پاکستان کی آوازکو موثر بنایاجائے

پاکستان کی آوازکو موثر بنایاجائے

جنرل ہیڈ کوارٹرز(جی ایچ کیو)راولپنڈی میں یوم دفاع کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں لیکن کہا جارہا ہے ہم نے بلاتفریق کارروائی نہیں کی، لیکن ہم نے بہت ڈو مور کر لیا اب دنیا کی باری ہے۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جو کچھ کر رہے ہیں وہ جہاد نہیں فساد ہے، میں بھٹکے ہوئے لوگوں سے بھی کہوں گا کہ وہ جہاد نہیں فساد کر رہے ہیں جس سے وطن اور خود ان کے لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن ان قربانیوں کے باوجود کہا جارہا ہے کہ ہم نے بلاتفریق کارروائی نہیں کی، اگر پاکستان نے اس جنگ میں کافی نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی بھی ملک نے کچھ نہیں کیا کیونکہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ اتنی بڑی کامیابی صرف پاکستان کا ہی کمال ہے اور ہم اس مسلط کردہ جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری بقا کی جنگ ہے، عالمی طاقتیں اگر اس کام میں ہمارے ہاتھ مضبوط نہیں کر سکتیں تو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار بھی ہمیں نہ ٹھہرائیں، آج کا پاکستان دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی روشن مثال ہے۔ ہم نے بہت ڈو مور کرلیا اب میں دنیا سے کہتا ہوں کہ ڈو مور۔دریں اثناء برکس اعلامیے کے بعد امریکا نے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ دہرادیاہے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق جیسا کہ ٹرمپ انتظامیہ واضح کرچکی ہے، پاکستان کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی، ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی حکومت پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گی جو خطے کے لیے ایک خطرہ ہیں۔واضح رہے کہ برکس اعلامیے میں جن گروہوں کا ذکر کیا گیا اس میں افغان طالبان، داعش، القاعدہ اور اس سے منسلک دہشت گرد گروہ، حقانی نیٹ ورک، لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)اور حزب التحریر شامل ہیں۔ان دہشت گروہوں میں سے چند گروہ افغانستان میں موجود ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں16دسمبر2014کو بھی ٹی ٹی پی نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں حملہ کرکے 132بچوں سمیت141افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد برکس کانفرنس میں پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ موجودگی کے الزام اور ان کے خلاف کارروائی کے مطالبے سے پیدا شدہ صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے پر عالمی دبا ئوکا سامنا کرنے کیلئے سول اور فوجی قیادت کو ایک صفحے پر آنا ہوگا تاکہ اس کا حل نکالا جاسکے۔ ایک جانب جہاں پاکستان کو بیرونی طاقتوں کے دبائو کا سامنا ہے تو دوسری جانب ہمارے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا بیان ہے کہ ہمیں دنیا کی جانب سے اٹھنے والی انگلیوں پر اپنے گھر کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی جبکہ ترجمان دفتر خارجہ کا بیان تھا کہ بعض تنظیموں کے حوالے سے غلط معلومات کی بناء پر برکس اعلامیہ میں مطالبہ کیاگیا۔ عسکری آراء میں آپریشنوں کی کامیابی کے بعد محولہ تنظیموں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اب حالات خراب کرنے والے عناصر افغانستان سے متحرک ہیں۔بہر حال صورتحال کا تقاضا ہے کہ دنیا اس وقت ہماری باتوں یا بیانات پر یقین نہیں کرے گی،لہٰذا اس مسئلے کا حل سب کو مل بیٹھ کر تلاش کرنا ہوگا جس کیلئے سب کا ہم آواز ہونا بہت ضروری ہے۔ اب وقت ہے جب ہمیں سنجیدگی کے ساتھ سر جوڑ کر سوچنا ہوگا۔آرمی چیف نے جس دو ٹوک انداز میں دنیا سے ڈومور کا مطالبہ کیاہے وہ پوری قوم کی آواز ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور کردار ادا کیاہے لیکن اس کے باوجود آخر دنیا ہمارے بیانیہ کو سننے کے لئے بھی تیار نہیں اور ان کا بیانیہ ہم سے مزید اقدامات کے مطالبے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہاں تک کہ اب برکس تنظیم کے اعلامیہ میں بھی اس کا مطالبہ کیاگیا ہے جس میں چین جیسا ملک بھی شامل ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں اپنی صفائی دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں ان اسباب و علل کا سوچنا ہوگا جس کی بناء پر دنیا ہماری بات کا یقین کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس قدر جانی و مالی قربانیاں دینے کے باوجود آج ہم ہی کٹہرے میں کیوں کھڑے ہیں۔ اس کی وجوہات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ پاکستان کی کامیابیاں دنیا کے کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ ایک جانب ہماری قربانیوں کااعتراف نہیں ہو رہا ہے اور دوسری جانب نت نئی قسم کی تنظیموں اور ان کی کارروائیوں کی صورت میں ہم ایک کے بعد ایک نئی مشکل کا شکار ہو رہے ہیں جس سے ہماری کامیابی اور کوششیں کبھی کبھار لاحاصل دکھائی دینے لگتی ہیں۔ بہر حال اس معاملے کا ایک پہلو اور ایک رنگ نہیں اور یہ بھی درست ہے کہ یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے جس کا حل اتنی آسانی سے نہیں نکل سکتا۔ اس سوال پر ضرور غور ہونا چاہئے کہ آیا ہم اس طرح کی صورتحال کا باہم مل بیٹھ کر کوئی حقیقت پسندانہ جائزہ لینے اور ایسی پالیسی تشکیل دینے میں کیوں کامیاب نہیں ہوسکے جس پر دوسروں کو ہمارے کردار و عمل پر شک و شبہ کی بجائے ہمارے اقدامات کی تحسین کرنا پڑے۔ اگر ہم ٹرمپ کی دھمکی اور برکس اعلامیہ کے بعد بھی اپنے پالیسی سازوں کے بیانات اور لب و لہجے کا بغور جائزہ لیں تو اس میں تضاد ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ خود وزیر خارجہ کا بیان اس بارے میں واضح ہے۔ اگر اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ ابھی اس ضمن میں کچھ کرنے کی گنجائش ہے تو ایسا کرنے میں تاخیر نہ کی جائے اور اگر ایسا نہیں تو پھر اس طرح کے بیانات چہ معنی دارد؟ دشمن ہمیں جس طرح گھیرنے کی سعی میں ہے اس کا گھیرا توڑنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر قابو پا کر قیادت کو یک آواز ہونا ہوگا اور پر اثر سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کے بیانیہ کو ٹھوس بنیادوں پر اس طرح سے پیش کرنا ہوگا کہ اسے قبول نہ کرنے کی کوئی وجہ باقی نہ رہے۔ ہمیں خارجہ پالیسی کو متحرک اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا جو ٹھوس حقائق کو مد نظر رکھے بغیر ممکن نہیں۔ چالیس سال سے امریکی مفادات کا بوجھ اٹھانے کی پالیسی پر اب نظر ثانی کرنا ہوگی تاکہ خود ان کو اس امر کا احساس دلایا جاسکے کہ خطے میں پیدا شدہ حالات کا تن تنہا پاکستان ذمہ دار نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید کامیابیوں کا تقاضا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور ایسے اقدامات اختیار کئے جائیں جو ملکی وقار کے تحفظ کے لئے ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کے لئے بھی قابل قبول اور اطمینان کا باعث ہوں۔ ہمیں عالمی برادری کی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لئے ساری قیادت کو حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔

متعلقہ خبریں