مشرقیات

مشرقیات


زیاد بن حبان عرب کا مشہور بہادر آدمی تھا ، بنوامیہ کی سلطنت کے کئی معرکے اس نے جیتے تھے ، اس کی عمر کے آخری دن عراق میں گزرے تھے ، جہاں کا گورنر زیاد بن امیہ تھا ، ابن حبان کی بیوی مرچکی تھی ، صرف ایک لڑکا تھا جو ابھی کم عمر ہی تھا ۔ ابن حبان اتفاق سے بیمار ہوا اور موت کی تمام علامتیں ظاہر ہو چکیں ، بیٹے کو بلایا ، کہا جان پدر ابھی تم بالکل ہی کم سن ہو ، میں مر رہا ہوں ، تمہاری خبر گیر ی کون کرے گا ؟
کہو تو گورنر کو تمہاری سفارش کا رقعہ لکھ دوں کہ وہ تمہاری مدد کرے ؟
بیٹے نے جواب دیا ابا جان ! جینے والے کا اگر مرنے والے ہی کی سفارش سے کام نکل سکتا ہو تووہ زندہ نہیں ، بلکہ مردہ ہے ، آپ میری سفارش نہ کریں ، میری محنت اور ہمت میری سفارش کرے گی ۔ باپ کے مرنے کے بعد لڑکے نے ہمت نہیں ہاری ، بلکہ جس کام میں ہاتھ ڈالا اسے پورا کر کے چھوڑا پھر وہ اسلامی فوج میں شامل ہوگیا اور اپنی بہادری سے اتنا نام پایا کہ بہت بڑے عہدے پر پہنچ گیا ۔
(سچی اسلامی کہانیاں ، صفحہ 39)
حضرت شیخ رکن الدین متوفی 730ھ کا معمول تھا کہ وہ جب بھی سلطان قطب الدین خلجی کے پاس تشریف لے جاتے تو راستے میں اپنی سواری کو آہستہ آہستہ چلاتے ، تاکہ جو لوگ بادشاہ وقت سے اپنی کچھ درخواستیں منظور کروانا چاہیں تو وہ درخواستیں آپ ان سے لے لیں ،شیخ جب واپس ہوتے تو وہ تمام درخواستیں واپس ان لوگوں تک پہنچا دیا کرتے تھے ، پھر شیخ فرماتے کہ مخلوق کی خدمت کرنے سے مجھے جو لطف آتا ہے ، وہ شاید کسی اور چیز سے نہ حاصل ہو سکے (سید العارفین بحوالہ بزرفتہ سچی کہانیاں )ابو عبداللہ جعفربرقی کہتے ہیں : میں نے (کویت کے)ایک بیابان میں ایک بدو خاتون کو دیکھا ، جس کی کھیتی کڑاکے کی سردی ، زوردار آندھی اور موسلادھار بارش کے سبب تباہ ہو چکی تھی ۔ لوگ اس کے ارد گرد جمع تھے اور اس کی فصل تباہ ہونے پر اسے دلا سہ دے رہے تھے ۔ اس نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور انتہائی بلیغ الفاظ میں کہنے لگی : ترجمہ' 'اے پروردگار !پسماندگان کی عمدہ دیکھ بھال کے لیے تجھ ہی سے امید وابستہ کی جاتی ہے ، جو کچھ تباہ وبرباد ہو گیا ، اس کی تلافی تیرے ہی ہاتھ میں ہے ، اس لیے تو اپنی نرالی شان کے مطابق ہمارے ساتھ معاملہ فرما ، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری روزی کا بندوبست تیرے ہی ذمہ ہے اور ہماری آرزو ئیں اور تمنائیں تجھ ہی سے وابستہ ہیں ''
جعفر برقی کہتے ہیں کہ میں ابھی اس خاتون کے پاس ہی تھا کہ ایک آدمی آ پہنچا ہمیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ کہاں سے آیا ہے ؟ مقصد کیا ہے ؟ جب اسے اس عورت کے عقیدے ، منہج اور رب تعالیٰ سے تعلق کا پتہ چلا تو اس نے 500دینار نکالے اور اس عورت کی خدمت میں پیش کر کے اپنی راہ چلتا بنا ۔ (نساعء ذ کیا ت جدا:ص 44)

متعلقہ خبریں