مظلوم مسلمانوں کے مسائل اور مسلم حکمران !

مظلوم مسلمانوں کے مسائل اور مسلم حکمران !

جب سے عثمانی خلافت ختم ہوئی ہے ، مسلمانان عالم کمزور ہوئے ہیں ۔ اُن کا اتحاد پارہ پارہ ہو چکا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک مدت تک استعماری طاقتیں مسلمان ممالک پر مسلط رہیں اور دونوں ہاتھوں سے مسلمانوں کے وسائل لوٹنے کے ساتھ ساتھ ہرمسلمان ملک میں ایک طبقہ بھی پیدا کر دیا جو رنگ و خون کے اعتبار سے تو اُسی مسلمان ملک کے باشندے ہوں لیکن اپنی رائے ، زبان اور فکر کے اعتبار سے استعماری ملک کے حکمرانوں جیسا ہو ۔ لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلمان علماء اور محققین اور دانشمندوں نے تعلیم و تحقیق اور فلسفے کے میدان میں اُن کو آگے بڑھنے نہ دیا ۔ مسلمان علماء نے بالخصوص ہندوستان میں اُنہیں مذہب کی ترویج و اشاعت اور تبدیلی مذہب کے میدان میں ہر محاذ پر شکست دی اور نتیجتاً مسیحی مبشرین نے ہندوستان اور دیگر اسلامی ممالک میں مذاہب کے خلاف جارحانہ پرو پیگنڈہ بند کردیا ۔ عالمی نظام تعلیم اور معیشت کے ذریعے سپر پاور ز اور G-20ٹائپ ملکوں نے تیسری دنیا کے عوام کو عموماً اور مسلم دنیا کو بالخصوص ایسے شکنجوں میں کسا کہ اب وہ بے چارے کچھ کرنا بھی چاہیں تو کر نہیں سکتے ۔ عالمی طاقتوں کو جہاں کہیں وسائل اور مفادات نظر آتے ہیں وہاں کوئی اصول ، قانون ، اخلاق وغیرہ کو ئی حیثیت اور حقیقت نہیں رکھتے ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی راج نے 1857ء میں ہندوستان میں قابل ذکر مزاحمتی قوتوں بالخصوص ٹیپو سلطان جیسی شخصیات اور علماء کو جس سفاکانہ طریقے سے راہ سے ہٹا دیا وہ اس کابین ثبوت ہے ۔ آج عالمگیر یت کے تناظر میں جو تماشا لگا ہوا ہے اس میں پیسے کے سوا اور کچھ نہیں ہے اگر کچھ ہے تو وہ پیسے کے بعد ہے ۔ اس خطر ناک کھیل کے میدان زیادہ تر مسلمان ممالک کے اندر بنائے گئے ہیں جہاں یہ عالمی شاطر شطرنج کی بساط بچھا ئے اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے ''جنگ میں سب کچھ جائز '' ۔ کے سفاکانہ اصول و قواعد کے مطابق اپنے اپنے مہرے آگے بڑھاتے ہیں ، افغانستان میں سکندر اعظم کے دور سے لیکر برطانیہ کی تین جنگیں ، روس کا حملہ اور اب سولہ برس سے امریکہ اور نیٹو افواج کیا واقعی دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے آئی ہیں ، اور کیا لاکھوں ، کیل کانٹے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس و مسلح امریکی اور نیٹو افواج چار پانچ ہزار طالبان یا دہشت گردوں کو قابو نہیں کر سکتیں ۔ کیا پچھلے دنوں امریکہ نے ببانگ دُہل نہیں کہا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ چین کی کمپنیا ں تو افغانستان میں کاروبار کر کے نفع کمائیں اور ہم لڑتے رہیں ''۔ یعنی بلی کو تھیلے سے باہر لاتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا کہ ہم بھی تو یہاں کی قیمتی معدنیات اور دیگر وسائل میں سب سے بڑا حصہ بٹور نے کے حقدار ہیں کیونکہ ہم سپر پاور ہیں اور حصہ بقدر حبثہ ہونا چاہیئے ۔ یہ سب گریٹ گیمز ہیں ۔۔۔اور گریٹ پاورز گریٹ گیمز کھیلیں لیکن ان کو کم از کم اپنے مفادات کے حصول کے لئے مظلوم و کمزور اقوام کے عوام کو انسان تو سمجھنا چاہیئے ان کو گاجر مولی کی طرح تو نہ کٹوائیں ۔ اب سنا ہے کہ اس وقت میانمار (برما ) میں آرا کھینی مسلمانوں کے خلاف جو انسانیت سوز آپریشن جاری ہے ، اس کے پیچھے بھی گریٹ گیم کے کھلاڑی ہیں ،جزائرملاکا پر اس وقت امریکا قابض ہے اور یہی امریکا یورپ اور ایشیاء کے درمیان بحری تجارت کی اہم بحری شاہراہ ہے ۔ چین کوا س کے بند ہونے کا خطرہ ہے ۔لہٰذا وہ میانمار سے خلیج بنگال اور بحریہ عرب تک سی پیک کی طرز پر پراجیکٹ شروع کرنے کا پروگرام رکھتا ہے اور اس کا نزلہ ارا کھینی مسلمانوں پر گرا ہے ۔ اسی طرح کشمیر یوں اور فلسطینیوں پر جو مظالم ایک صدی سے روا ہیں اس کے پیچھے بھی گریٹ پاور کی گریٹ گیم ہی ہے ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ستاون مسلمان ممالک کے حکمران آخر اس گریٹ گیم کو سمجھ کراس سے نکلتے کیوں نہیں۔ اس کا جواب اس کے سوا کیا ہے کہ بیشتر مسلمان حکمرانوں کے مفادات جبھی تو اس سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے اقتدار کا دار و مدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ گریٹ پاورز کی ہاں میں ہاں ملائیں ورنہ پھر ان کے خلاف کہیں جمہوریت کے نام پر' کہیں انسانی حقوق کے نام پر اور کہیں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ کے استعمال اور رکھنے پر سلامتی کونسل سے کارروائی کی اجازت حاصل کی جاتی ہے۔ لہٰذا دنیا میں مسلمان کٹیں مریں' یہ بے چارے زبانی کلامی بات سے کسی ٹھوس عمل کی طرف کبھی نہیں بڑھ سکتے۔ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ برما کا پڑوسی مسلمان ملک بنگلہ دیش ان مظلوموں پر اپنی سرحدیں بند کرکے شیر خوار اور معصوم بچوں کو دریا کی لہروں کے حوالے کرنے کے ساتھ ان پر فائر بھی کھول دیتا ہے۔ سعودی عرب جو بہت کچھ کرسکتا ہے یمن شام اور قطر وغیرہ کے ساتھ ایسا الجھ گیا ہے کہ اب کہیں اور دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ پاکستان اپنے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ لے دے کر ترکی اور ایران دو ایسے ملک رہ گئے ہیں جو آواز اٹھانے میں اور کچھ کر گزرنے میں پہل کرتے ہیں۔ مالدیپ نے کمال کیا' لیکن پدی کا شوربہ کیا شوربہ ہوگا' لیکن بہر حال نیت اور جذبہ قابل قدر ہے۔ مسلم ممالک کے عوام ان مظلوموں کی مدد کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ دعائیں کر رہے ہیں احتجاج کر رہے ہیں۔ اپنے حکمرانوں پر دبائو ڈالتے ہیں لیکن اوہ! آئی سی اور مسلمان حکمرانوں کے بیدار ہوتے ہوتے ''عراق سے تریاق کے پہنچنے پر مریض کا کیا حال ہوگا'' یہ سب کو معلوم ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اپنی غیبی امداد کے ذریعے دنیا کے مظلوم مسلمانوں اور دیگر اقوام کی مدد فرمائے اور او آئی سی کو توفیق ملے کہ فلسطین' کشمیر اور اراکھین کے مظلوم عوام کے مسائل کو ٹھوس بنیادوں پر حل کروائیں۔ آمین۔

متعلقہ خبریں