کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

FeedBack کا سلسلہ ہر ہفتے میرے لئے ایک نیا تجربہ اور قارئین سے رابطہ مضبوط تر بنانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ گزشتہ کالم میں اسلامیہ کالج کے ایک پروفیسر صاحب کی پی ڈی اے سے شکوہ شکایت چھپی تو اسلامیہ کالج یونیورسٹی سے اس ضمن میں ادارے کے اندر ہونے والی نا انصافیوں کی ایک طویل داستان مع شواہد و ثبوت کے ساتھ میرے ساتھ شیئر کی گئی جن کا میں یہاں تذکرہ کرنا نہیں چاہتی۔ مختصراً یہ کہ ہمارے معاشرے میں میرٹ اور شفافیت کی بد ترین خلاف ورزی کسی کا حق مارنا اور صادق و راست گو افراد کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں۔ اکثر سازشیوں کی جیت ہوئی ہے کہ برائی کے ساتھی مقتدر با اثر اور کثیر ہوتے ہیں مگر کبھی کبھار میں ڈوبتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے والا معاملہ بھی ہوتا ہے۔ اس طرح کے لوگ پھر ان عناصر کا دل کھول کر کچا چٹھا نکال دیتے ہیں۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں جو کچھ ہ رہا ہے بہتر ہوگا کہ اس کی اصلاح کی جائے یہ بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹے گا تو پھر مقتدرین دہائی دیتے نظر آئیں گے مگر کچھ ہوگا نہیں۔ جو لوگ اپنے دائرہ اختیار میں لوگوں سے نا انصافیاں کرتے ہیں اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہیں ان سے قدرت کا انتقام یقینی ہے۔ عظیم مادر علمی اسلامیہ کالج کے اولین وائس چانسلر سے لے کر تاحال کی اندرونی کہانی پھر سہی فی الوقت اس لئے نہیں کہ احترام اساتذہ میں اصلاح کا ایک موقع دینا احسن ہوگا۔

