوئی شخص ماننا تو درکنار یہ سوچنا بھی حرام سمجھتا تھا کہ خبر جھوٹی بھی ہو سکتی ہے ۔اس زمانے میں عدلیہ پر حرف زنی کے بارے میں کوئی سوچتا بھی نہیں تھا۔ماضی کے اوراق کو پلٹتے ہوئے میں اکثر سوچتا ہوں کہ وہ کون سا ایسالمحہ تھا جب اللہ نے ہمارے ہاں سے خیر اور برکت کو اٹھا لیا؟ کئی واقعات اور معاملات اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں لیکن سوچ اس نکتے پر جا کر اٹک جاتی ہے کہ بھٹو کو کیوں ایک ناکردہ جرم کی پاداش میں سزائے موت دی گئی؟وہ جرم جو انہوں نے کیا ہی نہیں تھا کیوں ان کے سر ڈال کر انہیں تختہ دار پر لٹکایا گیا؟کتنے برسوں تک اس فیصلے کا دفاع کیا گیا لیکن باطل حق کو ایک ڈیڑھ عشرے سے زیادہ دبانے اور چھپانے میں کامیاب نہ ہو سکا اور ان کی زبانیں بھی سچ اگلنے لگیں جنہوں نے بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانٹی تھیں،شادیانے بجائے تھے۔پھانسی کی سزا ملنے پر بھٹو نے کہا تھا ،میری پھانسی پر ہمالیہ روئے گا۔ہمالیہ رویا، زاروقطار رویا لیکن اس کے دشمنوں کی بے نور آنکھیں ان آنسوئوں کو نہ دیکھ سکیں۔لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ پھر شر نے اس ملک کو،اس قوم کو،نا انصافی کرنے والوں کو،اس نا انصافی کی داد دینے والوں کو حتیٰ کہ ان کو بھی خون کے آنسو رلایا جو اس جرم میں شامل نہ تھے کہ گیہوں کے ساتھ گھن کو پسنے سے کون روک سکتا ہے؟ہم پر خدا نے زمین تنگ کر دی۔ہم پر ایسا خوف مسلط کر دیا کہ ہم گھر سے باہر نکلتے ہوئے سوچنے لگے کیا خبر ہم گھر واپس آئیں گے یا خون میں لت پت ہمارا بے جان وجود؟ہمارے پاس ایٹم بم بھی تھا،طاقتور میزائل بھی۔مسند انصاف پر جج بھی موجود تھے اورسرحدوں کا دفاع کرنے والی فوج بھی،حکومت بھی تھی اور حکمران بھی لیکن سب یوں بے بس کہ جیسے پتھر کے ہو گئے ہوں۔ایک دن خبر آتی پشاور میں خود کش دھماکا،بائیس شہید اور دوسرے دن میڈیا چیخ رہا ہوتا لاہور میں خون کی ہولی،خودکش بمبار کا سر مل گیا۔اگلے روز کوئٹہ میں شہیدوں کے کٹے پھٹے حصے اکٹھے کئے جا رہے ہوتے اور اس سے اگلے دن کراچی کی مائیں بیٹیاں اپنے جگر گوشوں کی خون میں لت پت لاشوں سے لپٹ کر بین کر رہی ہوتی تھیں۔ہمارے وجود کا ہر حصہ زخموں سے چور تھا اور ہماری بے بسی کی انتہا یہ کہ اس حالت میں بھی ہم اس احساس سے عاری تھے کہ ہماری یہ درگت کیوں بن رہی ہے؟سیاستدانوں نے اس ظلمت میں بھی اجتماعی توبہ نہ کی ،جرنیلوں نے سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی یہ عہد نہ کیا کہ آئندہ کوئی بھی جرنیل مارشل لا لگانے کا تصور بھی نہیں کرے گا۔ججوں نے ماضی کی نا انصافیوں کا اعتراف کر کے قانون و انصاف کی سربلندی کا عہد کیا اور نہ صحافیوں نے توبہ کر کے اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔آج خودکش دھماکے نہیں ہوتے تو سب خوش ہیں کہ اللہ کا غضب ٹھنڈا ہو گیا لیکن کوئی اس نفسا نفسی پر دھیان نہیں دیتا جس نے خیبر تا کراچی ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔لوگ صبح دفتر جانے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں آدھے گھنٹے کا سفر دو گھنٹوں میں طے کر کے دفتر پہنچتے ہیں کہ صبح بلا ناغہ سڑکوں پر قیامت کا سماں ہوتا ہے کئی کئی فرلانگ تک گاڑیاں یوں پھنسی ہوتی ہیں کہ ان کی چال پر چیونٹی کی چال کا گمان ہوتا ہے۔شام کو گھر آنے کے لئے واپسی کا رخ کرتے ہیں تو بھی وہی کچھوے کی چال۔تیس تیس لاکھ کی نئی نویلی گاڑیوں میں بیٹھے امرا قریب سے نکلنے والے بائیکرز اور سائیکل سواروں کو حسرت سے دیکھ رہے ہو تے ہیں۔چمچماتی گاڑیاں ہیں،کوٹھیاں اور بنگلے ہیں،پیسہ ہے مگر سکون نہیں کہ سکون تو قدرت کی رحمتوں میں سے ایک ہے اور جو قوم ووٹ دیتے وقت انصاف نہ کرے،جو اپنے ماتحتوں سے نا انصافی کرے،حرام کھائے،حق مارے۔جس قوم کے ادارے کرپشن میں گردن تک دھنسے ہوئے ہوں ۔جس قوم کو یہ احساس تک نہ ہو کہ وہ اللہ کے غضب کا شکار ہے اس قوم پر سختی کم نہیں ہو سکتی کہ انسان انصاف کرے یا نا انصافی لیکن اوپر والے کی عدالت صرف انصاف کرتی ہے اور اللہ کا غضب بھی محض انصاف ہی ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں