وسائل کے باوجود خیبر پختونخوا نظر انداز کیوں؟

وسائل کے باوجود خیبر پختونخوا نظر انداز کیوں؟

خیبر پختون خوا میں بجلی اور گیس کی انتہائی لو ڈ شیڈنگ سے عام لوگ نالاں ہیں۔ ہر گھنٹہ بعد ایک گھنٹہ بجلی نہیں ہو تی ہے۔اس کے علاوہ سوئی گیس پریشر خیبر پختون خوا کے 80 فی صد علاقوں میں انتہائی کم ہے۔مہنگائی اور بے روز گاری عروج پر ہے ۔ وفاقی حکومت کا سلوک بھی خیبر پختون خوا سے سوتیلی مائوں جیسا ہے۔جہاں تک وفاقی حکومت کے صوبہ خیبر پختون خوا میںپی ایس ڈی پی پروجیکٹ کا تعلق ہے تو وفاقی حکومت صوبے میں وفاقی پی ایس ڈی پی پروجیکٹ شروع نہیں کرتی اور کہیں خرچ بھی کررہی ہوتی ہے تو وہ بھی آٹے میں نمک کے برابر نہیں۔ خیبر پختون خوا کے وفاقی حکومت کے ساتھ رویئے سے تو ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختون خوا کے عوام سے 2013 کے عام انتخابات کا بدلہ رہی۔ اگر ہم خیبر پختون خوا کے 2016-17 ء کے صوبائی بجٹ پر نظر ڈالیں تو یہ کُل بجٹ 505 بلین روپے کا ہے ۔ جس میں 293 ارب روپے وفاقی حکومت نے وفاق کے حصے سے دینے ہیں۔ جبکہ 35 ارب روپے دہشت گر دی کے خلاف جنگ میں ہونے والے نُقصان کی مد میں دینے ہیں۔ اسی طر ح وفاقی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 19 ارب روپے بجلی کے منافع کی مد میں اور 17 ارب روپے خیبر پختون خوا سے گیس اور تیل نکلنے کی مد میں رائلٹی کے طور پر دینے ہیں۔ مگر خیبر پختون خوا کو 2016-17 کے بجٹ میں دہشت گر دی سے ہونے والے نقصان کی مد میں 35 ارب روپے میں سے14 ارب روپے ملے ہیں ۔ تیل اور گیس کی رائلٹی کے 17 ارب میںسے صرف 7 ارب اور بجلی کے منافع کے 19ارب میںسے13 ارب روپے ملے ہیں۔ جو انتہائی کم ہے۔ اور صوبائی حکومت کے لئے یہ نا ممکن ہے کہ وہ اپنے صوبائی معاملات کو احسن طریقے سے چلا سکے۔ اگر ہم اعداد و شمار کو دیکھیں تو خیبر پختون خوا میں گیس کے کُل ذ خائر 19 ٹریلین معکب فٹ ہیں اور تیل کے کُل ذخائر 600 ملین بیرل ہیں۔جو خیبر پختون خوا کی قسمت بدلنے میں اہم کر دار ادا کرسکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے تیل پیدا کرنے کی صلا حیت 93 ہزار بیرل یو میہ ہے۔ جس میں خیبر پختون خوا سے تیل پیدا کرنے کی صلا حیت تقریباً 53 ہزار بیرل یومیہ ہے جو پاکستان کی کل پیداوار کا 54 فی صد ہے۔ اسی طرح خیبر پختون خوا سے پاکستان کے لیول پر قد رتی گیس اور ایل پی جی پیدا کرنے کی صلا حیت بالترتیب 17 اور 25 فی صد ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ او جی ڈی سی کے مطابق اس ادارے نے خیبر پختون خوا میں گزشتہ 17 سالوں میں 523 ارب روپے کا تیل اور گیس نکالا ہے جو سالانہ 31 ارب روپے بنتے ہیں۔ اسی طر ح پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت تقریباً 6444 میگا واٹ ہے جس میں صرف خیبر پختون خوا سے 4200 میگا واٹ بنتی ہے جو پانی سے بجلی پیدا کرنے کا 65فی صد ہے۔ اسی طرح خیبر پختون خوا میں پاکستان کا 80فی صد تمباکو پیدا ہوتا ہے جس سے قومی خزانے میں 120ارب روپے جاتے ہیں جبکہ صوبائی حکومت کو کچھ ملین ملتے ہیں۔ معدنیات اسکے علاوہ ہیں۔اگر ہم مندر جہ بالا اعداد و شمار کو دیکھیں تو اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ خیبر پختون خوا کے وسائل کے مقابلے میں اس کو بجلی ، گیس اور تیل کی مد جو رقم ملتی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ وفاقی حکومت کو خیبر پختون خوا کی حکومت کو بجلی، گیس ، تیل کی رائلٹی دوگنی دینی چاہئے ۔ اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجہ سے خیبر پختون خوا کا جو مالی اور جانی نُقصان ہوا ہے اور صوبے کا انفرا سٹرکچر کو جو نُقصان پہنچا ہے وہ امداد تین گنا کرنی چاہئے۔۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں آل پا رٹیز کانفرنس بلائے اور تیل گیس بجلی کی مد میں رائلٹی کا از سر نو جا ئزہ لے اور تمباکو جس سے وفاقی حکومت کو ایک خطیر رقم ملتی ہے اسکی بھی رائلٹی لی جائے۔علاوہ ازیں خیبر پختون خوا کو دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی وجہ سے جو نُقصان ہوا ہے اس رقم کو دگنا کیا جائے۔این ایف سی ایوارڈ پر از سر نو غور کرنا اور اسکو نئے سرے سے آبادی اور وسائل کے لحا ظ سے ترتیب دینا چاہئے ۔ جہاں تک خیبر پختون خوا کی حکومت کا تعلق ہے تو صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور پو ری کو شش کررہے ہیں کہ صوبے کے وسائل زیادہ ہوں ۔ اور وفاقی حکومت سے این ایف سی ایوارڈ پر دوبارہ غور کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو آمادہ کیا جائے۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ بھی خیبر پختون خوا کے خلاف اپنے سخت رویئے میں نر می لائے اور کو شش کرے کہ دہشت گردی سے تباہ حال صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت کے لئے مشکلات پیدا نہ کرے۔ خیبر پختون خوا حکومت کو بھی چاہئے کہ اس کے پاس زیادہ سے زیادہ ڈیڑ ھ سال کا عرصہ رہ گیا ہے اوراس نے بھی وہ کام نہیںکئے جو کرنے چاہئے ۔ کیونکہ خیبر پختون خوا کے عوام پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی حکومت سے بڑی توقعات رکھتے تھے مگر خیبر پختون خوامیںوہ کا ر کر دگی نظر نہیں آتی۔ جس کے لیے عوام نے اسے منتخب کیا تھا ۔

متعلقہ خبریں