علمائ' سیاسی مولوی اور تنخواہیں

علمائ' سیاسی مولوی اور تنخواہیں

ایک زمانہ تھا کہ سیاست کا یہ حال نہ تھا جو آج کل ہے۔ علماء علماء ہوتے تھے اور ان کے سامنے ایک ہی مقصد ہوتا تھا کہ قوم و ملک کی دینی رہنمائی میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔ مسلمانوں کے اس سنہری دور میں علماء اپنے علم' تقویٰ اور خودی و خودداری کی بنیاد پر ایک شان بے نیازی کے حامل ہوتے تھے اور اپنے ذاتی دنیاوی مفادات کو بہت محدود رکھ کر وقت کے حکمرانوں پر ایک اخلاقی اور علمی برتری رکھتے تھے۔اس بھلے زمانے کے مسلمان حکمران تین چار علماء کو اپنے اتالیق اور مشیر کی حیثیت سے دربار سے منسلک رکھتے تھے' لیکن کیا مجال کہ کوئی انہیں درباری ملا کہے۔ پھر زمانہ بدلا اور ہندوستان پر انگریزی راج قائم ہوا۔ اس راج میں سب سے بڑا نقصان ہمارے مذہبی طبقات کو ہوا۔ کچھ علماء حق جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر طاقتور انگریزی راج سے ٹکرا کر شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے اور کچھ مدارس میں کنارہ کش ہو کر مستقبل کی منصوبہ بندی میں لگ گئے۔ لیکن بعض انگریز دربار سے منسلک ہو کر اپنی دانست میں وقت کے تقاضے سمجھ کر مستفید ہونے لگے۔ یوں وہ قوم و عوام کی نظروں میں درباری علماء میں شمار ہوئے اور عوام کے ہاں ان کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔ تحریک قیام پاکستان کے دوران بھی علماء کے حوالے سے یہ تقسیم کہیں کہیں بہت صاف اور کہیں مدھم نظر آتی ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد علماء نے قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول اور نفاذ کے لئے قرارداد مقاصد اور ''بائیس نکات'' کی صورت میں جو کردار ادا کیا وہ بہت شاندار ہے اور اس کا ثمر ملک و قوم کو ایک اسلامی دستور و آئین کی صورت میں ملا ہے۔اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی کہ مدارس نے عوام کے غریب طبقات کو علمی لحاظ سے بہت بڑا سہارا دیا لیکن اس بات میں بھی شک نہیں کہ مسلکی اختلافات کو بڑھاوا دینے میں بھی اہل مدارس نے ایک قابل ذکر کردار ادا کیا۔ اس لحاظ سے پنجاب میں بہت برا حال رہا ہے اور آج تو بہت ہی بدحال ہے۔ علماء اور مذہبی طبقات میں یہ تقسیم اور تفریق اس وقت اور بھی گہری ہو جاتی ہے جب مذہب کے ساتھ سیاست شامل ہو جاتی ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ میرے نزدیک دین و سیاست کے درمیان چولی دامن کاساتھ ہے لیکن پاکستان میں جس چیز نے اس حوالے سے مشکلات پیدا کی ہیں وہ مذہب کا سیاست کے لئے غلط استعمال ہے جو ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں دھڑلے کے ساتھ کرتی رہتی ہیں۔پاکستان کی دو بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں کے اندر شروع دن سے نظریاتی اختلافات کے سبب بعض مواقع پر سیاسی فوائد کے حصول کے لئے اتحاد وغیرہ بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کے اندر سے اختلافات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جلسوں میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالنے کے باوجود دلوں میں مسلکی و نظریاتی بعد موجود رہتا ہے۔ مذہبی نظریاتی اختلافات کی خلیج کو وسیع کرنے میں سیاسی معاملات کا بہت دخل ہے۔ اسی بناء پر ''سیاسی مولویوں'' کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہئے تھا کیونکہ سیاست اور دین کے درمیان جدائی کو علامہ اقبال نے چنگیزی سے تعبیر فرمایا ہے لیکن یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ پاکستان میں مذہب اور سیاست کا معجون جس انداز سے تیار کیا جاتا ہے وہ بھی بہر حال ملک و قوم کے لئے وہ نسخہ نہ بن سکا جس سے شفاء کاملہ نصیب ہوسکے۔اور جس کسی نے یہ محاورہ بنایا ہے کمال کا بنایا ہے کہ '' دو مولویوں میں مرغی حرام ہوجاتی ہے'' اور جب ہزاروں مولویوں کے درمیان سیاست گھر جائے تو اس کا یہی حال ہوگا جو پختونخوا میں ہے کہ حکومت ائمہ مساجد کو تنخواہیں دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور بعض مذہبی طبقات (بڑے مولوی صاحبان) اس کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ اس مخالفت کے جواب میں حکومتی اہل کاروں نے علماء کو الگ اور سیاسی مولویوں کو الگ قرار دیا ہے۔ حالانکہ ایسا ہے نہیں۔ علماء میں سیاسی علماء موجود ہیں اور مولویوں میں بھی بہت اعلیٰ علوم و فنون اور کردار کے لوگ موجود ہیں۔ لہٰذا اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور علماء اور مولوی سب اپنی نیتیں درست کر لیں ۔ حکومت اگر تنخوا ہیں اس لئے مقرر کروانا چاہتی ہے کہ 'علماء اور مولویوں کو اپنا ''ملازم'' بنوا کر سیاست کے لئے استعمال کیاجائے تو یہ کوئی مستحسن بات نہ ہوگی اور اگر بعض مذہبی سیاسی جماعتوں کے لوگ حکومت کی مخالفت برائے مخالفت کرتے ہیں تو یہ بھی اچھی بات نہیں ہے۔ اگر حکومت مساجد کے اماموں اور خطیبوں کی تنخواہیں مقرر کروا کر ان سے اپنی منشا و مرضی کے خطبات دلوانا چاہتی ہے تو سخت معیوب اور اگر بعض لوگ آئمہ مساجد کے لئے تنخواہوں کی اس لئے مخالفت کر رہے ہیں کہ ان کی من پسند آزادی کہ جو دل میں آئے کہے پر قدغن لگتی ہے تو یہ بھی درست نہیں۔ لہٰذا ضرورت اعتدال کی ہے کہ آئمہ مساجد پر ایک چیک (نگرانی) حکومت کی ہونی لازمی ہے تاکہ فرقہ واریت اور مسلکی تعصبات پر مبنی تقاریر کے ذریعے عوام الناس کے قلوب و اذہان کو آلودہ نہ کیا جاسکے۔ لیکن علماء کی آزادی اظہار اور حق بات کہنے پر پابندیوں کا سوچنا اور منصوبہ بندی کرنا یقینا قیام پاکستان کے مقاصد کے خلاف ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ آئمہ مساجد کی اکثریت تنخواہوں کی طلبگار اور ضرورت مند ہے لہٰذا حکومت کا یہ کام خلوص نیت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے تو اس کے اچھے کاموں میں شمار ہوگا۔ اس لئے استدعا ہے کہ ایک اچھے کام کو سیاست اور مذہبی تنگ نظری کی بھینٹ چڑھانے کی کوششیں نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں