انصاف و احتساب کے نظام سے مایوسی بلا وجہ نہیں

انصاف و احتساب کے نظام سے مایوسی بلا وجہ نہیں

گوکہ وطن عزیز کے عوام عدلیہ کی کارکردگی اور مقدمات نمٹانے میں انتہائی تاخیرسے بھی نالاں ضرور ہیں لیکن نیب کی کارکردگی کے حوالے سے معزز جسٹس صاحبان نے جو ریمارکس دئیے ہیں ان کی اصابت سے انکار ممکن نہیں۔ عدالتوں کی جانب سے بار بار اس امر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ نیب کرپشن کرنے والوں کے لئے سہولت کار کاکردار ادا کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ نیب کا قیام بظاہر جس مقصد کے لئے عمل میں لایا گیا تھا اس میں وہ بری طرح ناکام ہوچکاہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نیب کے قیام کا مقصد بباطن جو تھا نیب کی کارکردگی اس سے عیاں ہے۔ عدالتی ریمارکس پر نیب کے اعلیٰ عہدیداروں کاحال ہی میں جو رد عمل سامنے آیا تھا وہ بھی پیش نظر رکھ کر اگر دیکھا جائے تو وطن عزیز میں من الحیث المجموع انصاف اور احتساب کا عمل خواب دکھائی دیتا ہے اور ناامیدی و یاس کی ایسی فضا طاری دکھائی دیتی ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ سندھ میں تو نیب کی برائے نام موجودگی بھی قابل برداشت نہیں۔ ایسے میں وطن عزیز میں جب عوام حکمرانوں سے سخت نالاں اور انصاف و احتساب کے اداروں سے مایوس ہوچکے ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام ایک مرتبہ پھر شدت پسندی کی طرف ہی مائل ہو جائیں۔ ہمارے ارباب حل و عقد کو اس سنگین محرومی اور تلخ حقیقت کی طرف متوجہ ہونے اور اس پر ایک قومی مباحثہ کرکے اس صورتحال سے نکلنے کی سعی کرنے کی ضرورت ہے۔
جماعت اسلامی کی خواتین ممبر سازی مہم
جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے دس لاکھ خواتین کو ممبر بنانے کاہدف خوش آئند ضرور ہے لیکن کیا جماعت اسلامی کے اکثریتی حلقہ دیر میں ایک مرتبہ پھر دیگر سیاسی جماعتوں سے تحریری معاہدہ کرکے خواتین کو پولنگ سٹیشنوں پر نہ لانے کے معاہدے سے احتراز کیاجائے گا؟ اور خواتین کو عملی طور پر انتخابی عمل کا حصہ بننے کی اجازت ملے گی؟۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی خواتین کے لئے قانونی طور پر مختص کردہ کوٹے سے کتنے زائد خواتین کو جنرل نشستوں پر انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ دے گی؟۔ دیر میں سیاسی جماعتوں کی خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے عمل میں سیاسی جماعتوں کی اتفاق رائے سے شرکت قول و فعل کے تضاد کا مظہر ہے وگرنہ پردے کی پابندی اور پختون روایات کے باعث خواتین کو پولنگ سٹیشنوں پر لانے سے احتراز پر معترض ہونے کی گنجائش نہیں بلکہ اس کا احترام کیاجانا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کے کردار و عمل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے اور جن عملی اقدامات کا وہ تاثر دینے والے ہوں اس کے اثرات اور اقدامات بھی نظر آنے چاہئیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ جماعت اسلامی خواتین کو ملکی سیاست میں آگے آنے میں واقعی فعال کردار ادا کرتی ہے یا پھر دس لاکھ خواتین کے ناموں صرف فہرست پر اکتفاکیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں