ایک پٹھان کی داستان سرائی

ایک پٹھان کی داستان سرائی

آ ج کل بیک وقت دو کتابیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایک ریمنڈ ڈیوس کی دی کنٹریکٹر ہے جو ہمارے دوست' عتیق احمد صدیقی نے ہمیں عنایت کی ہے۔ انہوں نے کتاب کے بعض اہم حصوں پر نہایت ہی بھرپور تبصرے لکھے جس کے تاثر میں ہم نے انہیں دی کنٹریکٹر کے ترجمے کی درخواست کی ہے۔ دیکھتے ہیں وہ کب ہمارے مشورے پر عمل کرتے ہیں۔ دوسری کتاب A Pathan odyssey غازی الرحمن قلندر نے گفٹ کی ہے۔ یہ وطن عزیز کی سیاست کے ایک نہایت ہی اہم کردار محمد اسلم خان خٹک کی خود نوشت ہے۔ انہوں نے اپنی نوے سالہ طویل زندگی میں بر صغیر کی تاریخ کا نہایت ہی قریب سے مطالعہ کیا اورپھر اپنے تجربات کو خود نوشت میںمحفوظ کرلیا۔

اسلم خان خٹک اس وقت کے صوبہ سرحد میں ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنر مقرر ہوئے۔ زراعت' تعلیم اور اطلاعات کے محکمے ان کے ماتحت تھے۔ تینوں حیثیتوں میں ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ ریڈیو جیسے کہ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں ہمیشہ سے ہماری دلچسپی کا شعبہ رہاہے۔ چنانچہ ہم نے اسلم خان خٹک کی خود نوشت میں وہ حصے زیادہ توجہ سے پڑھے جن میں انہوں نے پشاور میں ریڈیو سٹیشن کے قیام کے لئے اپنی کاوشوں کا ذکر کیا ہے۔ ہم اس دلچسپ روداد کے کچھ حصے اپنے قارئین کے ساتھ شریک کرنا چاہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ مارکونی نے سابقہ صوبہ سرحد کے لئے ایک ریڈیو ٹرانسمیٹر تحفے میں دیا۔ بتاتے چلیں کہ اسلامیہ کالج کے بانی نواب زادہ عبدالقیوم جنہیں بجا طور پر سر سید سرحد کہا جاتا ہے جب برطانیہ کے دورے پر گئے تو انہوں نے مارکونی سے اپنے صوبے کے لئے ٹرانسمیٹر کے تحفے کے لئے کہا تھا۔ ٹرانسمیٹر کی تنصیب کا کام اسلم خان خٹک کے سپرد ہوا۔ وہ لکھتے ہیں یہاں کی انتظامیہ کے بیشتر برٹش آفیسرز اس کے حق میں نہ تھے ۔ اس وقت کے کمشنر کرنل نوئیل نے مجھے بطور خاص اس منصوبے کے مخالفین پر نظر رکھنے کے لئے کہا تھا۔ ٹرانسمیٹر کی تنصیب کے لئے انگریز انجینئر پشاور آئے۔ انہوں نے اپنا کام مکمل کیا اور گورنر کی ہدایات پر میں نے دیہات کے حجروں کے لئے بے شمار ریڈیو سیٹ خریدے۔ پشاور سول سیکرٹریٹ کے احاطے میں میرے دفتر کے پہلو میں ایک مختصر کمرے سے نشریات کا آغاز ہوا جن میں ڈرامے' موسیقی کے پروگرام اور مختلف موضوعات پر تقاریر شامل تھیں۔ نشریات کا ماسٹر سوئچ میرے کمرے میں نصب تھا جس کے ذریعے کسی وقت بھی کوئی پروگرام بند کیا جاسکتا تھا۔ ہم نے نہایت ہی کم بجٹ میں کرنل نوئیل کی اہلیہ کی نگرانی میں مغربی موسیقی کا پروگرام بھی شروع کیا جو نہایت کم عرصے میں برٹش اور اینگلو انڈین میں کافی مقبول ہوگیا ۔ ایک روز مجھے اطلاع ملی کہ پرنس آف ویلز جو بعد میں کنگ ایڈورڈ ہشتم کے نام سے برطانیہ کے بادشاہ بنے وہ شاہی سلطنت کی سالگرہ کے موقع پرتقریر نشر کریں گے۔ اس موقع پر میں نے انگریز خاندانوں کے لئے سول سیکرٹریٹ کے لان میں ضیافت کا اہتمام کیا اور حجروں میں موجود ریڈیو سیٹ درست رکھنے کے لئے خصوصی احکامات صادر کئے۔ شہزادے نے تقریر شروع کی ان کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی میں نے ان کے خطاب کا فوری طور پر اردو اور پشتو میں ترجمہ بھی نشر کردیا۔ خطاب کے ختم ہونے پر مجھے فون پر St,james palace سے بات کرنے کے لئے کہاگیا۔ ان دنوں لندن سے فون آنا بہت بڑا وقوعہ تھا سب لوگ میرے کمرے میں اکٹھے ہوگئے۔ شہزادے کی آواز آئی' پشاور' شب بخیر'پھر انہوں نے پوچھا میری تقریر کیسی رہی؟ میں نے جواب میں کہا' حضور والا بہت خوب' لوگوں نے بہت پسند کی۔ ہم نے اس کا اردو اور پشتو میں ترجمہ بھی نشر کردیا ہے۔ شہزادے نے شکریہ اور شب بخیر کہا۔ تمام لوگوں نے نعرہ تحسین بلند کیا اور مجھ سے بغلگیر ہونے لگے۔ ہزرائیل ہائی نس سے بات کرنے پر میں بہت اہم بن گیا تھا۔ اس وقت کے مولوی صاحبان اور قوم پرست حلقوں نے ہماری ریڈیو نشریات کی شدید مخالفت کی۔ مولویوں نے ریڈیو کو کافروں کا شیطانی آلہ کہا اور قوم پرستوں نے تحریک آزادی کے خلاف سازش قرار دی۔ اس مخالفانہ پروپیگنڈے کے جواب میں ہم نے ریڈیو پروگرام کے آغاز میں تلاوت کلام نشر کرنے کا اہتمام کیا اور اس وقت کے جید علماء اسلامی موضوعات پر تقریریں کرنے لگے۔ رحمان بابا کا صوفیانہ کلام ستراویں صدی کے انقلابی شاعر خوشحال خان خٹک اور علامہ اقبال کا کلام بھی پیش کیاجانے لگا۔ اب مجھے ایک نئے قضیے کاسامنا تھا۔ غیر ضروری طور پر متحرک خفیہ ایجنسی نے علامہ اقبال کے کلام کا بطور خاص نوٹس لیا۔ سی آئی ڈی کے ایک انگریز اہلکار نے کہا کہ ریڈیو سے علامہ اقبال کی شاعری کے ذریعے لوگوں کو انقلاب کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔ میں نے جواب میں کہا' مجھے قطعاً اس بات کاعلم نہ تھا کہ بے ضرر موسیقی سے تاج برطانیہ کو کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد سی آئی ڈی والے خاموش ہوگئے۔ ریڈیو کے شعبے میں بہترین کارکردگی کے نتیجے میں اسلم خٹک لکھتے ہیں کہ آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل فیلڈن نے مجھے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کی پیشکش کی جسے میں نے قبول نہیں کی اور اس کی جگہ انڈین فارن کمرشل سروس میں چلا گیا۔ اسلم خان خٹک نے 1936ء میں ''دوینو جام ''کے نام سے پشتون معاشرے میں قتل مقاتلے کے موضوع پر ایک ڈرامہ تحریر کیا جو بقول ان کے ریڈیو سے نشر بھی ہوا۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اس پر آئندہ کسی نشست میں بات ہوگی۔

متعلقہ خبریں