اب آتے ہیں دیگر مراسلہ جات کی طرف ،کوہاٹ لاچی کے کاشتکار بھائی نثار نے قابل توجہ مراسلہ بھیجا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیوب ویل ایک گھنٹے میں گیارہ یونٹ خرچ کرتا ہے جس کی قیمت ایک سو پینسٹھ روپے بنتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں یا تو گھر چلایا جاسکتا ہے یا پھر بجلی کا بل ہی دیا جاسکتا ہے۔ بجلی کا بل ادا نہ کیا جائے تو روز گار کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومت اگر کاشتکاروں کو سولر پلانٹ دیں تو کاشتکاروں کا مسئلہ حل ہو جائے۔ میرے خیال میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے یہ سکیم شروع ضرور کی ہے مگر سارے کاشتکاروں کو سولر پینل دینا ممکن نہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت اگر کاشتکاروں کو بلا سود سولر پینل فراہم کرنے کا بندوبست کریں تو ایسا ممکن بھی ہوسکے گا۔ زرعی ترقیاتی بنک کو کاشتکاروں کو قسطوں پر سولر پینل فراہم کرنے کا بندوبست کرنا چاہئے۔
اپر دیر سے ایک پولیس کانسٹیبل شکایت کرتے ہیں کہ پولیو مہم کے دوران ان کی ڈیوٹی مردان‘ چارسدہ اور پشاورکے علاقوں میں لگائی جاتی ہے۔ ان کو معاوضے کی ادائیگی کے لئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اپر دیر کو دو کروڑ روپے ریلیز کئے گئے لیکن اس کی تقسیم صحیح طور پر نہیں ہوئی ۔ بجائے اس کے کہ ضلع سے باہر جیب سے خرچ کرکے ڈیوٹی کرنے والوں کو پہلے رقم ملتی مقامی پولیس کو رقم دی گئی اور دیگر کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کا مسئلہ ٹھیک طریقے سے سمجھانہ جا سکا لیکن بہر حال ان کو رقم کم ملنے اور نا انصافی کی شکایت ہے جس کا جائزہ لینے اور مسئلہ حل کرکے ان کو مطمئن کرنے کی ضررت ہے۔ یہاں معاملہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کا بھی نظر آتا ہے ۔
ایک اور مراسلے میں تذکرہ ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق میڈیکل یا ڈینٹل کالج میں پڑھانے والا فیکلٹی سٹاف دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک قسم وہ ہے جو ہفتے میں ایک دو کلاسیں (پیریڈ) پڑھاتا ہے جس میں وہ صرف بنیادی مضامین اناٹومی‘ فزیالوجی‘ بائیو کیمسٹری‘ پتھالوجی‘ فارما کالوجی پڑھاتے ہیں۔ ہر بنیادی مضمون Basic Subject کے لئے پروفیسر سے لے کر لیکچرار ڈیمانسٹریٹر تک کا ایک جم غفیر عملہ تعینات ہوتاہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا طبقہ ڈاکٹروں کا میڈیکل یا ڈینٹل کالج میں وہ ہوتا ہے جو کلینکل ڈاکٹر یا فیکلٹی سٹاف ہوتا ہے۔ ان کا کام ہفتے میں پانچ کلاسیں پریڈ اور روزانہ وارڈ ٹیچنگ اور روزانہ مریضوں کا معائنہ‘ علاج معالجہ‘ مریضوں کو وارڈ میں داخل کرنا‘ ایمرجنسی مریضوں کو Attend کرنا وغیرہ ہوتا ہے۔ آپ حیران ضرور ہوں گے یہ سن کر یا جان کر کہ پہلی قسم یعنی (Faculty of Basic subjects teaching) کو دوسری قسم یعنی (Faculty of clinical subjects teaching) والوں سے دوگنی تنخواہ ملتی ہے۔ ایک الائونس Special allowance (15000) اور ایک الائونس Basic seience teaching allowance (57000)‘ بیٹھنے والے فیکلٹی سٹاف کو دو گنا مشاہرہ ملتا ہے بمقابلہ کلینکل ٹیچنگ سٹاف جو پورا ہفتہ ٹیچنگ اور مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں مصروف رہتا ہے۔ صوبائی حکومت نے نا انصافی کی حدیں پار کی ہیں
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے اسد
کرتے ہیں قتل مگر ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
ضرورت اس امر کی ہے کہ برابر گریڈ کے پروفیسر ایسوسی ایٹ پروفیسر‘ اسسٹنٹ پروفیسر چاہے بیسک ٹیچنگ فیکلٹی ہو یا کلینکل ٹیچنگ فیکلٹی ہو دونوں کی تنخواہیں اور مراعات بھی برابر ہونی چاہئے۔ کلینکل ٹیچنگ فیکلٹی کو بھی بیسک ٹیچنگ فیکلٹی کی طرز پر الائونس کا نہ صرف حقدار ٹھہرانا چاہئے بلکہ کام اور ڈیوٹی کی نوعیت اور دورانئیے کو دیکھ کر کلینکل ٹیچنگ فیکلٹی کی تنخواہیں اور دیگر مراعات بڑھا کر نا انصافی کا خاتمہ کیاجائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو۔ پوری تفصیل کے ساتھ مسئلہ بیان کرنے کے بعد اس پر کسی تبصرے کی گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ متعلقہ حکام سے اس کا نوٹس لینے کی اپیل کی جائے۔
نوٹ: قارئین کرام اپنے مراسلہ جات روزنامہ مشرق بلال ٹائون جی ٹی روڈ کے پتے پر ارسال کریں یا 03379750639پر مسیج یا واٹس اپ کریں۔پیغام میں غیر ضروری تفصیلات اور تمہید سے گریز کیا جائے۔

متعلقہ خبریں