اچھے استاد کا نصب العین

اچھے استاد کا نصب العین

عصر حاضر میں وہی قومیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور دل و جاں کی پوری توانائیوں کے ساتھ اپنی نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا یہی نوجوان ہوتے ہیں جنہوں نے قوم کی ڈولتی نائو کو منزل مقصود تک پہنچانا ہوتا ہے اس لیے تعلیم کے شعبے پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے خوش نصیب ہوتی ہیں وہ اقوام جن کی سب سے پہلی ترجیح ایک بہترین تعلیمی نظام ہوتا ہے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو تعلیمی اداروں میں ایسا تعلیمی ماحول میسرہو جو مثالی ہو تعلیمی ادارے کا کوئی شعبہ بھی ناقص کارکردگی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ موجودہ حکومت تعلیمی ایمرجنسی کے حوالے سے جو بات کرتی ہے اسے بھی اپنی صحیح سپرٹ کے ساتھ لاگو ہونا چاہیے کہ اسی میں ہماری بقا اور بہتری ہے تعلیمی نظام میں جہاں بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں وہاں استاد اور شاگرد کا رشتہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے معاشرہ اساتذہ کے مقام کو پہچانے اور معماران قوم کو ان کا صحیح مقام دلانے کی کوشش کرے لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ استاد کی غفلت سے نا قابل تلافی نقصان پہنچتا ہے ایک ایسا نقصان جس کی تلافی نہیں کی جاسکتی ٹیچنگ کا شمار دنیا کے اہم ترین پیشوں میں ہوتا ہے اسے پیشہ کہنا بھی نا مناسب ہے یہ تو ایک مشن ہے ایک مقصد ہے ایک خدمت ہے استاد کسی بھی معا شر ے میں ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت رکھتا ہے۔ ماں باپ جسمانی پرورش کرتے ہیں اور اساتذہ روحانی پرورش' اسی لیے استاد کے مقام کو ہر دور میں اہمیت دی جاتی رہی ہے یہ مقام و مرتبہ یقینا ان اساتذہ کا حق ہے جو اپنا کام خلوص نیت اور ایک مشنری جذبے کے ساتھ کرتے ہیں۔ ٹیچنگ کے اپنے تقاضے ہیں یہ ایک درویشانہ کام ہے اس میں بڑی محنت خلوص اور محبت کی ضرورت ہے اپنی ذات کی نفی کرکے طلبہ کو کچھ بنانے کا جذبہ ہی صحیح معنوں میں استاد کو استاد بناتا ہے معمار قوم کا اعزاز بخشتا ہے یہ پل صراط کا سفر ہے اس میں زرا سی لغزش استاد کو اس کے اعلیٰ و ارفع مقام سے گرا دینے کے لیے کافی ہوتی ہے صرف چند نصابی کتب پڑھا دینے سے تعلیم کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا کتاب سے بڑھ کر بھی بہت کچھ کیا جانا چاہیے پڑھانے کا خوشگوار عمل صرف کمرہ جماعت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے طلبہ کی تراش خراش کا سلسلہ کلاس کے اندر اور کلاس سے باہر بھی جاری رہنا چاہیے۔
طلبہ کی سوچ کو صحیح خطوط پر استوار کرنا استاد کی سب سے اہم ذمہ داری ہے یہ اس کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ طلبہ کو صحیح طور پر سوچنے کا ہنر سکھا دے اگر سوچوں میں ایک نظم ہوگا اور سوچ صحیح خطوط پر استوار ہوگی تو طالب علم اپنے مقصد حیات کو پانے میں یقینا کامیا ب ہوگا ہمارے یہاں طلبہ کی اکثریت اپنے مقاصد حیات سے ناآشنا ہوتی ہے ان کے سامنے زندگی کی راہیں واضح نہیں ہوتیں یہ استاد کا کام ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو ایک سمت دے بے روزگاری، بے یقینی ،ملک کی غیر مستحکم سیاسی صورتحال اور اس طرح کے دوسرے بہت سے عوامل نے ہمارے طلبہ کی اکثریت کو مایوسی کا شکار کردیا ہے اساتذہ نے ان کو اعتماد دینا ہے انہیں درس امید دینا ہے ان کو یہ سکھانا ہے کہ جب آپ پر مایوسی کا غلبہ ہو تو آپ اللہ کے فرمان کو سامنے رکھیں جو اپنے بندوں سے کہتا ہے میری رحمت سے مایوس مت ہونا ۔اساتذہ نے درسی کتب تک محدود نہیں رہنا اپنے طلبہ کو عملی زندگی کے تقاضوں سے روشناس کروانے کے لیے درسی کتب سے باہر بھی آنا پڑتا ہے حالات حاضرہ کے گہرے شعور کا ادراک بھی کروانا ہوتا ہے نفسا نفسی اور ہنگامہ خیزی کے اس دور میں اساتذہ کی ذمہ داریاں پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں قوم کے معمار نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق طلبہ تیار کرنے ہیں آج کے دور کے تناظر میں استاد نے اپنے طلبہ کو ذہنی و روحانی ترقی کی انتھک کوششوں کے حوالے سے سکھانا ہے انہیں یہ بتانا ہے کہ مادی ترقی اخلاقی و روحانی ترقی کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتی صرف مادی ترقی تو انسان کو ایک ایسے شتر بے مہار کا روپ دے دیتی ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی مادی تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ روحانی حوالوں کی مضبوطی بھی بہت ضروری ہے اور روحانی ترقی اس وقت ممکن ہے جب سب کو ساتھ لے کر چلا جائے تعلیمی ترقی کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک ساری قوم کے لیے ایک ہی قسم کا نظام تعلیم نہ وضع کیا جائے۔ اس وقت وطن عزیز میں پانچ قسم کے مختلف تعلیمی نظام رائج ہیں مختلف تعلیمی نظاموں سے فارغ التحصیل نسل میں ہم آہنگی کی تلاش یقینا ایک دیوانے کے خواب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ایک ہی نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ استاد کی شخصیت اور مسیحائی لازم و ملزوم ہیں استاد کو طلبہ کے مسائل کا ادراک بدرجہ اتم ہونا چاہیے وہ طلبہ کا باپ بھی ہے بھائی بھی اور دوست بھی!اس نے طلبہ کو زندگی کے دشوار گزار راستوں پر چلنا سکھانا ہے ان کی مدد کرنی ہے یہ مدد تجربہ کار استاد کے ایک ناتجربہ کار طالب علم کو مفید مشوروں کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں مختلف اقدامات بھی ہو سکتے ہیں۔ بے یقینی کی اس اٹھتی ہوئی دھول میں طلبہ کو آج رہنمائی کی جتنی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھی ان کو اپنی اقدار، اپنی تاریخ اور سب سے بڑھ کر اپنے دین سے روشناس کروانا بہت ضروری ہے اپنے دین اور اپنی تہذیب و ثقافت کے روشن پہلو ان پر اجاگر کرکے ان کے کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو بے یقینی کی فضا سے نکالنا ہے۔

متعلقہ خبریں