غیر ملکی نشریاتی اداروں کی ہرزہ سرائی

غیر ملکی نشریاتی اداروں کی ہرزہ سرائی

امریکہ کے مہم جو خود سر اور حد درجہ غیر سنجیدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ سال پہلے تک کسی فری سٹائل ریسلنگ کلب کے منیجر تھے۔ ہمیں یاد ہے ٹی وی پر ایک دفعہ فری سٹائل ریسلنگ کا مقابلہ دکھایا جا رہا تھا۔ ایک ریسلر نے اپنے حریف کو اٹھا کر رنگ سے باہر پھینک دیا۔ وہ ابھی سنبھلنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ فاتح ریسلر کے منیجر دوڑتے ہوئے آئے اور نیچے پڑے ریسلر پر لاتوں' گھونسوں کی بارش کردی۔ اس کی چھاتی پر سوار ہوا پھر جیب سے استرا نکال کر اس کا سر مونڈنے لگا۔ یہ منیجر ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔ شکست خوردہ ریسلر کے ساتھیوں نے ٹرمپ کو دو تین لاتیں رسید کیں اور اپنے ساتھی کو ان سے چھڑا کر لے گئے۔ مسٹر ٹرمپ بھی کمر پر ہاتھ رکھ کر ایک طرف بھاگ نکلے۔ لگتا ہے موصوف اب بھی دنیا کے سب سے بڑے طاقتور ملک امریکہ کے صدر ہونے کے باوجود خود کو کسی ریسلنگ کلب کا منیجر سمجھتے ہیں۔ لیکن ریسلنگ رنگ سے نیچے گرے ریسلر کے سر مونڈنے اور ایک خود مختار ملک کے گریبان کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں جب مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیان جاری کیا تو اس پر جنرل پرویز مشرف کا یہ تبصرہ ہمیں پسند آیا کہ مسٹر ٹرمپ کو پاکستان اور افغانستان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں اس لئے وہ اس خطے کے بارے میں اوٹ پٹانگ بیانات جاری کردیتے ہیں۔دنیا کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا بخوبی علم ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان نے 30لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو پناہ دے کر اپنی معیشت اور سا لمیت کو دائو پر لگا دیا ہے۔ اس پر بھی ہم امریکہ کو مطمئن نہ کرسکے اور اس کی جانب سے مسلسل ڈو مور کے مطالبے سامنے آتے رہتے ہیں۔ یوم دفاع کے موقع پر آرمی چیف نے و اضح اعلان کردیا ہے کہ اب دنیا کو ڈو مور پر عمل کرنا چاہئے ۔ چلئے ہم مان لیتے ہیں کہ کسی بھی ملک کو اپنے قومی مفادات کی روشنی میں پالیسیاں ترتیب دینے کا مکمل اختیار ہے۔ 

یہ حق دوسرے ملکوں کو بھی حاصل ہونا چاہئے۔ امریکہ کے ڈو مور کے تقاضے پر ہمیں وہ نیم پاگل خان یاد آگیا جس کی کہانیاں حکیم نثار سنایا کرتے تھے۔ وہ ایک دریا کے کنارے بیٹھا وضو کر رہا تھا۔ اس کا ملازم اوپر کی جانب ایک پتھر کی اوٹ میں استنجا کرنے لگا۔ خان نے اسے آواز دے کر کہا ا وئے اٹھو' تمہاری طرف کا غلیظ پانی میری جانب آرہا ہے۔ ملازم بے چارا اٹھ کر نیچے کی طرف جا کر بیٹھ گیا۔
اس پر بھی خان کو تسلی نہ ہوئی اور اسے وہاں سے بھی اٹھنے کا حکم دیا۔ ملازم نے عرض کیا حضور! اب کیا ہوا۔ خان کی دلیل تھی اب یہ ہوا کہ میرے استنجا کا پانی تمہارے… یہی کچھ رویہ امریکہ بہادر نے بھی اپنا رکھا ہے۔ ہم ستر ہزار جانوں کی قربانی دینے کے باوجود اسے خوش نہ کرسکے اور وہ ہمیں بھی دائیں اور کبھی جانب اٹھانے بٹھانے کے احکامات جاری کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز خطاب کے بعد امریکہ کے نشریاتی اداروں نے بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی ہے جس میں بالخصوص ایک پشتو ریڈیو چینل پیش پیش ہے۔ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اس پشتو ریڈیو چینل سے وابستہ افراد کا تعلق ہمارے صوبے سے ہے اور ان میں بیشتر فراری مختلف حیلوں بہانوں سے امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرکے ملازمت کر رہے ہیں۔ پاکستان مخالف پروگراموں کی رپورٹیں ' ان کے نمائندے یہاں سے روانہ کرتے ہیں اور پھر وہاں بیٹھے لوگ انہیں مزید زہرناک بنا کر نشر کرتے رہتے ہیں۔ ہم نے اب تک جو پروگرام سنے ہیں ان میں ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنے کی دلیلیں دی جاتی ہیں۔ پختونخوا اور بلوچستان کو افغانستان کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ بلوچ باغیوں کی تخریب کاری کی حمایت کی جاتی ہے۔ سندھ اور بلوچستان کو الگ کرنے والوں کی حمایت میں تبصرے نشر ہوتے ہیں۔ پاکستانی فوج پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات بھی پشتو ریڈیو چینل کے مذموم پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ یہاں تک کے ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے خلاف احتجاج کرنے والے فاٹا کے محب وطن عوام کو جاہل قرار دیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کے اس پشتو ریڈیو چینل کا زہر ملا پروپیگنڈا وطن کی سا لمیت کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے اور ہمارے نشریاتی اداروں کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ ہم اپنے اخبار کے اس ادارتی نوٹ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جس میں متذکرہ پشتو چینل کے پروگراموں کو دلائل کے ساتھ رد کیاگیا ہے۔ کیونکہ اس ریڈیو چینل کے پروگرام پاکستان نظریہ پاکستان' دفاع پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کے صریحاً خلاف ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اب ہماری سرکار اس زہریلے پروپیگنڈے کے توڑ کے لئے کیا پیش بندی کرتی ہے۔ کیا اس کے جواب کے لئے پشاور ریڈیو سے پچاس کی دہائی میں نشر ہونے والے پروگرام د حق آواز د بیداری اعلان کا اجراء دوبارہ ممکن نہیں؟۔

متعلقہ خبریں