سی پیک کے متبادل روٹ کی بھی منصوبہ بندی کی ضرورت

سی پیک کے متبادل روٹ کی بھی منصوبہ بندی کی ضرورت


ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کانگریس کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)منصوبہ متنازع علاقے سے گزر رہا ہے۔اس سے قبل بھارت کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کے ان شمالی علاقوں سے گزر رہی ہے، جن کے بارے میں ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کا حصہ ہیں۔قبل ازیں امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کہہ چکے ہیں کہ امریکا ون بیلٹ ون روڈ کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں کئی سڑکیں اور گزرگاہیں موجود ہیں تاہم کسی بھی قوم کو ون بیلٹ ون روڈ پر اپنی من مانی نہیں کرنی چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان سے گزرنے والے اس منصوبے کا ایک حصہ متنازع علاقے سے ہوکر گزرے گا۔سی پیک منصوبے پر سیکریٹری دفاع کے اس بیان کے بعد پاک امریکا تعلقات میں مزید خرابی پیدا ہو سکتی ہے جو 21 اگست کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ پالیسی کے تحت افغانستان میں بھارت کو دیے گئے اہم کردار کے حوالے سے پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کی سیخ پائی کسی سے پوشیدہ امر نہیں ۔ بھارت، امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں نے سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے بلوچستان میں جو کھیل کھیلا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خدشہ ہے کہ اس طرح کاکھیل گلگت بلتستان اور چترال میں بھی کھیلا جائے جس سے بروقت ہوشیار رہنے اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمارے تئیں اس ضمن میں سیکورٹی اداروں کی پیشگی تیاریاں ان کی موجودگی اور چوکسی سے از خود واضح ہے۔ ان علاقوں کے عوام کو کسی گروہی نسلی اور خاص طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بننے والے اقدامات سے حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خدانخواستہ جانے انجانے کسی خواہ مخواہ کی سازش کاشکار نہ ہوں۔ گلگت بلتستان کبھی بھی تاریخی طور پر جموں و کشمیر کا حصہ نہ تھا لیکن بعض غلط فہمیوں کی بناء پر بہر حال دشمن ملک ان کو متنازعہ قرار دیتا ہے۔ بد قسمتی سے ان غلط فہمیوں کی بنیاد ہمارے عاقبت نا اندیش پالیسی سازوں ہی کے ہاتھوں رکھی گئی۔ بہر حال اس بحث سے قطع نظرکہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل ہر قیمت پر سی پیک کے عظیم منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکا کر خدانخواستہ سی پیک کو ناکام بنانے کی قصد کئے ہوئے ہے اور جس پر کسی بھی قیمت پر عملدرآمد کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی حکام کا بھارت کی زبان بولنا اس امر پر دال ہے کہ امریکہ اور بھارت کھل کر اس مسئلے کو اب سامنے لانے کا تہیہ کرچکے ہیں جس کی پیش بندی اور جوابی حکمت عملی ہماری حکومت اور پالیسی سازوں کے مدنظر ضرور ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال میں سی پیک کیلئے چترال کے راستے ایک متبادل روٹ کی ضرورت اور اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ لواری ٹنل کی تکمیل کے بعد چترال اب ہر موسم میں ملک سے جڑا ضلع بن چکا ہے۔ چترال سے بروغل تک دو رویہ شاہراہ کا پی سی ون بھی منظور ہوچکا ہے۔ صوابی سے چکدرہ تک ایک مختصر سیدھا اور قدیم تاریخی روٹ پر شاہراہ کی تعمیر کی تکمیل ہونے کو ہے۔ چکدرہ سے دیر تک سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ دیر سے لواری سرنگ تک اور چترال کی طرف سے لواری سرنگ تک اپروچ روڈ ذیلی ٹنلز کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔ چترال دوشنبے روڈ کا منصوبہ بھی غور و خوض کے مراحل میں ہے۔ ان ساری تیاریوں اور پیشرفت کا جائزہ لینے سے از خود یہ بات سامنے آتی ہے کہ منصوبہ ساز اس ساری صورتحال پر پیشگی غور اور مصنوبہ بندی کرکے اقدامات سے غافل نہ تھے۔ ہمارے تئیں حکومت کو چاہئے کہ وہ اس متبادل محفوظ پائیدار اور کم فاصلے کے روٹ پر کام کی رفتار تیز کرے۔ ایک متبادل منصوبہ سامنے لانے سے جہاں سی پیک کی وسعت میں اضافہ ہوگا وہاں متبادل منصوبہ سامنے لانے پر سی پیک کے موجودہ روٹ کے مخالفین کی امیدوں پر اوس پڑ جائے گی۔ چترال سے سی پیک کے متبادل روٹ کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک وسعت کے ساتھ روس تک وسیع کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ روس کی اس منصوبے میں براہ راست شمولیت کی صورت میں جہاں ہمیں خطے میں چین کی طرح کا ایک مضبوط اور طاقتور اتحادی ملک میسر آئے گا وہاں سی پیک منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے ممالک کو بھی اس امر کا احساس ہوگا کہ خطے میں معاشی و اقتصادی مفادات سے جڑے ممالک کی مضبوط شراکت کی بیجا مخالفت کرنا آسان نہ رہے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی حکام کی سی پیک کے حوالے سے تازہ مخالفانہ بیانات کو سنجیدگی سے لینے اور ان کے حوالے سے موثر اور متبادل منصوبہ بندی اور امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے جس سے غفلت کی گنجائش نہیں۔ جہاں تک ان کے اعتراضات کا سوال ہے اس حوالے سے ہماری حکومت کو سفارتی سطح پر اس کاجواب دینے میں سنجیدگی کامظاہرہ کرنا چاہئے۔ سی پیک پاک چین دوستی کی مضبوط نشانی ہی نہیں خطے کے عوام کی ترقی کا بھی حامل منصوبہ ہے جس پر عملدرآمد کا پوری قوم متحد ہو کر عزم رکھتی ہے۔ اس حوالے سے پوری قوم ہر مخالفت مول لینے اور ہر طوفان سے ٹکرا جانے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے اور اس کے لئے تیار بھی ہے۔

متعلقہ خبریں