''نومور'' !!!

''نومور'' !!!

بروز جمعرات ہونے والی پریس بریفنگ میں فوجی ترجمان نے بھی نو مور کہہ دیا ہے لیکن اس بے ڈھنگے اور کھردرے انداز سے نہیں جس طرح وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا۔ سلجھا ہوا انداز اور محتاط گفتگو اگرچہ اہل سیاست کا خاصہ ہونا چاہیے مگر اس کا اظہار فوج کی جانب سے ہوا ہے۔ انتہائی نپے تلے انداز میں فوجی ترجمان نے درخواست کی کہ پاک فوج کے خلاف ہمیں دشمن کے بیانیے کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور ایسے طرز عمل سے اجتناب برتنا چاہیے جس کی وجہ سے دشمن کی پاک فوج دشمنی کا ایجنڈا پورا ہو سکے۔ موجودہ تناؤ کے ماحول میں اس قدر سنجیدگی ' متانت اور خلوص سے بھرپور گفتگو پر آئی ایس پی آر کے میجر جنرل آصف غفور کو بلاشبہ خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے اور لمحہ بھر کے توقف کے بعد اس بات پر غور کرنا از حد ضروری ہے کہ اہل سیاست کے ایک گروہ اور قومی میڈیا کے ایک مخصوص طبقے نے اپنی افواج کے خلاف جو غیر اعلانیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے کیا اب اس کی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ سویلین بالادستی کے نام پر مورچہ زن خواتین و حضرات اور ایک سیاسی جماعت کے کارپردازان اب وضاحت کریں کہ وہ پاک فوج کے خلاف کیوں ہیں۔ ''صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں'' کی کیفیت کو ختم کرکے یا تو وہ اپنی ہرزہ سرائی کو بند کر دیں کہ یہی تقاضہ حب الوطنی ہے یا پھر بلیک اینڈ وائٹ میں نشاندہی کریں کہ سویلین بالادستی کی منزل کے حصول میں انہیں کہاں رکاوٹ دکھائی دے رہی ہے تاکہ قوم ان کرداروں کا محاسبہ کر سکے جو ان رکاوٹوں کی وجہ بن رہے ہیں۔ نواز شریف کی پیشی پر رینجرز واقعہ کو بنیاد بنا کر وفاقی حکومت کے وزراء اور دیگر لیگی قیادت نے جس طرح ریاست کے اندر ریاست کی رٹ لگائی اور اس کی وجہ سے اپنی ہی فوج کو جیسے بدنام کیا ہے وہ نرم سے نرم الفاظ میں قابل مذمت ہے۔ خواجہ سعد رفیق کا ردِ عمل اگرچہ شدید ہوتا ہے لیکن اس روز انہوں نے قدرے تحمل اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا جب کہ احسن اقبال وزرات داخلہ کے انچارج ہونے کے ناطے بہت سیخ پا ہوئے اور غصے میں وہ کچھ کہہ ڈالا جو ان کے منصب کے شایان شان بھی نہ تھا اور جس کے سبب فوج کی صفوں میں بے چینی پھیلنا یقینی تھا۔فوجی قیادت نے غصے کا جواب نہایت تحمل اور بردباری سے دے کر اس قومی ڈائیلاگ کا آغاز کر دیا ہے جس کی طرف جناب نواز شریف فریقین کو دعوت دے رہے ہیں۔ اب کاغذ قلم تھامئیے اور لکھئے کہ آپ کو فوج اور فوجی قیادت سے کیا شکوہ ہے؟ ایک ایک کرکے اپنے تحفظات قلم بند کیجئے اور تحمل کے ساتھ جواب کا انتظار کیجئے۔ ماضی ، حال اور مستقبل کی بجائے ہمیں حال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، حال بہتر ہو گا تو مستقبل بھی محفوظ ہو جائے گا۔ میری ذاتی رائے ہے کہ حکومت کافوج کی موجودہ قیادت سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے چنانچہ پاناما کیس کے تناظر میں فوجی قیادت کے خلاف جو مقدمہ مسلم لیگ ن کھڑا کرنے میں مصروف ہے وہ قطعاً بے بنیاد ہے۔ میں دعویٰ کے ساتھ ایک بات کہہ سکتا ہوں وہ یہ کہ لیگی قیادت کو فوج کی قیادت سے وہی شکوہ ہے جو انہیں اپنے وزیر چوہدری نثار علی خان سے ہے۔ پرویز رشید بھولپن میں ایک بات کہہ گئے ہیں۔
