برکس اعلا میہ کی استر داد

برکس اعلا میہ کی استر داد

مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں نئے طور طریقوں کے موضوع پرمنعقدہ سیمینا ر سے خطاب کر تے ہوئے بھارت کے آرمی چیف جنر ل بپنراوت نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے ساتھ دومحا ذوں پر بیک وقت جنگ کے امکا نا ت ہیں اور یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ جمہوری وجوہر ی ممالک جنگ میں نہیں کود تے یہ ایک بے بنیا د تصور ہے ، اور ہمارے معاملے میں درست نہیں ہے۔ بھارت کو چین اور پاکستان سے خطرہ ہے جبکہ پاکستان سے مصالحت کا کوئی امکان نہیں ہے بھارت کے آرمی چیف نے یہ بات چین کے ساتھ ڈوکلا م کے تنا زع پر اپنی فوجیں پیچھے ہٹانے کے بعد کہی ہے ۔ عام خیال یہ تھا کہ بھارت کی جانب سے فوجوں کی واپسی کے بعد حالات کو سنو ارنے میں مدد ملے گی مگر عملاًایسا نہیں لگ رہا ہے کیو ں کہ جنرل پین نے فوج کو جنگ کے لیے تیا رکر نے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی جنگ کرنے کے لیے تیا ر کر نے کا منصوبہ پیش کیا ہے ۔ حیر ت کی بات ہے کہ برکس کا نفرنس میں دہشت گردی کے بارے میں جو قرار داد منظورکی گئی ہے ، اس کے بارے میںبھارتی میڈیا جیت کا جشن منارہا ہے اور بھارت کی ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی قر ار دے رہا ہے ۔ برکس اتحاد ، جس میں پانچ ممالک شامل ہیں نو سال ہو گئے ہیں۔ یہ اتحاد دراصل چین ،جنو بی افریقہ ، اور برازیل نے مل کر بنایا تھا جس میں بعد ازاں روس اور بھارت بھی شامل ہو گیا تھا۔ اس اتحاد کا مقصد بنیا دی طور پر صنعتی اور تجا رتی طو رپر ترقی یا فتہ ممالک کی اجا رہ داری کو تو ڑ نا تھا اور اپنے معاشی حا لا ت کو مستحکم کرنا تھا گویا یہ یو رپی یونین کی طر ز کا اتحاد ہے۔ تاہم حیر ت کی بات یہ ہے کہ یہ اتحاد سرمایہ کا ری کی بنیا د رکھتا ہے جبکہ چین سرما یہ داری مخالف نظریہ کا ملک قرار پا تا ہے۔ ان حالا ت میں اس کی اتحاد میں شمولیت عجیب سی ہے۔ بھارت میں سرمایہ داری اوراشتراکیت کا ملا جلا رجحا ن ہے۔ اس کی حد تک بات درست ہے ، تاہم اگر ان ممالک کا جائزہ لیا جا ئے تو چین کے مقابلے میںبھارت کی سالانہ شرح ترقی زیا دہ ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ طاقت کا توازن بدل رہا ہے اس لیے مستقبل میں برکس کی رکنیت کا دائر ہ بھی بڑھے گا ، کیو ں کہ اقوام عالم کے نا م پر جو ادارے کا م کر رہے ہیں ا ن پر سے اعتما د کم ہو تا جا رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی پچیس ملٹی نیشنل کمپنیو ں میں سے انیس کا تعلق امریکا سے ہے ۔ اس سے اند ازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ امریکا نے یو رپ کو کس طرح اپنی معیشت میں جکڑ رکھا ہے ۔ جہا ں تک چین اوربھارت کا تعلق ہے تو ان کا بھی سرمایہ ان ملٹی نیشنل کمپنیو ں کی وجہ سے پھنس کر رہ گیا ہے اور یہ بڑی رکا وٹ کا باعث ہیں ۔ چنا نچہ بھارت کا رجحان امریکا کی طرف انہی مجبوریو ں کی بنا ء پر ہے ۔ اسی طر ح روس میں نجی ملکیت کی قانو ن سازی کے بعد بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا رجحا ن روس کی جانب نہیں ہے اور نتائج مختلف آرہے ہیں ،مثلاًرواں سال امریکا کا جی ڈی پی اٹھارہ ٹریلین ڈالرز رہا جبکہ برکس ممالک کا مجموعی طو رپر سنتیس ٹریلین ڈالر ز رہا ہے۔ اسی طرح برکس کا گروتھ ریٹ پانچ فی صد ہے جبکہ امریکا کاگروتھ ریٹ صرف دو فی صد رہا ہے۔ اس طرح برکس کا پیدا واری ریٹ امریکا کے مقابلے میں ڈیڑ ھ سو فی صد زیادہ ہے۔ اگر برکس کی کا میا بیو ں کا جا ئزہ لیاجا ئے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہت تھوڑے عرصہ میں برکس ممالک نے ترقی کی ہے جس کا اندازہ یو ں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا کا دفاعی بجٹ برکس کے مقابلے میںدوگنے سے بھی زیا دہ ہے مگر جنگی صلاحیت صرف چین کے برابر ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ چین دنیا کی ایک نئی سپر پا ور بن گیا ہے اس نے دنیا کی سب سے بڑی دوربین ایجا د کر کے خلا ئی تحقیق میں ترقی یا فتہ ممالک سے بھی آگے قد م بڑھا دیا ہے اور امریکا سمیت کئی ممالک کی خلا ئی اجا رہ داری کو تو ڑ دیا ہے۔ برکس اتحاد جو صرف مالی اتحاد نہیں ہے بلکہ معاشی ، معاشرتی ، سیا سی اور دفاعی بنیا دو ں پر بھی اتحاد ہے تو ایسے میں بھارت اور چین کے درمیان جنگ کے امکانات کیسے قرار پا تے ہیں اور بھارتی آرمی چیف کی جانب سے جو ہر ی جنگ کی بات کرنا عجب مخمصہ ہے ، اس مر حلے پر انہو ں نے پاکستان کی بات بھی کی ہے۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایسے اتحا د سے کیوں دور ہے ، جبکہ گزشتہ سال برکس کانفرنس میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستا ن کو ملو ث کر نے کی قرار داد کو چین نے ویٹو کر دیا تھا۔ مگر اس مرتبہ جوقرار داد منظور کی گئی ہے ایک تو یہ کہ برکس کا اجلاس چین کے شہر میں میں ہو ادوم اس قرا ر داد کی منظوری پر بھارت بغلیں بجا رہا ہے ، گو یہ قرار داد براہ راست پاکستان کو ملوث قرار نہیں دیتی بلکہ یہ قرار داد ان مبینہ تنظیمو ں کے بارے میں ہے کہ جن پر الزام لگایا جا تا ہے کہ وہ دہشت گردی کی کا رروائیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اس قرار داد کو مستر د کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان میں موجود ہیں ۔پاکستان کے وزیر خارجہ کی یہ بات درست بھی ہے کہ گزشتہ دنو ں افغانستان کے علا قہ شبرغان میں داعش کی طرف سے اعلان کیا گیاہے کہ کوئی بچہ اس وقت تک اسکو ل نہ جا ئے جب تک داعش کی طرف سے منظوری نہ مل جائے کیو ں کہ داعش ان اسکولو ں میں اپنا نصاب رائج کر رہی ہے۔ نصاب کے رائج کر دینے کے بعد اسکولو ں میں پڑھائی شروع کی جا ئے گی ، اسی طر ح افغانستان کی خبررساں ایجنسیو ں نے بدھ کے روز سرکا ری ذرائع سے اطلا ع دی ہے کہ صوبہ خوست میں ایک فضائی کارروائی کے ذریعے حقانی گروپ کے چھ کما نڈرو ں کو ہلا ک کردیا گیا جو اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ تنظیمیں افغانستان میںموجو د ہیں ۔

متعلقہ خبریں