پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار سلطان راہی کی 21ویں برسی آج منائی جا رہی ہے،

پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار سلطان راہی کی 21ویں برسی آج منائی جا رہی ہے،

ڈیسک:فن کے سلطان راہی کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 21برس بیت گئے۔ پنجابی اور اردو فلموں کے معروف اداکار   سلطان راہی کی 21ویں برسی آج 9جنوری کو منائی جا رہی ہے۔ سلطان راہی کا اصلی نام حاجی حبیب احمد المعروف سلطان راہی تھا، سلطان راہی بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفرنگر بجنور میں 1938میں پیدا ہو ئے تقسیم ہند کے وقت وہ گوجرانوالہ آگئے۔ سلطان راہی نے اپنے فنی سفر کا آغاز  میں فلم باغی سے کیا۔

انہوں نے اپنی فلمی سفر کا آغاز 1956 میں فلم باغی میں ایک معمولی سے کردار سے کیا تھ۔

ا اس کے بعد وہ خاصے عرصے تک فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ہی ادا کرتے رہے۔

1971ءمیں فلم بابل میں انہیں ایک بدمعاش کا ثانوی ساکردار دیا گیا جس سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا، جبکہ 1972میں بطور ہیرو ان کی پہلی فلم بشیرا ریلیز ہوئی اس فلم نے انھیں بام عروج تک پہنچادیا اور پھر   پاکستان کے فلمی صنعت کے سب سے مقبول اور سب سے مصروف اداکار بن گئے۔

سلطان راہی نے  اردو اور پنجابی   کے  800 سے زائد  فلموں میں کام کیا۔

سلطان راہی کی مشہور فلموں میں بشیرا، شیر خان ،مولا جٹ، سالا صاحب، چند وریام،آخری جنگ اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔

  سلطان راہی کے قتل کے وقت بھی ان کی 54فلمیں زیر تکمیل تھیں۔

یاد رہے کہ سلطان راہی 9 جنوری 1996ء کو راولپنڈی سے لاہور آرہے تھے کہ گوجرانوالہ بائی پاس کے قریب انہیں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

 21 سال گزرنے کے باوجود ان کے مجرم بے نقاب نہیں ہو سکے۔

متعلقہ خبریں