جہد مسلسل

جہد مسلسل

کالم نگاری کی اپنی برسوں پر محیط قلمی زندگی میں الحمدللہ آج تک اپنی ذات کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا ۔ جو اچھا لگا اس کی تعریف کی اور جو برا لگا اس پر تنقید ، لیکن وہ بھی کسی تعصب سے بالاتر ہوکر،بہرحال انسان کی اپنی ایک قوت مدافعت ہوتی ہے اور اسی قوت مدافعت کے اِس طرف خاموشی ہوتی ہے لیکن اس کی اُس حد پر پھر تنگ آمد بجنگ آمد کی صدا آنے لگتی ہے ۔ میں ہمیشہ خدا سے یہ دعاکرتا ہوں کہ اللہ مجھے اس حد تک جانے سے بچا ۔ کیونکہ جب لڑائی کا ارادہ کرلیا جائے تو پھر اپنا بھی گریباں چاک اور دوسرے کا بھی ۔لڑائی کے دوران بھلا کوئی اپنا یا دوسرے کا خیال رکھ سکتا ہے نہ ہی اس میں ہار جیت کا کوئی ارادہ یا سوچ کارفرماہوتی ہے بلکہ اس میں تو اَنا کی تسکین ہی مطمح نظر ہوتی ہے ، اور اناؤں کی تسکین کی تو کوئی حد نہیں ہے ۔ زندگی کے نشیب وفراز سے انسان شاید ہی کوئی بچ سکتا ہو۔ کبھی خوشی کبھی غم کی کیفیت بھی مستقل نہیں ۔ شکست اور کامیابی دونوں ایک ساتھ چلتی رہتی ہیں ۔ انسان جیت بھی جاتا ہے اور ہار بھی جاتا ہے ۔ سوال بس اتنا ہے کہ جیت کی خوشی میں انسان کس حد تک خودکو تکبر اور دیگر خرافات سے اور ہار کے غم میں مایوسیوں سے بچا سکتا ہے اور یہ بھی کہ کس حد تک انسان اللہ کی رضا سے راضی رہ سکتا ہے ۔ خوشی ، کامیابی وغیرہ تو ایسی صورتیں ہیں کہ جن کا مزہ ہی لیا جاسکتا ہے اور ان پر سوچا بھی نہیں جاتا کہ اس کامیابی میں کتنا زور لگا اور اسے حاصل کرنے میں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے ۔اس کے برعکس ناکامیوں میں ذہن کہاں کہاں نہیں جاتا ۔کس کس پر شک نہیں ہوتا کہ میری ناکامی میں فلاں کاہاتھ ہے۔یافلاں یوں نہ کرتا تو ایسا نہ ہوتا۔ اس میں بعض باتیں حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں اور بعض انسان خود اپنے دماغ سے گھڑلیتا ہے یا فرض کرلیتا ہے ۔مجھے بھی اللہ نے بہت سی کامیابیوں سے سرفراز کیا ہے اور کچھ ناکامیاں بھی نصیب ہوئی ہیں ۔ لیکن جتنے احسانات اس رب کے مجھ پر ہیں ان کے مقابلے میں ناکامیاں آٹے میں نمک کے برابربھی نہیں ہیں ۔ لیکن انسان کا خمیرتو نفسیات سے اٹھا ہے اور اس ناتے انسان ناکامیوں پر چیں بہ جبیں ہوجاتا ہے ۔ اداس ہوجاتا ہے ، چڑچڑا ہوجاتا ہے ۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو ہماری ناکامیاں بھی ہمیں زندگی کاایک گہرا سبق سکھاجاتی ہیں اگر انسان اپنی ناکامیوں کے بارے میں مثبت انداز میں سوچے تو اس میں اس کے لیے آئندہ زندگی کا بہت بڑا راز پوشیدہ ہوتاہے ۔
ناکامی انسان کو خود اپنا احتساب کرنے کا ایک موقع دیتی ہے کہ انسان سوچے کہ اس نے کہاں کہاں غلطی کی ہے ۔کہاں کہاں اس نے وقت اور موقع ضائع کیا اور کہاں کہاں اس کا رویہ ٹھیک نہیں تھا۔ ناکامی کو ایک کہانی ہی تصور کیا جائے تو ہر کہانی کا ایک آغاز ایک وسط اور ایک انجام ہوتا ہے ۔ ان تینوں حصوں میں انسان اپنا کردار دیکھ سکتا ہے ۔ ناکامی کی مثال کسی پہاڑ پر چلتے چلتے اچانک پھسل جانے کی سی ہے ۔ یہاں انسان واپس پہاڑپر چڑھنے کی کوشش کرے گاتو منہ کے بل ہی گرے گا۔یہاں بہتر یہی ہوگا کہ اپنے پاؤں زمین پر جمالیے جائیں اور پہاڑ کی اترائی سے مکمل طور اتر لیا جائے ۔ سلامتی اسی میں ہے کہ انسان اپنی ناکامی کو قبول کرلے بجائے اس کے وہ اپنے بدن کو لہو لہان کردے ۔ہاں جب پاؤں کے پھسلنے کے بعد کھائی میں گرنے کا عمل مکمل ہوجائے تو پھر اپنی غلطیوں کوتاہیوں سے جو سبق سیکھا ہے اسی سبق کو اساس بنا کر دوبارہ پہاڑ کی چوٹی کی طرف پاؤں جما جما کر سفر کرنا چاہیئے ۔اگرچہ انسان کی ناکامی میں بہت سے لوگوں نے اپنا حصہ ڈالا ہوتا ہے لیکن ان کی منفی حرکتوں کونظر انداز کرکے دوبارہ ان سے محتاط رہ کر کامیابی کی جانب سفر کیا جاسکتا ہے ۔ اللہ کوشش کرنے والوں کی ہمیشہ مددفراتا ہے ۔ کوشش ہی سب کچھ ہے ۔ہماری ناکامیوں میں جو لوگ ملوث ہوتے ہیں ان کے ہماری ذات سے کچھ تعصبات یا کچھ خوف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہماری ٹانگ کھینچتے ہیں ۔یاپھر ہماری کامیابی کی صورت میں ان کے اہداف کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ سو ان کی چھوٹی سوچ ہی ہماری ناکامی کا باعث بنتی ہے ۔ بہرحال یہ طے ہے کہ کوئی کتنا ہی سازشی کیوں نہ ہو اللہ کی ذات کے سامنے بہت زیادہ ہیچ ہے ۔ انسان کو ہر حال میں اپنے رب سے ہی اپنی کامیابی کی جستجو کرنی چاہیئے ۔ ناکامی کو بے شک قبول کیا جائے لیکن شکست تسلیم نہیں کرنی چاہیئے کونکہ شکست کو تسلیم کرلینا انسان کی بے وقت موت کے مترادف ہے ۔ انسان جب شکست تسلیم کرلیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہی ہوسکتا ہے کہ انسان کا اپنی ذات اور اللہ کی ذات پر بھروسہ اٹھ گیا ہے ۔ ہمارے سامنے تاریخ کے صفحات پر ایسے کئی واقعے موجود ہیں کہ جہاں ناکامیوں کے بعد شاندار کامیابیوں کو حاصل کیا گیا ہے ۔ان سب واقعات میں ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے کہ ان تمام لوگوں نے اپنی ذات پر انحصار کیا ہے اور مسلسل کوشش کو اپنا وطیرہ بنایا ہے ۔ جہد مسلسل ہی کامیابی کی کنجی ہے جو آپ کے لیے کامیابیوں کے دروازے کو کھول دیتی ہے ۔