کپتان کے دعوے اور حقائق

کپتان کے دعوے اور حقائق

اس بات کا کریڈٹ تو بہر حال عمران خان کو دیا جانا چاہیئے کہ انہوں نے بالا خر ایک سچ کو تسلیم کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام پر عمل کرنے میں کافی مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ بقول خود ان کے بیور و کریسی اور تحریک انصاف کے اپنے ایم پی ایز بلدیاتی نظام کے خلاف ہیں ، گویا بہ الفاظ دیگر اس نظام کو نافذ کرنے کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں ، بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اور بھی بہت سی باتیں کی ہیں تاہم ماسوائے اس ایک بر ہنہ سچ کے اور کسی بات کے ساتھ کہیں کہیں جزوی اتفاق تو کیا جا سکتا ہے لیکن کلی اتفاق ممکن نہیں،اپنے گریباں میں جھانکنے کا حوصلہ ہر کسی میں نہیں ہوتا ۔ اور ایسا کرتے ہوئے پورا سچ کہنے کی اخلاقی جرأت بھی ہر کسی میں نہیں ہوتی ۔ اس حوالے سے جب ہم کپتان کے ارشادات عالیہ کا جائزہ لیتے ہیں تو بی بی سی کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے گزشتہ روز ملکی میڈیا کے ساتھ مزید کچھ باتیں کی ہیں جن پر بھی ساتھ ہی ایک نظر دوڑا لیں تو بہتر ہوگا ۔ انہوں نے ایک بہت بڑا دعویٰ یہ کر دیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں درست حکمت عملی کی وجہ سے غربت میں 50فیصد کمی لے آئے ہیں، ہماری حکومت کی کارکردگی متاثر کن اور مثالی ہے ، ہمارا بلدیاتی نظام سب سے مئو ثر کن اور جدید ہے ، تعلیم ، صحت کے میدان میں اہم کامیابیوں اور اصلاحات پر فخر ہے ، مثالی انتظامیہ کی راہ میں رکاوٹوں کا ادراک ہے ، پن بجلی گھروں کی تعمیر سے خود کفالت کی منزل قریب ہے ۔ موصوف کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بہتر یہی ہے کہ پہلے مثبت پہلوئو ں پر بات کی جائے ، اور وہ اس لئے کہ صوبے میں پانی کے قدرتی منابع سے پن بجلی کے حصول کے ہم خو د بھی بہت بڑے حامی ہیں اور ہماری تحریر یں اس بات کی گواہی دینے کیلئے ریکارڈ پر ہیں کہ مرکزی حکومت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں موجود ان قدرتی وسائل سے کام لے کر سستی ترین بجلی کے حصول کی بجائے دیگر ذرائع گیس ، کوئلہ ، باد پیما اور فرنس آئل کے ذریعے کہیں زیادہ مہنگی بجلی کے منصوبوں پر قومی دولت خرچ کرکے عوام کو مہنگی بجلی کی فراہمی کو ہم نے ہمیشہ قوم وملک کے ساتھ زیادتی قرار دیا ہے ، اس لئے موجودہ صوبائی حکومت نے محدود تعداد میں ہی سہی چھوٹے بڑے پن بجلی منصوبے شروع کرکے نہایت مثبت قدم اٹھایا ہے اس لئے ان کی تعریف نہ کرنا حد درجہ نا انصافی ہوگی ۔ تاہم جہاں تک کپتان کے دیگر ارشادات کا تعلق ہے ان کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ، پہلی بات تو صوبے میں بلد یاتی نظام کو سب سے اعلیٰ قرار دینا ، جوممکن ہے کہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہو ، تاہم یہ جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام کی نہایت بھونڈی نقل ہے ، جس میں لا تعداد سقم موجود ہیں ، اور جس نے جنرل مشرف ہی کے دور سے نچلی سطح تک کرپشن کی جڑوں کو وسعت دی ہے ، ہم پشاور کے باشندے ہی بہتر طور پر جانتے ہیں کہ اس نظام میں کیا کیا خرابیاں ہیں۔ بد قسمتی سے جنر ل ضیاء الحق نے بھی ایک بلدیاتی نظام پیش کیا تھا ۔ جبکہ انہوں نے تو غیر جماعتی انتخابات کرا کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بھی ان کی سطح سے انتہائی نیچے اتار کر اور انہیں ترقیاتی فنڈز مہیا کر کے بلدیاتی نمائندے بنا کر رکھ دیا تھا ۔ تب سے بے چارے ایم این ایز اور ایم پی ایز اس سطح سے ذہنی طور پر کبھی اوپر نہیں جا سکے ۔ وہ ترقیاتی فنڈز آج بھی دیتے جارہے ہیں اس لئے تو ایم پی ایز پورے ملک میں بلدیاتی نظام کے خلاف ہیں ۔ ہماری دانست میں اگر جنرل ضیاء الحق ، جنرل مشرف اور موجودہ بلدیاتی نظام کی خامیوں پر بحث کی جائے تو ہمیں یقین ہے کہ ایسے کئی کالم لکھے اور شائع کئے جا سکتے ہیں ۔جہاں تک صوبے میں غربت میں 50فیصد کمی کرنے کے بلند آہنگ دعوے کا تعلق ہے تو اس پر شاعر نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ 

ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہئے
خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھئے
یہ دعویٰ اس قدر محل نظر ہے کہ اس پر کوئی تبصرہ نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہوگا ۔ اور شاید اسی دعوے کاہی کمال ہے کہ صوبائی حکومت نے وزیر اعلیٰ ہائوس کے اندر سوئمنگ پول بنانے پر ایک کروڑ 85لاکھ روپے خرچ کرنے کا پروگرام بنایا ہے جبکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انگریزوں کے دور سے آج تک قائم اس عمارت میں پہلے کسی کو اس قسم کے کام کرانے کی ضرورت نہیںپڑی بلکہ دیکھا جائے تو اس قسم کی عیاشی انگریزوں کو ہی بھاتی تھی۔ اگر وہ اسی وقت یہاں سوئمنگ پول تعمیر کردیتے تو کوئی بات بھی تھی مگر ایک غریب اور پسماندہ صوبے کے عارضی حکمران ایسی عیاشی کے مرتکب کیوں ہو رہے ہیں۔ کیا انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ ہمیشہ انتخابات جیت کر اس صوبے پر حکومت کریں گے اور کسی دوسری جماعت کو یہاں حکمرانی کا موقع نہیں ملے گا؟ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس پر یہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
اگر کپتان کے ٹفنن طبع کے لئے چیف منسٹر ہائوس میں سوئمنگ پول بنانے کی اتنی ہی خواہش رکھتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ وہ یہ شوق ترک کردیں۔ اس صوبے کی حکومت پر کسی خاص جماعت کی اجارہ داری نہیں ہے کہ غریب عوام کے خون پسینے سے حاصل فنڈز کو اس قسم کی عیاشیوں پر خرچ کیاجائے اور ہر سال اس کی دیکھ بھال کے لئے بجٹ میں جاری اخراجات کے نام پر مزید لاکھوں روپے رکھے جائیں۔ اس غیر ضروری اقدام پر حکومت میں شامل جماعت اسلامی کا احتجاج کب سامنے آئے گا؟۔

متعلقہ خبریں