نواز شریف کی نااہلی اور 6الزامات

نواز شریف کی نااہلی اور 6الزامات

نواز شریف سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد مسلسل یہ بات دہرارہے ہیں کہ انہیں فخر ہے کہ ان کو کرپشن کے الزام میں نااہل قرار نہیں دیاگیا بلکہ ان کی معمولی سی بے ضرر سی غلطی ان کی نااہلی کاسبب بنی۔ اس طرح کی باتیں کرکے دراصل نواز شریف اپنے ماتھے پر لگے سیاہی کے داغ کو چھپانے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس قسم کے بیانات دے کر وہ اپنے صادق و امین نہ ہونے کے الزام کو مزید مستحکم کررہے ہیں ،کیونکہ میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ لندن میں ان کے فلیٹس اور برطانیہ کے ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ان کی آف شور کمپنیاں زمین سے نہیں اْگیں ، ان کی خریداری کے لیے رقم پاکستان ہی سے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی گئی تھی ،ظاہر ہے کہ دولت کے انبار جمع کرنے والا اور اپنی آمدنی کوچھپانے والا شخص کسی بھی طرح صادق و امین نہیں ہوسکتا۔نواز شریف اپنی نااہلی کے خلاف اپیل میں جاتے ہیں یا نہیں اور اگر اپیل میں گئے تو ان کے وکلا اس کیس پر نظر ثانی کی کیا وجوہات پیش کریں گے اوران کی اپیل پر عدالت کیا فیصلہ کرے گی، قطع نظر اس کے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اب اگر عدالت عظمیٰ اپنے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے تمام الزامات سے بری بھی کردے توبھی 6 سوال ہمیشہ نواز شریف کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ان 6 الزامات میں سب سے پہلا الزام لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فیئر میں واقع ان کے 4 فلیٹوں کی ملکیت کاہوگا ،پاناما پیپرز کے مطابق یہ فلیٹ نواز شریف کی آف شور کمپنیوں نیلسن انٹرپرائز لمیٹیڈ اور نیسکول لمیٹیڈ کی ملکیت ہیں اور نواز شریف کے بچے حسن ، حسین اور مریم اس کی بینی فیشریز ہیں۔پاناما پیپرز سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران نواز شریف ان فلیٹوں کی ملکیت کو تسلیم کرچکے ہیں لیکن ان فلیٹوں کے لیے رقم کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔اس طرح ان فلیٹوں کے لیے رقم کے حصول کامعاملہ اب بھی حل طلب ہے۔دوسرا الزام حدیبیہ پیپر ملز کے بارے میں ہے ،سیاسی حلقے اور خاص طورپر نواز شریف کے قریبی حلقوں کاکہناہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد ابتدا میں یہ فیصلہ کیاگیاتھا کہ شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیر اعظم بناکر شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کیاجائے گا لیکن بعد میں ان کے مشیروں نے انہیں باور کرایا کہ اگر عدالت میں ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور دیگر مقدمات کی تیزی سے سماعت شروع ہوئی تو شہباز شریف بھی نااہل قرار دیے جاسکتے ہیں اور اس میں حدیبیہ پیپر ملز کا اصل کردار ہوگا کیونکہ کہایہ جاتاہے کہ منی لانڈرنگ کابیشتر کاروبار حدیبیہ پیپر ملز کے ذریعے ہی کیاگیاہے، اور منی لانڈرنگ کا یہ مقدمہ پاناما پیپرز کے سامنے آنے سے بہت پہلے کاہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیاتھا جب پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کاتختہ اْلٹ کرحکومت سنبھالنے کے بعد مسلم لیگ کے بعض مقتدر رہنما ؤں کو جیل بھیج دیاتھا کہاجاتاہے کہ ان میں سے بعض رہنما ؤں نے رہائی حاصل کرنے کے لیے نواز شریف کی بدعنوانیوں کاپردہ چاک کیاتھا اور بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کیے جانے کے حوالے سے انکشافات کیے تھے۔ان انکشافات کے بعد پوچھ گچھ کے دوران موجودہ وزیر خزانہ اور نواز شریف کے دست راست اسحاق ڈار نے نہ صرف یہ کہ منی لانڈرنگ کی تمام تفصیلات فراہم کی تھیں بلکہ اپنی جان بچانے کے لیے اس مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بھی بن گئے تھے۔نواز شریف کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے2014 میں اگرچہ یہ مقدمہ ختم کردیاتھا لیکن اب سپریم کورٹ نے یہ کیس دوبارہ کھولنے کاحکم جاری کیاہے۔

تیسرا الزام جبری گمشدگی کاہے اگرچہ یہ صحیح ہے کہ حکومتوں پر بعض اوقات ایسے الزامات بھی عاید کیے جاتے ہیں جو انہوں نے نہیں کیے ہوتے ۔ لیکن نواز شریف نے یہ سلسلہ رکوانے کے لیے بھی کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور آج بھی ملک کے مختلف علاقوں اور خاص طورپر بلوچستان میں درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کرتے اور عدالتوں میں دھکے کھاتے نظر آتے ہیں۔چوتھا الزام ماڈل ٹا ؤن میں عوامی تحریک کے کارکنوں کے قتل اور ان پر بہیمانہ تشدد کاہے،پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری ابتدا ہی سے اپنے 14 کارکنوں کے خون کاحساب لینے تک نہ بیٹھنے کے عہد کااظہار کرتے رہے ہیں اور اب جبکہ شریف برادران مشکلات کاشکارہیں اور عدالتیں قدرے آزادی کے ساتھ فیصلے دے رہی ہیں وہ ایک دفعہ پھر اس مسئلے کی پیروی کے لیے پاکستان آچکے ہیں ، اور عین ممکن ہے کہ وہ اس مقدمے کی از سرنو سماعت شروع کرانے اور کسی عدالتی کمیشن کے ذریعے اس واقعے کی تحقیقات کرانے کامطالبہ تسلیم کرانے اور اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کی اپنی نگرانی میں تفتیش کرانے کی ضرورت پر قائل کرنے میں کامیاب ہوجائیں، اس لئے یہ مقدمہ شریف برادران کے گلے میں ہڈی بن کر اٹک سکتاہے۔ پانچواں اور سب سے زیادہ سنگین الزام دہشت گردوں اور فرقہ پرست گروپوں کی سرپرستی کرنے اور ان کومحفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے میں مدد دینے کاہے۔نواز شریف پر چھٹا الزام اپنے چہیتے سینیٹر نہال ہاشمی کے ذریعہ جے آئی ٹی کے ارکان کو دھمکیاں دلوانے کاہے اگرچہ نواز شریف نے اس کی بھرپور تردید کی ہے لیکن کہنے والے اس بات پر مصر ہیں کہ نواز شریف کی بھرپور آشیر واد کے بغیر کوئی بھی شخص خاص طورپر ایک معتبر وکیل جو قانون کی اونچ نیچ سے پوری طرح باخبر ہے اس طرح کی بات نہیں کرسکتا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف اپنے چہرے پر سجے ان 6داغوں کو دھونے اور اپنا چہرہ صاف کرنے کے لیے کیاحکمت عملی اختیار کرتے ہیں ، اور عدالت حدیبیہ پیپرملز اور ماڈل ٹا ؤن کے واقعے کے حوالے سے کیا فیصلہ دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں