جس کی لاٹھی اس کی بھینس

جس کی لاٹھی اس کی بھینس

باکمال و باہنر لوگ ہی قیادت کے اہل ہوتے ہیں اقبال نے صداقت، شجاعت اور عدالت کا سبق پڑھنے کی بات کی تھی۔ ان کے نزدیک ایک رہنما میں ان صفات کا ہونا بدرجہ اتم ضروری تھا آج اپنے قومی رہنمائوں کی آپس کی چپقلش اور کھینچا تانی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے حمام میں سارے ہی ننگے ہیں جو بڑے میاں ہیں وہ اپنی ہانک رہے ہیں اور چھوٹے میاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں بس ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہے کیچڑ اچھالنا ہے اگر نشانہ خطا جاتا ہے اور ہاتھ گندے بھی ہوجائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ آج کی سیاست کا انداز ہی یہی ہے عجیب و غریب قسم کے القابات سے ایک دوسرے کو نواز ا جارہا ہے۔ اخلاق کس چڑیا کا نام ہے' ایفائے عہد کسے کہتے ہیں' مروت کیا ہے ؟ میڈیا نے سب کو کھلا میدان دے رکھا ہے ٹی وی کی کھڑکی میں بیٹھ کر جو دل چاہے کہیے ہر آتے جاتے پر طنز کے تیر برساتے جائیے فکر کی کوئی بات نہیں ہے کہ آج کی سیاست کا یہی چلن ہے۔ میاں صاحب کو سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا تو انہوں نے جی ٹی روڈ کا رخ کیا تاکہ عوام کے سامنے اپنا کیس پیش کریں عام آدمی کے ساتھ اپنا دکھ درد بانٹیں!لیکن جب وہ صاحب اختیار تھے تو اس وقت ان کے پاس عام آدمی کے لیے اتنا وقت کہاں تھا؟اب تو اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ سیاست کے کھیل میں جھوٹ اور وعدہ خلافی بڑی عام سی باتیں ہیں۔رہنمائوں کی باتوں کا شمار تو اقوال زریں میں ہونا چاہیے۔ماضی قریب کے بہت سے رہنما ایسے بھی ہیں جن کی باتوں کے حوالے دیے جاتے ہیں ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے ان کے علم اور تجربے سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے! اس وقت ایک مثال ذہن میں آرہی ہے۔ عربوں میں ایک لیڈر گزرا ہے عامر بن الظرب العدوانی ! یہ اپنی ذہانت ، فصاحت و بلاغت کی وجہ سے بہت مشہور تھا اس کا مشہور قول ہے : دانش سو جاتی ہے مگر تمنا بیدار رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ تمنا دانش پر غالب آجاتی ہے ! آج ہم دیکھتے ہیں کہ خواہشات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں والی بات ہے مال و دولت کی خواہش کے ساتھ ساتھ حکمرانی کی خواہش کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے یہ وہ نشہ ہے جس نے آج ہر قاعدے اور قانون کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ عامر بن الظرب کی باتیں دل کو چھونے والی ہیں وہ کہتا ہے کہ جو چیز جس کے لیے لکھی گئی ہو وہ اس کے پاس ضرور پہنچتی ہے بہت سے لوگ اپنے لیے بوتے ہیں مگر کاٹنے والا کوئی اور ہوتا ہے اگر نصیب کی تقسیم آبائو اجداد کو برکنار رکھ کر نہ ہوئی ہوتی تو بعد میں آنے والے لوگ پہلے آنے والوں سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکتے جس سے وہ اپنی زندگی گزار لیں لیکن جس خدا نے بارش نازل کی ہے اسی نے چراگاہ بھی اگا دی ہے اورپھر ہر منہ کے کھانے کے لیے سبزی اور پانی گھونٹ گھونٹ کرکے تقسیم کردیا ہے۔میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے تو اس کی دھیمی سی آواز کو بھی سن لیا ہے اور اس کے راز کو پالیا ہے جو بھی وضع کی ہوئی چیز دیکھی اس کے بارے میں یہی معلوم ہوا کہ وہ کسی کی بنائی ہوئی ہے اور جس بھی آنے والے کو دیکھا اسے داعی پایاہے جس کسی کو غنیمت کا مال لوٹتے دیکھا وہ ناکام بھی نظر آیا اور جو نعمت بھی دیکھی تو اس کے ساتھ مصیبت بھی جلوہ گر پائی !جو شخص کسی چیز کی تلاش میں ہوتا ہے اسے پالیتا ہے! وہ اپنی قوم کا سردار تھا جب وہ بوڑھا ہوگیا اور قوم کو اس کے مرنے کا خطرہ لاحق ہوگیا تو اکٹھے ہو کر اس کے پاس آئے اور کہا: تو ہمارا سردار ہے ہمارا نمائندہ ہے اور مرد شریف ہے لہٰذا کوئی ایسا شخص مقرر کردے جو تیرے بعد شریف سردار اور معتبر بنے! عامر نے جواب دیا اے میری قوم! تم نے حد سے زیادہ مشکل کام میرے سپرد کر دیا ہے اگر تم نے مجھے شریف بنایا تھا تو میں نے بھی تمہیں اپنی ذات میں یہ خوبی دکھادی تھی اب میرے جیسا شخص تمہیں کہاں ملے گا میں جو کچھ تم سے کہہ رہا ہوں اسے اچھی طرح سمجھ لو اگر کوئی شخص حق اور باطل کو یکجا کرنا چاہے تو یہ اس کے لیے اکٹھے نہ ہو سکیں گے اس شخص کے لیے باطل بہتر ہوگا حق ہمیشہ باطل سے اور باطل حق سے بھاگتارہا ہے۔ اے میری قوم! کسی کی ذلت پر خوشی نہ منائو اور اپنی عزت پر زیادہ خوش نہ ہو۔محتاج آدمی ہر قسم کی زندگی مالدار کے ساتھ گزار ہی دیتا ہے جو شخص کسی کو کوئی دن دکھائے گا وہ خود بھی اسی قسم کے دن میں دیکھا جائے گا ۔ ہر بات کا جواب تیار رکھو۔ ندامت حماقت کی رفیق ہے سزا ایک قسم کی عبرت ہوتی ہے اس میں حیا اور مذمت کا خوف پایا جاتا ہے انجام کار غلبہ اوپر والے ہاتھ کا ہوتا ہے۔ قصاص میں ایسی راحت ہے جو نہ تمہارے خلاف ہے نہ تمہارے حق میں! کثریت کا رعب ہوتا ہے اور صبر کا غلبہ ہوتا ہے!یہ ساری باتیں اسی وقت کی جاسکتی ہیں جب اپنی قوم کی بہتری و بھلائی مقصود ہو لیکن جب خواہشات کا ایک سرکش جوار بھاٹا چاروں طرف سے امڈ امڈ کر آرہا ہو' ذاتی مفادات کے حصول کی تگ و دو زندگی کا مقصد ہو تو پھر وہی کچھ دیکھنے میں آتا ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہماری منصوبہ بندیوں میں ہرچیز شامل ہوتی ہے سوائے موت کے !جب موت جیسی عظیم حقیقت کو فراموش کردیا جائے تو پھرکہاں کے حقوق اور کہاں کے فرائض؟ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات ہوتی ہے۔