الزام تراشی کا نہ رکنے والا افسوسناک سلسلہ

الزام تراشی کا نہ رکنے والا افسوسناک سلسلہ

عین اسی روزجب قومی اسمبلی میں فاضل خاتون رکن اسمبلی کااپنے سابق پارٹی لیڈر پر الزام تراشی کے بعد پہلا خطاب تھا اسی جماعت کے رکن قومی اسمبلی کا ایک این جی او چلانے والی خاتون صحافی کے ساتھ گرما گرمی اور الزام تراشی کی نوبت کاافسوسناک واقعہ عدم برداشت کامظہر ہے یا پھر ایسا کرنے والے عناصر کو اس طرح کی صورتحال سے تکلیف نہیں ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کی صورتحال ایسے عناصر کے لئے تکلیف دہ ہو نہ ہو عوام اور معاشرے کے لئے نہایت تکلیف دہ عمل ہے۔ اس طرح کی صورتحال گھروں میں بیٹھی خواتین کے لئے بھی تضحیک کا باعث ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہی بھائی اور باپ سے نظریں ملا نہیں سکتیں جب ٹی وی سکرین پر الزامات و جوابی الزامات کا دور چل رہاہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس عمل میں الیکٹرانک میڈیا کا بھی برابر کا حصہ ہے جو تکرار کے ساتھ الزامات کاعمل دہرا کر حصہ دار بنتے ہیں۔ میڈیا کے اس کردار پر سنجیدہ طبقے میں تشویش کااظہار فطری عمل ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں جن معاملات کے بارے میں اشارتاً بھی بات کرنے کی گنجائش نہیں ہوا کرتی تھی آج میلے کپڑے گلی میں سر عام دھونے کو برا نہیں سمجھا جاتا اور اس کا ہمیں احساس تک نہیں۔ میڈیا کا عوام کی رہنمائی اور اصلاح کی بجائے برائی کو فروغ دینے کاکردار نبھانا معاشرتی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ ناظرین کو متوجہ کرنے کی دوڑ میں ٹی وی چینلز ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرنے اور معروضیت کی پامالی پر تلے ہیں اس طرح سے وہ وقتی اور جذباتی ناظرین کو تو متوجہ کرسکتے ہیں مگر اس طرح سے وہ سنجیدہ ناظرین کو کھودیں گے جو اصل اور مستقل ناظرین سمجھے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس طرح کے کرداروں کا تذکرہ کبھی بھی اچھے لفظوں میں نہیں کیاجاتا جو از خود کسی ایسے فعل سے اجتناب کی سعی نہ کرے جس سے ذرا سی برداشت سے کام لے کر بچنا مشکل نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین' اساتذہ 'علماء اور میڈیا کے سنجیدہ عناصر کو اس صورتحال میں دریا کے بہائو کی جانب بہنے کی بجائے اصل اور درست صورتحال کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کا اپنا فریضہ نبھانا چاہئے۔ اصلاح معاشرہ اور برداشت کی تلقین مشکل کام نہیں البتہ اپنے آپ کو اس سے روکنا مشکل کام ضرور ہے۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وقت گزرنے کے ساتھ یہ سب لا حاصل اور کار عبث بن کر سامنے آئے گا۔ اس وقت افسوس بھی ہوگا مگر بے سود۔ بہتر ہوگا کہ اس طرح کی صورتحال سے سیاسی جماعتوں کے قائدین سے لے کر کارکنان تک سبھی احتراز کریں اور خاص طور پر حکومتی عناصر اور ارکان اسمبلی ایسا کوئی فعل انجام نہ دیں اور کوئی ایسا بیان جاری نہ کریں جو موزوں اور مناسب نہ ہو۔ اس طرح کی صورتحال میں مصلح در گزر اور صرف نظر کرنے والے ہی کامران ٹھہرتے ہیں۔ اس کردار کی ادائیگی پر توجہ اور عمل کی ضرورت ہے۔
اقلیتی برادری کو احتجاج سے روکاجائے
خیبر پختونخوا کی اقلیتی برادری کے نمائندوں کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر مسائل کے حل اور حقوق طلبی کے لئے لانگ ما رچ اور احتجاج کی دھمکی کا وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں کو نوٹس لینا چاہئے اور اپنے اپنے دائرہ کار میں آنے والے مسائل و معاملات کے حل کے لئے مرکزی اور صوبائی حکومت دونوں کو متوجہ ہونا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اقلیتی برادری کے مسائل و مشکلات بھی دیگر لوگوں کے مسائل سے مختلف نہیں البتہ ان کو اپنے معابد کی تعمیر و مرمت کچھ رسومات کی ادائیگی اور اس کے لئے انتظامات و سہولیات کے حصول کی ضرورت پڑتی ہے جس پر متعلقہ محکمے توجہ دیں تو ان کو دور کرنے کے لئے زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جہاں تک ملازمتوں اور دیگرعوامی مسائل کا تعلق ہے اس میں اقلیتی برادری کو خود کو معاشرے سے الگ تھلگ نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ ہر پاکستانی کامسئلہ ہے اور اقلیتی بھائی بھی اسی طرح پاکستانی شہری ہیں جس طرح کوئی اور ہیں پھر بھی ان کو خصوصی مراعات کے طور پر مختلف قسم کی سہولیات اور کوٹہ دیا گیا ہے جس پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو اقلیتی برادری کے نمائندوں سے رابطہ کرکے ان کے تحفظات کو دور کرنے میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اور ان کو اسلام آباد جا کر مارچ کرنے سے روکنے کی نرمی اور یقین دہانی کرکے سعی کرنی چاہئے۔ اقلیتی برادری کے مظاہرے کو روکنے کی سنجیدہ سعی اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں پہلے سے ہی اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنے کا باہر کی دنیا میں پروپیگنڈہ ہوتا رہا ہے علاوہ ازیں یوم آزادی کے موقع پر ان کے مظاہرے کو دوسرے معنی پہنانے کا عنصر بھی موجود ہے۔اقلیتی برادری کے نمائندوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یوم آزادی کے موقع پر کوئی ایسی سرگرمی سے اجتناب کرے جو ملک و قوم کے حوالے سے منفی تاثرات کا باعث ہو۔

متعلقہ خبریں