مغربی سرحد کا تحفظ

مغربی سرحد کا تحفظ

سپہ سالار پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکورٹی کے معاملات کے بارے میں دو ٹوک باتیں کی ہیں۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں خلاف کارروائی کرے جو اس کے بیان کے مطابق افغانستان جا کر افغان حکومت کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کا یہ الزام بھی ہے کہ پاکستان میں ایسی دہشت گردتنظیمیں ہیں جو افغانستان میں جا کر پرتشدد کارروائیاں کرتی ہیں۔ جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے ہر رنگ ، نسل اور نوعیت کی دہشت گرد تنظیموں کا صفایا آپریشن ضرب عضب اور آپریشن خیبر فور کے دوران کر دیا ہے اور اب ان کی باقیات کی تلاش آپریشن ردالفساد کے ذریعے جاری ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جس نے دہشت گردوں کے خلاف دنیا کا سب سے بڑا آپریشن کیا ہے اور دہشت گردی کے نتیجے میں سب سے زیادہ جانی قربانیاں (70ہزار) دی ہیں۔ معیشت کا کئی سو ارب ڈالر کا نقصان اُٹھایا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر آیا اور دہشت گردی بھی درآمد ہوئی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مزید کارروائیاں کرے۔ یہ مطالبہ امریکہ کی طرف سے کیا جا رہاہے جس کی پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں دہشت گردی کو فروغ حاصل ہو ا ہے۔ امریکہ کی بنیادی غلطی افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کی بجائے فوجی حل پر متوجہ رہنا ہے۔ امریکہ کی سب سے پہلی غلطی سووویت روس کے تسلط کو افغانستان اور مسلمان ممالک کے گوریلا نوجوانوں کے ذریعے ختم کرنے کے بعد افغانستان میں کوئی سیاسی انتظام نہ کرنا تھی۔ اس کے باعث وہاں خانہ جنگی ہوئی ' جرائم کو فروغ حاصل ہوا اور افغانستان غیر مستحکم ہو گیا۔دوسری بار یہی غلطی طالبان حکومت کو قوت کے استعمال کے ذریعے ختم کرنے کے بعد دہرائی گئی جب افغانستان میں کوئی ایسا سیاسی نظام قائم کرنے کی کوشش نہ کی گئی جو افغانستان کے سب لوگوں کی توقعات پر پورا اُتر سکے۔ آج طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد آٹھ سال حامد کرزئی کی حکومت رہ چکی ہے اور تین سال اشرف غنی کی حکومت کو بھی ہو گئے ہیں۔ ان حکومتوں کی پشت پناہی کے لیے امریکہ فوجیں بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ لیکن چالیس فیصد رقبہ پر اب بھی افغان حکومت کی عملداری نہیں ہے اور داعش ایسی دہشت گرد تنظیموں نے بھی وہاں قدم جما لیے ہیں۔ پاکستان افغانستان کا قریبی ہمسایہ ہے، اس نے سیاسی حل کی کوشش کی تھی جو افغان حکومت نے (ظاہر ہے کہ امریکہ کی رضامندی سے) ناکام بنا دی۔ امریکہ اب بھی افغانستان کے مسئلہ کے سیاسی حل کی طرف آنے کی بجائے وہاں مزید فوج بھیجنے کا اعلان کر رہاہے۔ اور پاکستان پر مسلسل الزام عائد کر رہا ہے کہ افغانستان میں پاکستان سے دہشت گرد جاکر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس تمام گمبھیر صورت حال میں پاکستان کی افغانستان کے مسئلہ کے سیاسی حل کی کوشش تو ناکام ہوگئی اور ایسی مزیدکسی کوشش کی حوصلہ افزائی بھی نہیں ہو رہی ہے۔ صرف یہ امید ہی کی جا سکتی ہے کہ افغانستان کی سیاسی قوتیں خودہی جلدیا بدیر اپنا مسئلہ حل کر لیں۔امریکہ کب اور کس نوعیت کی مزید فوج افغانستان میں بھیجتا ہے اور یہ فوج وہاں کب کیسی کارروائی کرتی ہے اس سے قطع نظر یہ بات یقینی ہے کہ اس متوقع کارروائی کے نتیجے میں پاکستان میں اثرات مرتب ہوں گے جہاں پہلے ہی 39لاکھ افغان موجودہیں جن میں سے 15 لاکھ کے قریب رجسٹرڈ ہیں اور باقی کی رجسٹریشن نئے سرے سے ہورہی ہے ۔ پاکستان مزید افغانوں کی آمدکامتحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے پاک فوج سرحدکی باڑھ بندی کا جو کام کررہی ہے اسے ہنگامی بنیادوں پر تیزکرنے کی ضرورت محسوس کی جانی چاہیے۔ پاک افغان سرحد اڑھائی سو میل سے زیادہ طویل ہے جس میں سے گزشتہ دنوں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ایک سو میل سرحد پر باڑھ لگائی جا چکی ہے۔ یہ باڑھ جلد مکمل ہو جائے گی تو اور اس کی بہتر نگرانی کا بندوبست ہوسکے گا تو ایک طرف یہ امکان ختم ہو جائے گا کہ افغان باشندے غیر قانونی طور پرپاکستان آسکیں جن میں ان عناصر کا شامل ہونا بعیداز قیاس نہیں جو آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں فرار ہو کر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور بھارت اور افغانستان کی ایجنسیاں پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں کے لیے ان کی سرپرستی کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ افغانستان سے پاکستان میں منشیات کی سمگلنگ کاتدارک ہو سکے گا اور اسی طرح پاکستان سے مویشیوں اور اجناس کی سمگلنگ بھی رک جائے گی اور تجارت کے لیے قانونی راستے اپنائے جائیں گے۔ افغانستان میں خرابی کی صورت حال کے نتیجے میں افغان باشندوں کے گروہ پاکستان کی طرف مراجعت نہیںکر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں موجودافغانوں کی جلدرجسٹریشن مکمل کرنے کی آخری تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ اس تاریخ کے بعد جوافغان پاکستان کی سرزمین پر پائے جائیں انہیں ڈی پورٹ کیاجائے۔ رجسٹرڈ افغانوں کی واپسی کا شیڈول تیار کیا جائے تاکہ اس شیڈول کے مطابق ان کی واپسی یقینی بنائی جائے۔ یہ ا س لیے بھی ضروری ہے کہ ان 39لاکھ افغانوں میں کیامعلوم کتنے دہشت گرد ہیں ، کتنے دہشت گردی کی تربیت کے حامل ہیں۔ کتنے جرائم پیشہ ہیں ، کتنے را اور این ڈی ایس کے ایجنٹ ہیں۔ کتنے منشیات اور اسلحہ کے کاروباریوں کے کارندے ہیں اور کتنے دہشت گردوں کے سلیپنگ سیلز کے منتظر دہشت گرد ہیں۔ان کی واپسی یقینی بنائی جائے گی ، ان کے پاکستان میں رابطے منقطع ہو جائیں گے تو آپریشن ردالفساد کے تحت دہشت گرد تنظیموں کی باقیات کی تلاش کا کام آسان ہو جائے گا۔ پاک فوج باڑھ بندی پر مستعدی سے متوجہ ہیں ،سویلین حکومت کو ایسی ہی مستعدی سے پاکستان میں موجود افغانوں کی واپسی کا بندوبست کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں