نواز شریف کا مقدمہ

نواز شریف کا مقدمہ

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ن لیگ کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف ، پاکستان مسلم لیگ ن اور ملکی ترقی اور استحکام کے خلاف سازش ہو رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگی قیادت ان سازشوں کا قلع قمع کر دے گی۔ اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ نوازشریف، نہ ان کی پا رٹی راہنما، اور نہ کسی اور کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ مُجھے سمجھ نہیں آر ہی ہے کہ سازش کون اور کیوں کر رہا ہے؟۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ ملک کو ابتری تک پہنچانے ‘آئے دن پاکستان کے غریب عوام پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ،غُربت افلاس، قادیانیوں کو مُسلمان قرار دینے کی ناکام کوشش کی وجہ سے مالک حقیقی اور رازق نے نواز شریف کو اُس جگہ کھڑا کیا کہ اب اُنکے حواری اس بات سے ڈرے ہوئے ہیں کہ اب اللہ کی پکڑ قریب ہے۔ان کوکسی دشمن کی ضرورت نہیں اُنکے خود اپنے دوست و مشیر اُنکے تباہی اور بر بادی کے لئے کافی ہیں ۔صدر پاکستان ممنون حسین جونواز شریف کے منتخب کردہ صدر ہیں۔اُنہی کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔وفاقی حکومت ڈیموں اور صحت کے شعبے میں کامیابی اور کامرانی کی جو باتیں کرتی ہے وہ سفید جھوٹ ہے۔ چار سالہ دور حکومت میں لئے گئے 14800 ارب روپے قرضے کا ذکر کرتے ہوئے صدر مو صوف کا کہنا ہے کہ اتنا بھاری قرضہ لیا نہ ڈیم بنائے گئے اور نہ صحت کے شعبے میں کوئی نمایاں ترقی ہوئی ، پھر یہ پیسے کدھر گئے۔ایک انگریزی معاصر کے مطابق گزشتہ چار سالہ دور میں وفاقی حکومت نے 35بلین ڈالر کا نیا قرضہ لیا ہے جوچار سالہ عرصے میں 30 فی صد اضافہ ظاہر کر رہا ہے اور اب پاکستان کا بیرونی قرضہ 79 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اگر ہم تجزیہ کریں توملک کے پہلے مُنتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو احمد رضا خان قصوری قتل کیس میں پھانسی کی سزادی گئی ۔ ذولفقار علی بھٹو کیس میں اعلیٰ عد لیہ کا فیصلہ 3، 3 سے برابر تھا ۔ چیف جسٹس نے اپنی رائے کااستعمال کر تے ہوئے بھٹو پھانسی کیس میں اہم کر دار ادا کیا۔ ما ضی قریب میں بھی ملک کے منتخب وزرائے اعظم سید یو سف رضا گیلانی اور راجہ پر ویز اشرف ایک کیس میں بر طر ف کئے گئے تھے۔جبکہ اسکے بر عکس نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے فُل بنچ جو پا نچ ججوں پر مشتمل تھی فیصلہ دیا اور حکم دیا کہ نواز شریف کو فی ا لفور اپنے عہدے سے ہٹایا جائے ، کابینہ کو ختم کر کے نئی کابینہ تشکیل کرنی چاہئے مگر بد قسمتی سے اسکے با وجود بھی کافی عر صہ گزرنے کے بعد نہ ان کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کیس میں کوئی سزا ہوئی اورنہ ان کو کچھ کہا گیا بلکہ اب تک وہ وزیر اعظم کا پروٹو کول لے رہے ہیں۔پاکستان عوامی تحریک ما ڈل ٹائون کے14 شہداء کا کیس ہمارے سامنے ہے۔ میاں نواز شریف اور انکے بھائی شہباز شریف اور دوسرے 21 افراد کیخلاف سیکشن 419، 234، 302 اور 109 کے تحت کیس درج کیا گیا۔ جسٹس با قر نجفی کی سربراہی میں ایک رُکنی کمیشن نے بھی پنجاب حکومت کو اس سانحے میں ملوث گردانا ۔مگر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ نہ تو شریف برادران کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا اور نہ اُن سر کاری اہل کاروں کے خلاف کوئی کا روائی کی گئی۔۔انگریزی کا ایک محا ورہ ہے Justice Delayed justice deniedانصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے ۔ جبکہ اسکے بر عکس ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں قیدی چھوٹے چھوٹے کیسوں میں جیلوں میں انتہائی کرب ناک زندگی گزار نے پر مجبور ہیں نہ اُنکے پاس وکیل کے لئے پیسے ہیں اور نہ قانونی مشورے اور کو نسلنگ کے لئے ۔ بدقسمتی سے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزانے پر مجبو ر ہیں۔ ایک طرف حکومت نے ملک کو اقتصادی اور مالی طور پر کمزور کیا تو دوسری طرف ہمارے پیارے دین اسلام کے خلاف بھی لگی ہوئی ہے ۔وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے تو ختم نبو تؐ کے قانون میں ترامیم کیں اوررانا ثناء اللہ نے قادیانی ٹی وی پر قادیانیوں کی حمایت میںانٹر ویو دیا اور کہا کہ قادیانی بھی تو ہماری طر ح مسلمان ہیں مسجد جاتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں ۔ اپنے آپکو مسلمان کہتے ہیں۔مُجھے نواز شریف بتا دیں کہ کیا اسلام کا مذاق اُڑانے سے اللہ کا غضب اور قہر نہیں آئے گا۔البتہ میاں نواز شریف اور جماعت اسلامی کے اس مو قف کی حمایت اور تائید کرتا ہوں کہ اُن تمام کے خلاف کار روائی ہونی چاہئے جنکے نام پانامہ سکینڈل میں موجود ہیں۔ اور اُن کے خلاف بھی کار روائی ہونی چاہئے جو مختلف ادوار میں کرپشن، بد عنوانی اور دوسری مالی بے ضابطگیوں میں ملوث رہے۔ اس ملک کے غریب ، پسے ہوئے اور مفلوک الحال عوام کے تباہی اور بر بادی کے ذمہ دار ہمارے یہی حکمران ہیں۔ اس وقت ملک میں بے روزگاری، افلاس، بھوک، صحت، تعلیم اور دوسری اشیاء کی عدم دستیابی کے ذمہ دار یہی حکمران ہیں۔ 

متعلقہ خبریں