جوڈیشل کمپلیکس کے باہر کھڑے تند مزاج پرویز رشید سے رپورٹر نے چوہدری نثار علی خان کے بارے میں پوچھا تو وہ گویا ہوئے کہ وہ ہماری کوئی مدد نہیں کر سکے تو کسی اور کی کیا کریں گے۔ یہ سوال پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کے تناظر میں چوہدری نثار کی مدد کے بارے میں تھا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت چونکہ پانامہ کیس میں بُری طرح پھنسی ہوئی ہے لہٰذا وہ اپنے بچاؤ کے لیے مدد چاہتی تھی جو کہ فوجی قیادت نے مہیا نہیں کی۔ بس فوج کا یہ قصور ہے کہ اُس کی خفیہ ایجنسی کے پاس جو معلومات موجود تھیں وہ اُس نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے اراکین کو کیوں دیں؟ اس وجہ سے حکومتی ٹیم جے آئی ٹی کو جن آئی ٹی پکارتی رہی۔ ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا فوج یکسر نیوٹرل ہو سکتی تھی؟ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ کیا ایسی صورت بن سکتی تھی کہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے ساتھ بالکل تعاون نہ کیا جاتا اور تمام معلومات خفیہ ہی رہنے دی جاتیں؟ اگر یہ صورت بن سکتی تو شاید جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے دو اراکین کو شامل کرنے کا جواز ہی ختم ہو جاتا کیونکہ عدالت عظمیٰ نے حقائق جاننے کے لیے بنائی گئی ٹیم میں ان اراکین کو شامل کرنا اس لیے ضروری خیال کیا ہوگا کہ ان کے پاس معلومات دستیاب بھی ہوتی ہیں اور وہ وسائل موجود ہیں جو معلومات تک آسان رسائی کا باعث بن سکتے ہیں۔ فوجی ترجمان کی پریس بریفنگ میں اسی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کو انہوں نے تابع کیا اور ہمارے دو اراکین وہ حکم بجا لائے جو انہیں سونپا گیا تھا۔ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے فوج کا کردار کیا یہی نہ بنتا تھا؟ کیا ایسا کرنا آئینی ہوتا کہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی کے لیے فوج کی ایجنسی کے اراکین تجویز کرتی اور فوجی قیادت یہ نام دینے سے انکارکردیتی؟ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ فوج کے خلاف پانامہ معاملے میں سارا غصہ کیوں اور کس لیے ہے؟ فوجی ترجمان نے محتاط الفاظ میں فوج کا جو مدعا بیان کیا ہے اُس کا مطلب یہ سمجھ آتا ہے کہ ہمیں ہمارا قصور تو بتائیں اور بجائے دشنام طرازی کے اور برا بھلا کہنے کے صاف لفظوں میں ان کونے کناروں کی نشاندہی کریں جو آپ کو چبھ رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ حکومتی ٹیم کے ارکان بشمول نواز شریف اب یہ کہنے سے تو قاصر ہوں گے کہ ہمیں بچانے میں آپ نے ہماری مدد نہیں کی ہے' وہ مدد جس کی توقع انہیں اپنے وزیر داخلہ سے بھی تھی اور وہ انہیں میسر نہ آ سکی۔ فوجی ترجمان کی پریس بریفنگ کے بعد بھی اگر مسلم لیگ ن نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کا باعث بننے سے گریز نہ کیا تو یہ وطن عزیز کے لیے بڑی افسوس ناک صورت حال ہو گی۔