سیاست ، میڈیا اور غریب عوام

سیاست ، میڈیا اور غریب عوام

میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور دنیا کے تمام مہذب اور جمہوریت پسند معاشروں میں میڈیا کا کردار بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ میڈیا لوگوں کی سوچ پر اثر انداز بھی ہوتا ہے چاہے وہ منفی انداز میں ہو یا مثبت۔ اس طرح میڈیا پراپیگنڈے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جس سے بہت سے معاشروں کی سوچ کا رخ بدلا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف نے آزاد الیکٹرانک میڈیا کی داغ بیل ڈالی جس سے پہلے صرف ایک سرکاری ٹی وی چینل ہوتا تھا جس پر حکومتی نظریات کے مطابق خبریں نشر کی جاتی تھیں اور اکثر اوقات عوام کو حقیقی حالات سے بے خبر رکھا جاتاتھا۔ جہاں میڈیا کو کام کرنے کی آزادی دی گئی ہے وہاں میڈیا کا بھی فرض بنتا ہے وہ ہر خبر کی جانچ پڑتال کرکے اسے نشر کرے اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرے۔ مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ میڈیا ملکی سیاست کے علاوہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات جیسے حساس معاملات بھی زیرِ بحث لاتا ہے ۔ اس لئے میڈیا میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ ملک کی اندرونی صورتحال کو دیکھا جائے تو میڈیا حکومت اور سیاسی منظر نامے کی تصویر کشی کرتا ہے جبکہ بیرونی تعلقات کے معاملے میں پاک بھارت تعلقات ، مسئلہ کشمیر، پاک افغان خارجہ پالیسی ، خطے میں امریکہ کا کرداراور ایران ، سعودی عرب اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو زیادہ تر موضوعِ بحث بنایاجاتا ہے۔ لیکن بطورِ ایک عام پاکستانی شہری ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہمار امیڈیا ملک میں خطِ غربت سے نیچے رہنے والے کروڑوں لوگوں کے مسائل کے بارے میں سیاسی مباحثے کا آغاز کیوں نہیں کرتا ؟ کیا ہمارے میڈیا پر غربت سے متعلق پری بجٹ مباحثہ سننے میں آیا ہے ؟ کیا ہمارے ملک کی سیاسی جماعتیں ملک سے غربت کے خاتمے ، بھوک اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر لڑتی دکھائی دی ہیں ؟ ملٹی ڈائی مینشنل پاورٹی انڈیکس رپورٹ 2015-2016 ء کے مطابق تقریباً 39 فیصد پاکستانی ملٹی ڈائی مینشنل(کثیرا لجہتی) غربت کا شکار ہیں ۔ ملٹی ڈائی مینشنل یا کثیرا لجہتی غربت انسانوں کو صحت ، تعلیم اور معیارِ زندگی کے پیمانوں پر جانچنے کا طریقہِ کار ہے ۔

غربت کے خاتمے کے لئے اقدامات کے حوالے سے سیاسی جماعتیں بامعنی اصلاحات یا اقدامات کی بجائے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، دانش سکول سسٹم یا وزیرِ اعلٰی پنجاب کی کسان لون سکیم جیسے خیراتی پراجیکٹس کے ذریعے سیاسی مفاد ات حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔اگرچہ یہ پراجیکٹس حکومتوں کی جانب سے کئے جانے والے مثبت اقدامات میں سے ایک ہیں لیکن ان پراجیکٹس سے طویل المیعاد فوائد حاصل نہیں کئے جاسکتے۔مثال کے طور پر اگر پنجاب میں حکومت تبدیل ہوجاتی ہے اور نئی حکومت موجودہ حکومت کاچھوٹے کسانوں کو قرضہ دینے کا پراجیکٹ ختم کردیتی ہے تو کسانوں کا پرسانِ حال کون ہوگا؟ اس کے علاوہ ایسے پروگراموں کے فوائد اور اثرات پر بھی کوئی تحقیق نہیںکی جاتی جس سے ان پروگراموں کی موزونیت کو جانچا جاسکے۔اگر غربت کے خاتمے کی منصوبہ بندی کو دیکھا جائے تو وفاقی وزیربرائے پلاننگ ، ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم اپنی کئی تقریروں میں بتا چکے ہیں کہ ملٹی ڈائی مینشنل غربت کا خاتمہ پاکستان کے وژن 2025ء کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز ایجنڈہ 2030ء کی بنیاد بھی ہے لیکن ہم سب یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان دعوئوں کا حقیقت سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ اگر پلاننگ اور ڈیویلپمنٹ فنڈز کی بات کی جائے تو ان فنڈز کا استعمال صرف انفراسٹرکچر کھڑا کرنے تک ہی محدود ہے۔ تعلیم کے بجٹ کااستعمال نئے سکول بنانے اور سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی تک محدود ہے، صحت کے بجٹ کا استعمال تیسرے درجے کے ہسپتالوں کی تعمیر تک محدود ہے جبکہ سپورٹس کا بجٹ صرف سٹیڈیمز کی تعمیر اور ان کی دیکھ بھال پر خرچ کیا جاتا ہے ۔یہ اخراجات ضرورکئے جانے چاہئیں لیکن ان تعمیرات تک انسانوں کی رسائی اور ان سے فوائد حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کو بھی ترجیج ملنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ، مذکورہ تعمیرات بھی ٹھیکوں کے ذریعے کی جاتی ہے حالانکہ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو ان تعمیرات کے ذریعے ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب ہمارا میڈیا صرف اس وقت سماجی مسائل کی جانب توجہ دیتا ہے جب کسی کو انتہائی بے دردی سے زندہ جلا دیا جاتا ہے یا کسی آٹھ سالہ گھریلو ملازم پر بے تحاشہ تشدد کیا جاتا ہے۔ جب تک ایسی کوئی سنگین صورتحال سامنے نہ آئے تب تک میڈیا سمیت کوئی بھی شخص ، ادارہ اور حکومت سماجی مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ بطورِ قوم ہمیں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے خاموش تماشائی بننے کی بجائے ایک پریشر گروپ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاسی مباحثوں کا محور انسانیت کی خدمت اور غریب عوام کی زندگی میں بہتری لانے کی کوششیں ہونا چاہیے نہ کہ نان ایشوز پر لڑنا اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا۔ جب تک مناسب تحقیق اور اعدادوشمار کی بنیاد پر جامع منصوبہ بندی نہیں کی جاتی، ہمارے سیاسی قائدین عوام سے کئے گئے وعدے اسی طرح توڑتے رہیں گے اور غربت کا خاتمہ حکومت اور میڈیا کی ترجیحاتی فہرست میں جگہ بنانے میں ناکام رہے گا۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں