آئین کی بالا دستی کے تقاضے

آئین کی بالا دستی کے تقاضے

وطن عزیز میں اس امر پر تو زور دیا جاتا ہے کہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کیلئے تمام قوتیں ملکر کام کریں لیکن اس کیلئے جس کردار و عمل اور کام کی ضرورت ہے اس پر توجہ تو درکنار عملی طور پر آپس میں الجھ جانے کا عمل کم اور کمزور ہونے کی بجائے تقویت پکڑتا جارہا ہے اداروں کا بعض اوقات ایسا کردار اور فیصلہ سامنے آجاتا ہے جس کا دفاع خود ان اداروں کیلئے بھی ممکن نہیں ہوتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز کا بنیادی مسئلہ ہی اداروں کے درمیان عدم ہم آہنگی،غلط فہمیاں اور ایک دوسرے کے کام میں مداخلت ہے۔خاص طور پر سیاست و جمہوریت سے متعلق اداروں میں کھل کر اب اس امر کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہاں پر مداخلت ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے واشگاف الفاظ میں پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی شکایت کی۔جے یو آئی ف کے قائد مولانا فضل الرحمن نے اسٹیبلشمنٹ کے بغیر بدعنوانی ممکن نہ ہونے کے تناظر میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا جبکہ تین مرتبہ وزیراعظم کے عہدے کی مدت پوری نہ کرنے والے سابق وزیراعظم نوا زشریف کی نااہلی کے بعد اب کھل کر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آیا ہمارے قومی اداروں اور سیاسی حکومت کے درمیان عدم ہم آہنگی سنجیدہ مسئلہ نہیں بن چکا؟ خود سیاستدانوں کے درمیان تضادات اور انتشار فکری کا یہ عالم ہے کہ کل جو خوب تھا آج وہ ناخوب ہے اور جو کل ناخوب تھا آج وہ خوب ہے اپنی باری اور اپنے وقت میں ایک قسم کا موقف اختیار کرنا اور دوسرے کا نمبر آنے پر اپنے ہی موقف کے برعکس رویہ رکھنا کیا اس طرح سے ملک میں سیاسی عناصر کی توقیر باقی رہ سکتی ہے۔ جہاں سیاست ایک گالی بنتی جارہی ہے وہاں جمہوری اداروں اور سیاسی معاملات میں قومی اداروں کا کردار مداخلت اور پارلیمنٹ کو عضو معطل بنانے کی شکایات کھلے عام ہونے لگی ہیں ایک ایسے وقت میں جب پاک چین اقتصادی راہداری کے خواب کی تکمیل قوم کی ترجیح اول تھی پہلے پہل سیاسی محاذ آرائی رہی اور بعد ازاں عدالت سے وزیراعظم نااہل ہوگئے جسے سیاسی معاملات میں غیر سنجیدگی اور وقت کا غلط انتخاب ہی نہیں کہا جاسکتابلکہ اس پر تنقید روا ہے لیکن عدالتی فیصلے کے حوالے سے یہ بھی مناسب نہیں بلکہ اس کی گنجائش ہی نہیں اگر معاملات صرف اسی نہج تک رہتے تو ایک مرتبہ پھر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر توجہ ممکن تھا مگر اب سابق وزیراعظم نواز شریف عوامی طاقت دکھانے کی راہ پر چل نکلے ہیں۔خدا خدا کرکے ان کا قافلہ کامیابی سے لاہور پہنچے تو لاہور میں ان کی خالی کردہ نشست پر انتخاب کو ایک حلقے میں ضمنی انتخاب نہیں بلکہ ملکی سطح پر عام انتخابات سے زیادہ اس کو ہر سطح پر اہمیت دی جاتی رہے گی۔ دو ماہ کا عرصہ اسی میں گزر جائے گا پھر سینیٹ کے انتخابات کی تیاریاں ہوں گی جس کے بعد آئندہ عام انتخابات کے لئے تیاریوں اور جوڑ توڑ کا مرحلہ شروع ہوگا۔ اس دوران سیاسی فضا کے مکدر ہونے کا جاری حالات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پھر نگران حکومتیں بنیں گی۔ اس کے بعد عام انتخابات کا انعقاد اور جیتنے والی جماعت یا جماعتوں کی چاروں صوبوں اور مرکز میں حکومت سازی ہوگی اور نئی حکومت کے قیام کے سال چھ ماہ بھی سطحی سے گزریں گے۔ اس طرح کے حالات سے ہم پہلی بار ہی نہیں گزررہے ہیں بلکہ یہ ہمارا قومی وتیرہ بن چکا ہے۔ وطن عزیز میں ریت کے گھروندوں کی طرح بننے والی حکومتوں کے آنے اور رخصتی سے پالیسیوں میں تسلسل ہو نہیں پاتا۔ یکے بعد دیدگرے آنے والی حکومتوں ' مارشل لاء جیسی حکومتوں یا پھر ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے قیام کی مساعی جیسے معاملات کے تسلسل کے باعث وطن عزیز میں سیاسی و حکومتی استحکام نہیں آتا۔ ہمارے تئیں ملک میں عدم استحکام کی دیگر وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ غیر یقینی مدت کے لئے آنے والی حکومتیں بھی ہیں جو اقتدار اور حکومت کو عارضی جاننے کے باعث ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی بجائے ڈنک پٹائو قسم کی پالیسیاں اختیار کرتی ہیں اسی طرح کے ماحول میں بد عنوانیوں کا ارتکاب بھی عجب نہیں۔ اگر ہمیں من حیث المجموع اس صورتحال سے نکلنا ہے تو سب سے پہلے ملک میں مستحکم حکومت کے قیام کے لئے ملک کے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ ملکی ادارے اور حکومت علیحدہ علیحدہ چیزیں نہیں اور نہ ہی جدا جدا پالیسیاں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ حکومت سارے اداروں کو ملا کر اور سارے اداروں کی فعال اعانت سے ہی چل سکتی ہے اور کامیاب ہو سکتی ہے۔ جب ہر ادارے کے دائرہ کار میں اصول و نظم و ضبط ہوں گے تو نہ تو وہ ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کریں گے اور نہ ہی کمزور نظم کے باعث بدعنوانی کا ارتکاب اور اس کے مواقع آسان ہوں گے۔ ہمارے تئیں اس مقصد کے لئے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالا دستی کے لئے تمام قوتوں کو مل کر کام کرنا پڑے گا اور وہ تمام خلیج اور دوریاں دور کرنے کی ضرورت ہوگی جو اب تک مشکلات اور مسائل کا باعث چلے آرہے ہیں۔ جب تک ہمیں اس امر کاسنجیدگی سے احساس نہ ہوگا اور ہم اس پر پوری طرح توجہ نہیں دیں گے اس کی نشاندہی اور بحث و مباحثہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں