غلطی ہائے مضامین مت پوچھ

غلطی ہائے مضامین مت پوچھ

جائے استاد خالی است کا جملہ اپنے اندر کتنی معنویت رکھتا ہے اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب ہمیں یکے از اساتذہ کرام محترم و مکرم زرین خان کا ای میل موصول ہوا۔ اس ای میل کو ہم اپنے کالم کی باز گشت کہہ لیں یا اپنے بہت سے پڑھنے والوں میں سے کسی ذوق والے کا آئینہ نما ید بیضا سمجھیں جس میں ہمیں اپنی نام نہاد ذہانت کا مصنوعی پن نظر آنے لگا۔ ہوا یوں کہ ہم اپنے ایک کالم میں ایک چھڑی بدست جوشیلے استاد کی نوک قلم سے نکلے ہوئے ایک چیختے چنگھاڑتے جملے میں زبان و بیان کی نہ ہونے کے برابر غلطی کی نشاندہی کربیٹھے۔ لیکن کسی کے چاک گریباں کی جانب اشارہ کرنے سے پہلے ہمیں اپنی بند قبا کے دھبوں کا خیال تک نہ رہا اور کر بیٹھے ایسی چوک ایسی غلطی کہ اساتذہ کرام کی ترجمانی کرنے والی ایک ای میل نے ہمیں جھنجھوڑ ہوئے کہہ ڈالا کہ بڑے بنتے پھرتے ہو دکھتی رگوں پر انگلی رکھنے والے جہاں تمہیں لکھنا تھا 'کاتب وہاں لکھ بیٹھے مکتوب الیہ ' یہ ای میل پڑھتے ہی میرا سر یوں چکرایا کہ ماسٹر زرین خان کی ارسال کردہ ای میل کا نفس مضمون میرے سر سے پھسل سا گیا۔ مجھے سمجھ نہ آئی کہ آپ کیا فرمارہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ای میل میں روزنامہ مشرق پشاور کے کسی شمارے میں استادوں سے استادی مہنگی پڑی کے عنوان سے شائع ہونے والی شین کی ڈائری کی فوٹو فارمیٹ نقل ارسال کی جس کی ایک سطر کو ہائی لائٹر سے روشن کرنے کے بعد مکتوب الیہ کے لفظ کے گرد دائرہ سا کھینچ کر راقم السطور کے ای میل ایڈریس پر Please Make Correction کے عنوان سے بھجوادیا جسے پڑھ کرکچھ بھی نہ سمجھے خدا کرے کوئی کے مصداق میں کچھ بھی تو نہ سمجھ سکا، اور میں در جواب آن غزل ان کو فیروز اللغت کا حوالہ دے کر مکتوب الیہ کے مطالب و معانی سمجھانے بیٹھ گیا کہ یہ لفظ مذکر ہے،عربی زبان سے مستعار ہے اور اس سے مراد وہ بندہ یا بندی ہے جس کو خط لکھا جائے۔ مکتوب الیہ کی جگہ کاتب لکھنا چاہئے تھا۔ کیونکہ میسج کے مکتوب الیہ تو آپ خود ہیں۔ اور کاتب وہ ٹیچر ہے جس نے آپ کو وہ میسج واٹس ایپ کیا ہے۔ زرین خان کا یہ قول زریں میری ای میل کے جواب میں موصول ہونے کے بعد یوں لگا جیسے مجھ عقل کے اندھے کو کسی نے عینک تھما دی ہو۔ لیکن اندھا کیا جانے عینک کی افادیت۔ زرین خان نے میرے ای میل کے متن پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جسے تم فیروز اللغت کہہ رہے ہو وہ فیروز اللغات ہے۔ ان کی اس بات کی تصدیق کے لئے مجھے اس فیروز اللغت کا ٹائٹل دیکھنا پڑا جو میں نے اپنے موبائل میں انسٹال کررکھی ہے۔ فیروزاللغت کا موبائل ورژن فیروز اللغت ہی نکلا سو یوں میں ماسٹر زرین خان کے پرچے میں آدھے نمبر لینے کا حقدار ٹھہرا، اب مرضی عالی جناب ممتحن کی کہ وہ کتنے نمبر دیتے ہیں فیل کرتے ہیں یا پاس۔ وہ جو ہم کبھی اسکول کے زمانے میں استاد شاگرد نامی کھیل کھیلتے ہوئے ایک بالک ٹپہ گنگنایا کرتے تھے کہ خزانے کی کنجی تیرے پاس تھی اگر تو پاس کرتا تو کیا بات تھی جس کے جواب میں کھیل میں شامل ماسٹر جی کا کردار ادا کرنے والا ساتھی کہتا کہ کتابوں کی گٹھڑی تیرے پاس تھی۔ اگر پڑھتا لکھتا تو کیا بات تھی۔ گزر گیا وہ زمانہ۔ وقت کی گائے ڈکار گئی اس زمانے کو جب ہم کچھ پڑھ لکھ لیا کرتے تھے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے چھین لی ہم سے کتابوں کی گٹھڑی۔ ایک ٹیچر نے موبائل بدست شاگرد سے پوچھا کہ شیر انڈے دیتا ہے یا بچے ، اگر اس شاگر کا تعلق کتابوں کی گٹھڑے والے زمانے سے ہوتا تو وہ ٹیچر کی اس بات کا جواب دینے کے لئے اپنی عادت مطالعہ سے استفادہ کرتا ۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور بچے میرے عہد کے چالاک ہوگئے کے مصداق کہنے لگا کہ '' شیر، شیر ہوتا ہے۔ اور شیر شیر کے سوا شیر ہی ہوتا ہے اس لئے یہ اس کی مرضی پر منحصر کہ وہ انڈے دے یا بچے'' فیروز اللغات والے اپنی فیلڈ کے شیر ہی تو ہیں جبھی ان کے دل میں جانے کیا بات سمائی کہ انہوں نے لغت کا موبائل ورژن بناتے وقت اس کا ٹائٹل ہی بدل دیا اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ماسٹر جی مجھ ہیچمدان کو مرغا بنائے بنا سانس نہ لینے دیتے۔ میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جو انہوں نے میری توجہ میری اس کوتاہی کی طرف دلادی جو مجھ سے سہواً سرزد ہوگئی۔ میں اپنے گونگے بہرے اور اندھے الفاظ لیکر اپنے پڑھنے والوں کے ذوق مطالعہ کی تواضع کرنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہوں اور اس میدان میں گرتا پڑتا اپنے پڑھنے والوں تک پہنچنے کی جسارت کر پاتا ہوں۔ ایک مدت بعدکالم لکھنے کی نشاة ثانی یا ثالث کا آغاز کیا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں خاموشی عقل مندی کی نشانی ہے۔ جو جتنا بولتا ہے اتنی ہی غلطیاں بھی کرتا ہے۔ آہ وہ تین بہنیں جن کو ماں نے رشتہ لیکر آنے والی خواتین کے سامنے بولنے سے محض اس لئے منع کر رکھا تھا کہ کہیں ان کی بول چال کے نقص سے رشتہ لانے والے آگاہ نہ ہوجائیں۔ مگر افسوس کہ اس دوران ایک مکوڑے کو رینگتا دیکھ کر ایک بہن بے اختیار ہوکر مکوڑے کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی ''دیتھو نی دیتھو نی متورا آگیا متورا''۔(دیکھو ری دیکھو ری مکوڑا آگیامکوڑا) دوسری نے اسے بولنے سے منع کرتے ہوئے کہا۔'' چپ تر چپ تر نہ بول'' (چپ کر چپ کر نہ بول) تیسری نے جب دیکھا کہ دو بہنوں کے بولنے سے ان کے بولنے کے نقص کا پول کھل چکا ہے تو وہ تالیاں بجا کر کہنے لگی'' شتر ہے شتر ہے کہ میں نہ بولی''(شکر ہے شکر ہے میں نہ بولی)۔ اللہ جانے تین بہنوں کی زبان و بیان کا یہ نقص بھانپ کر رشتہ لیکر آنے والوں پر کیا گزری۔ کیاان قسمت ہاری بچیوں کی ماں نے اپناسر پیٹا بال نوچے یا گونگے لفظوں والی بچیوں کی پٹائی کر ڈالی اس کے متعلق ہم کچھ بھی نہیںکہہ سکتے ۔ کیونکہ
کیا بنے بات ،جہاں بات بنائے نہ بنے

متعلقہ خبریں