قابل بحث موضوع

قابل بحث موضوع

جہاد کے اعلان کاریاست کو حق ہونے کے حوالے سے سنجیدہ فیصلے نہ ہونے اور مختلف آراء کا بظاہر اور بباطن اظہار اور اس پر ہر کسی کی اپنی توجیہہ نئی بات نہیں بلکہ پرانا معاملہ ہے۔ اس توجیہہ کو معاشرے میں منوانے اور تسلیم کرانے کی طرف کسی بھی دور حکومت میں شاید اس لئے توجہ نہ دی گئی کہ معاشرے میں بعض عناصر یہاں تک کہ ایک وقت تک خود ریاستی عناصر بھی باقاعدہ اعلان شدہ جہاد کے متحمل نہیں تھے مگر اس کا سہارا ضرور لیاجاتا رہا۔ اب بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو گروہی و نجی جہاد کے قابل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ سعی ہو اور جہاد کے اعلان سے متعلق اسلامی احکامات کو الم نشرح کیا جائے اور اختلافات پر مبنی آراء کو کمزور کیاجائے تو یہ دین اور ملک دونوں کے مفاد میں ہوگا۔ اگر جہاد کسی ریاست کے باقاعدہ اعلان سے ہی مشروط ہے تو اب تک اس نعرے کے ساتھ جو اقدا مات اٹھائے جا چکے ان کی حیثیت کیا ہوگی۔ بہر حال یہ ایک ایسا نازک معاملہ ہے جس پر زیادہ رائے زنی مناسب نہیں سوائے ان اٹھنے والے سوالات کے جو اس ضمن میں ذہن میں آتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شعائر اسلام کے حوالے سے یوں بحث کا آغاز کرنا وزیرداخلہ کے لئے مناسب امر نہ تھا اور نہ ہی وہ اس کے مکلف ہیںاور نہ ہی یہ اس کا موقع محل تھا۔ معلوم نہیں کہ وزیر داخلہ نے اس موضوع کو اس موقع پر موضوع بحث لانا کیوں مناسب سمجھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر داخلہ اس بیان کے ذریعے کوئی پیغام دینا چاہتے تھے حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی اور علاوہ ازیں بھی اس طرح کا پیغام دینا ممکن تھا۔ وزیر داخلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب بہت سارے حلقوں کے لئے قابل قبول ہے یا نہیں۔ ان کا بیانیہ کیا ہے شرعی طور پر جہاد کی فرضیت اور اس کے اعلان کا حق دار اور حالات سے متعلق علمائے کرام کو کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر لوگوں کی رہنمائی کے لئے آگے آنے کی ضرورت ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس موضوع کو تضادات اور الزام تراشی کا ذریعہ بنائے بغیر حکمت اور بصیرت کے ساتھ روا داری اور ہم آہنگی کی فضا میں موضوع بحث لاکر اس حوالے سے ابہام کا خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں