صحت کا انصاف اس طرح ہوتا ہے؟

صحت کا انصاف اس طرح ہوتا ہے؟

ذیل کا مراسلہ محترمہ مریم گیلانی کے سلسلہ وار کالم FeedBack کیلئے ملا تھا لیکن اس کی طوالت اور شکایت کی اصابت کے باعث مختصر کرکے شامل اشاعت کرنے کی بجائے ایک باقاعدہ کالم کے طور پر دیا جا رہا ہے۔ صورتحال واضح اور مزید کسی تبصرے کی محتاج نہیں سوائے اس کے کہ اس کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور جامع و غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد متاثرہ و غمزدہ خاندان کی تسلی کرائی جائے۔محترمہ مریم گیلانی صاحبہ آپ نے اپنے کالموں میں لوگوں کی شکایات اور اجتماعی و انفرادی مسائل کو جگہ دینے کا ایک عمدہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے مسائل سے آگاہی بھی ہوتی ہے اور یقینا ان کا حل بھی متعلقہ ارباب اختیار ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوں گے اور شکایات کا ازالہ بھی ہوتا ہوگا۔ بعض شکایات یا مسائل ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن ان کا تعلق ضرور مفاد عامہ سے بنتا ہے۔ جیسا کہ میرے ساتھ ایک واقعہ یا حادثہ ہوچکا ہے۔ گزشتہ دنوں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ایک جعلی ڈاکٹر کے انکشاف کے حوالے سے خبر اخبارات میں پڑھی تو شفاء خانوں سے متعلق عوام کے ذہنوں میں جو تاثر پہلے سے ہی اچھا نہیں ہے مزید منفی ہوجاتا ہے۔ میرا تجربہ بھی اس حوالے سے بہت خراب رہا۔ میری والدہ بھی مذکورہ ہسپتال میں اسی طرح کے ایک ڈاکٹر کے خراب روئیے کا شکار ہو کر ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہوگئیں۔ قصہ مختصر یہ کہ 19 اگست بروز ہفتہ شام کے وقت میری والدہ کی طبیعت خراب ہونے پر ان کے معالج ڈاکٹر اے ایچ عامر کی ہدایت پر انہیں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے انڈوکرائنالوجی وارڈ لے جایاگیا۔ ابتدائی ٹیسٹ کرانے کے بعد ڈاکٹر نے کارڈیالوجی وارڈ میں داخل کرانے کی ہدایت کی لیکن وہاں بستر خالی نہ ہونے پر انڈوکرائنالوجی وارڈ ہی میں ان کا علاج شروع کیاگیا۔ اتوار کی صبح کو ہسپتال میں عموماً سینئر ڈاکٹرز چھٹی پر ہوتے ہیں لیکن انڈوکرائنا لوجی وارڈ کے ہیڈ ڈاکٹر اے ایچ عامر جو 2007ء سے میری والدہ کا علاج کرا رہے تھے اور اپنی فیملی کے فرد کی طرح ان کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے انہوں نے ایک سینئر ڈاکٹر فہیم کو معائنہ کرنے کیلئے بھیجا اور خود تھوڑی دیر میں پہنچنے کا کہا۔ ڈاکٹر فہیم جو انڈوکرائنالوجی وارڈ میں رجسٹرار ہیں نے دل کا دورہ تشخیص کیا اور فوری طور پر سی سی یو وارڈ میں داخلے کی ہدایت کی۔ سی سی یو وارڈ (کارڈیو کیئریونٹ) جو دل کاانتہائی نگہداشت کا وارڈ ہے وہاں پہنچنے پر ڈیوٹی پر موجود ٹی ایم او ڈاکٹر امجد خٹک نے انتہائی نا مناسب روئیے کا مظاہرہ کیا اور ہمیں وارڈ کے گیٹ پر روک کر درشت لہجے میں میری والدہ کو وہاں ایڈمٹ کرنے سے انکار کیا اور انڈو کرائنالوجی کے تمام ڈاکٹرز اور خصوصاً ڈاکٹر اے ایچ عامر کیلئے نا مناسب الفاظ بھی کہے۔ یہ ساری باتیں میری والدہ کے سامنے ہوئیں جس کا انہوں نے کافی اثر لیا اور اچانک ان کو دوسرا دل کا دورہ پڑا اور وہیں بے ہوش ہوگئیں۔ عین موقع پر ڈاکٹر خالد عثمان اور ڈاکٹر فہیم وہاں پہنچ گئے اور چند منٹ کے وقفہ سے ڈاکٹر اے ایچ عامر بھی۔ انہوں نے جلدی سے سی پی آر کیا میری والدہ کو وینٹی لیٹر پر ڈالا اور سرجیکل آئی سی یو میں داخل کیا جہاں وہ بیڈ نمبر3پر تقریباً آٹھ دن موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد بالآخر خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اس سارے واقعے کے چشم دید گواہ وہاں موجود وارڈ بوائز اور انڈو کرائنالوجی وارڈ کی فی میل ہائوس جاب ڈاکٹر ہیں اس واقعہ کی تحریری شکایات ہم ہسپتال انتظامیہ سے کرچکے ہیں۔ پہلی شکایت جب ابھی والدہ حیات تھیں اس وقت کی اور ان کے انتقال کے بعد دوبارہ شکایت درج کی۔ ٹی ایم او ڈاکٹر امجد خٹک کے روئیے کی وہاں پر موجود تمام سینئر ڈاکٹرزنے اس وقت بھی مذمت کی تھی اور سب کی متفقہ رائے تھی اگر ابتدائی چند منٹ وہاں وہ بے کاربحث کی بجائے علاج کی طرف توجہ دیتا تو ممکن ہے آج صورتحال مختلف ہوتی۔ بعد میں ہسپتال کے تمام سینئر ڈاکٹرز ڈاکٹر اے ایچ عامر ‘ ڈاکٹر خالد عثمان‘ ڈاکٹر رب نواز ، ڈاکٹرحسین آفریدی بالخصوص آر ایم آئی کے ڈاکٹر عاصم اور سرجن ڈاکٹر مشتاق بشمول ہسپتال کے ایم ڈی ڈاکٹر شہزاد اکبرنے میری والدہ کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور ان پر پوری توجہ دی لیکن جو نقصان ابتداً ہوا تھا اس کا ازالہ نہ ہوسکا کیونکہ وہی چند لمحے اہم تھے جو ٹی ایم ڈاکٹر امجد خٹک نے اپنی فضول بحث میں ضائع کردئیے۔تحریری شکایت کے بعد ہسپتال کے ایم ڈی کے بقول انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ہے اور مذکورہ ڈاکٹر کیخلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیاگیا ہے لیکن جس طرح کا ہمارے ملک میں کمیٹیوں کا کسی معاملے پر مٹی پائو والا تجربہ رہا ہے کیا اس کمیٹی سے بھی ہم یہی توقع رکھیں۔ میر ے خیال میں مذکورہ ٹی ایم او ڈاکٹر کے خلاف کارروائی انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی اور کیساتھ ایسا حادثہ پیش نہ آئے اور کسی کی قیمتی جان ایسے ڈاکٹر کے ہاتھوں ضائع نہ ہو۔اب آپ خود سوچیںکہ کیا اس طرح کا ڈاکٹر اپنے پیشہ کیساتھ مخلص ہوسکتا ہے۔ کیا وہ اس قابل ہے کہ اس کو مزید یہاں کام کرنے دیا جائے۔ ایسے ڈاکٹروں کی موجودگی سے ہسپتالوں کے بارے میں لوگوں کی رائے اچھی کیسے ہوگی میری جہاں فرشتہ صفت اور مخلص ڈاکٹروں سے واسطہ پڑا بلکہ تمام عملہ وہ اپنی جگہ مگر ایک عطائی قسم کے شخص کا رویہ اور ہٹ دھرمی جس طرح میری والدہ محترمہ کے کومے میں چلے جانے اور راہی ملک عدم ہونے کا باعث بنا اسے میں کبھی نہیں بھلا پائوں گا۔ کاش انٹری ٹیسٹ کے بعد امیدواروں کا نفسیاتی ٹیسٹ بھی لے کر انسانیت کی خدمت اور ہمدردی رکھنے والوں کو ہی میڈیکل کالج میں داخلہ دیا جائے تاکہ نفسیاتی مریض اور اجڈ قسم کے عناصر ابتدا ہی میں چھان لئے جائیں۔

متعلقہ خبریں