خواجہ آصف کی تنہا پرواز؟

خواجہ آصف کی تنہا پرواز؟

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے اپنے عہدے کا حلف اُٹھانے کے بعد سیالکوٹ میںمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اور بھارت سمیت خطے کا امن کشمیر سے مشروط ہے اور ہم کشمیر پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ظلم وستم کابازار گرم ہے اور کشمیری اپنا حق مانگتے ہیں ہم ان کی سیاسی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت امن نہیں چاہتا تو ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے رویے کی وجہ سے سندھ طاس معاہدے پر مشکلات پیش آرہی ہیں بھارت کے علاوہ امریکہ بھی اس معاہدے پر اثر انداز ہوتا ہے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں جس کا ثبوت کلبھوشن یادیو ہے ۔خواجہ آصف کشمیری النسل ہیں اور ان کے حلقہ انتخاب اور علاقے میں مہاجرین کشمیر کی بہت بڑی تعداد آباد ہے جو آج بھی آزادکشمیر کی سیاست اور مسئلہ کشمیر کے ساتھ کسی نہ کسی انداز سے وابستہ ہے ۔ قومی اسمبلی کے سابق سپیکر چوہدری امیر حسین انہی لوگوں میں شامل ہیں۔ خواجہ محمد آصف کا شمار میاں نوازشریف کے معتمدین اور مسلم لیگ ن کے ''عقابوں '' میں ہوتا ہے ۔وہ داخلی سیاست کے حوالے سے بھی ایک سخت گیرنقطہ نظر رکھتے ہیں جسے عرف عام میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ رویہ کہا جاتا ہے۔میاںنوازشریف کی حکومت میں ان کے ناقدین کا ایک بڑا اعتراض مستقل وزیر خارجہ کے تقرر سے گریز رہا ہے ۔چار سال تک خارجہ امور کی وزارت براہ راست میاں نوازشریف کے پاس رہی اور اس گریز کی کوئی وجہ سامنے نہ آسکی ۔اس کی وجہ غالباََ ان کے دوسرے دور حکومت میں وزیر خارجہ گوہر ایوب خان کی الگ اور بلند اُڑانیں رہی ہیں۔میاں نوازشریف بھارت کے ساتھ معاملات کو ٹھیک کررہے تھے مگر گوہر ایوب بہت زوردار انداز سے بہت سے معاملات میں بول کر بھارتیوں کی دُم پر پائوں رکھتے تھے ۔جس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ وزیر خارجہ اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی کی لائن پر چل رہے ہیں ۔وہ میڈیا کے ساتھ براہ راست اور قریبی رابطہ رکھے ہوئے تھے اور بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دھماکوں کی حمایت میں کھل کر بولتے تھے ۔خود میاںنوازشریف بھی گوہر ایوب کی بھارت مخالف لائن سے خوش نہیں تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ مجموعی طور حکومت پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے بعد گوہر ایوب خان کی وزارت تبدیل کرتے ہوئے ان کی جگہ ماہر معاشیات سرتاج عزیز کو وزیر خارجہ بنا دیا گیا تھا ۔ گوہر ایوب خان کے اس تجربے سے میاں نوازشریف اس قدر خائف ہو گئے کہ اپنے تیسرے دور اقتدار میں انہوں چار سال تک ملک کو مستقل وزیر خارجہ دینے کی بجائے مشیروں اور معاونین سے کام چلانے کی کوشش کی حتیٰ کہ ان کے دست راست چوہدری نثار خان نے برسرعام کہا کہ انہوں نے میاں نوازشریف سے سوائے ایک بار وزیر خارجہ بنانے کے کبھی کوئی خواہش نہیں کی مگر ظاہر ہے وہ خواہش پوری نہ ہو سکی اور اس کی بڑی وجہ وزارت خارجہ سے ایک بار پھر ''گوہر ایوب '' برآمد ہونے کے خوف کے سوا کوئی اور نہیں تھی۔ اب جبکہ میاں نوازشریف خود حکومتی مجبوریوں کے بوجھ سے آزاد ہو چکے ہیں اور ماضی سے جڑے ان کے خوف اور خدشات بھی باقی نہیں رہے اسی لئے انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو نہ صرف مستقل وزیر خارجہ دیا بلکہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو ایک دو بیانات کے ذریعے ہی حکومت پر حاوی ہو سکتا ہے۔پاکستان کی مجموعی اور وسطی پنجاب کی سیاسی حرکیات میں وزیر خارجہ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔میاںنوازشریف اپنی حکومت میں مستقل وزیر خارجہ تو نہ بنا سکے مگر کنگ میکر بنتے ہی انہوں نے حکومت کو ایک مضبوط وزیر خارجہ دے دیا۔گمان غالب تھا کہ خواجہ آصف قومی معاملات بالخصوص کشمیر کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی طرح یا تو لب کشائی سے کلی اجتناب برتیں گے یا گول مول اور ذومعنی باتیں کرکے وقت گزاریں گے ۔ان سب اندازوں کے برعکس خواجہ آصف نے اپنی پہلی میڈیا ٹاک میں ہی کھڑاک کر دیا ۔انہوں نے تمام موضوعات پر سخت لائن لی جو میاں نوازشریف کے دور میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان کھٹ پھٹ کی وجہ رہے ہیں۔میاں نوازشریف پر کلبھوشن یادیو کا نام نہ لینے کا الزم لگتا رہا مگر خواجہ آصف نے پاکستان کی جیل میں سزائے موت کے منتظر قیدی کا نام لیا۔ انہوں نے افغانستان اور بھارت کا ایک ساتھ نام لے کر بھی اس اتحاد کی جانب واضح اشارہ کیا ۔یہ گلہ بھی کیا جاتا رہا کہ حکومت بھارت کی دہشت گردی کا نام نہیں لیتی خواجہ آصف نے کلبھوشن کا نام لے کر بھارت کی دہشت گردی کا حوالہ دیا ۔کشمیر اور آبی جارحیت پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید وجہ نزع بنے ہوئے ہیں خواجہ آصف نے بہت زوردار انداز میں ان معاملات پر اپنا موقف بیان کیا ۔خواجہ آصف کے اس موقف کو مسلم لیگ ن کی پالیسی میں ایک انقلابی تبدیلی بھی کہا جا سکتا ہے ۔اس کا تعلق اگلے برس عام انتخابات میں بھارت کے لئے نرم گوشہ رکھنے کے الزام سے بچنے سے بھی ہو سکتا ہے اورپنجاب میں عوام کے مقبول جذبات کو چھیڑنے سے بھی۔یہ ان کی سولو فلائٹ بھی ہو سکتی ہے۔پہلے وہ اپنے قائد کے مقابل کابینہ میں نمایاں ہونے سے گریزاں تھے اب ان کی ایسی کوئی مجبوری بھی نہیں۔اگر یہ مسلم لیگ ن کی سوچی سمجھی پالیسی ہے تو پھر میاں نوازشریف نے اپنے دور میں اس لائن کو اختیار نہ کرکے کشمکش اور کشیدگی کی فضا ء بڑھانے کی کوشش کیوں کی؟

متعلقہ خبریں