کامیاب کارروائی کے تقاضے

کامیاب کارروائی کے تقاضے

دہشت گردوں کے خلاف صوابی میں پاک فوج کے آپریشن کے دوران پاک فوج کے کیپٹن اور جوان کی شہادت کے بعد پانچ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کا اقدام دہشت گردوں کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی ہے۔ہم انہی کالموں میں ارد گرد پیش آمدہ واقعات اور صوابی میں بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات کے باعث بار بار صوابی اور ارد گرد کے علاقوں میں سخت گیر آپریشن پر زور دیتے آئے ہیں۔ چارسدہ ، نوشہرہ ، مردان تنگی شبقدر اور صوابی میں ہونے والے خود کش حملوں ، تھانہ کچہری پر حملوں ، چارسدہ یونیورسٹی پر حملے کے واقعے ،نادرا کے دفاتر کو نشانہ بنانے جیسے واقعات کو ذہن میں تازہ کریں تو ازخود اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیں کہ اس علاقے میں کہیں نہ کہیں دہشت گردوں کا کوئی منظم نیٹ ورک موجود تھا جہاں سے منصوبہ بندی کے ساتھ مذموم کارروائیوں کیلئے عملی دہشت گردی ہوتی رہی ہے ۔ گو کہ اب آپریشن رد الفساد میں پاک آرمی کی سطح پر دہشت گردوں کے خلاف بڑی اور کامیاب کارروائی ہوئی ہے لیکن قبل ازیں ارد گرد ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور صوابی میں تقریباً تمام متمول افراد سے رقوم کی وصولی ان کے اغواء اور تاوان کی ادائیگی سے انکار پر قتل جیسے واقعات کے باوجود علاقے میں موجود اس نیٹ ورک کو توڑنے اور ان عناصر کوکیفر کردار تک پہنچانے میںکوئی مئوثر کارروائی کیوں نہ ہو سکی ۔ ہمارے تئیں ارد گرد کے واقعات از خود اس امر پر دلالت کرتے تھے کہ علاقے میں کوئی ایسا گروہ ضرور موجود ہے جو موقع ملتے ہی دہشت گردی کی کارروائی سے باز نہیں آتا گوکہ گزشتہ روز کے واقعے میں پانچ دہشت گردہی مارے گئے لیکن اس آپریشن کا آرمی کی طرف سے ہونا اور فوجی افسر و جوان کی شہادت سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ مشکل اوربڑا آپریشن تھا ۔ ہم سمجھتے ہیں اس کے باوجود کہ دہشت گردوں کے اس ٹھکانے کو تباہ کیا گیا اور دہشت گرد مارے گئے علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجود گی اور ان کے سہولت کارو ں کے ہونے کے خدشات کے باعث صوابی ، مردان ، چارسدہ ، شبقدر اور ملحقہ ، علاقوں میں گھر گھر آپریشن کیا جانا چاہیئے ۔ اگر اس طرح کے عناصر کسی گنجان آباد شہر ی علاقے میں چھپے ہوئے ملتے تو اس امر کا امکان ہوتا ہے کہ ارد گرد کے لوگوں کو ان پر شک نہ گز را ہو اور ان کو ان کی سرگرمیوں اور آمد ورفت کا علم نہ ہو سکا ہو لیکن قصبات اور دیہات میں جہاں لوگ صدیوں سے آباد ہیں ان کی آباد ی میں اس طرح کے عناصر کی آمد و موجودگی کا مقامی آبادی اور نگرانی پر مامور عملے کوجلد علم ہوجانا چاہیئے۔ اس امر کا علم نہیں کہ دہشت گردوں نے یہ ٹھکانہ کب کس سے اور کیسے حاصل کیا تھا اور کن افراد کا یہاں آنا جانا تھا اور دہشت گرد نظروں میں کیسے آئے ان تفصیلات کی روشنی میں اس امر کے تعین میں آسانی ہوتی کہ جس نیٹ ورک کو توڑاگیا ہے یہ کتنی بڑی کامیابی ہے۔ مارے گئے دہشت گردوں میں مقامی دہشت گرد وں کا شامل ہونا از خود اس امر پر دال ہے کہ علاقے سے دہشت گردوں کو معاونت حاصل تھی ۔ دو افغان دہشت گرد کب آئے اور ان کی کیا منصوبہ بندی تھی وہ اپنی جگہ مقام اطمینان امر یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے کسی ممکنہ بڑی دہشت گردی کو ناکام بنادیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں جاری آپریشن کو صرف اطلاع ملنے پر مشکوک عناصر کے خلاف کارروائی تک ہی محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس آپریشن میں صوبائی دارالحکومت اور تمام ڈویژنل و ضلعی ہیڈ کوارٹر ز سے شروع کر کے بالتر تیب مضافاتی اور دور دراز کے علاقوں تک پہنچا یا جائے اور اس دوران بلا رورعایت شہریوں کے کوائف کی تفصیلی چھان بین کی جائے ۔ اگر کسی تھانے کی حدود میں زیادہ عرصے سے دہشت گردوں کی موجو دگی ثابت ہوتو پولیس سرکل کے تمام افسران اور تھانے کے عملے سے بھی باز پرس کی جائے اور اگرغفلت کا ارتکاب ثابت ہو تو سخت تا ددیبی کارروائی سے گریز نہ کیا جائے۔ اس سارے عمل میں عوام کی حمایت اور تعاون سے انکار ممکن نہیں لیکن اسے باعث افسوس ہی گردانا جائے گا کہ سیکورٹی کے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بڑھنے کی بجائے ایک دوسرے سے شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ عوام اور پولیس کے درمیان بھی عدم اعتماد کی فضا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو معاشرے میں یہ خلیج ہی اس کی بڑی وجہ نظر آتی ہے کہ تمام تر مساعی کے باوجود دہشت گردوں کو سہولت کار اور ٹھکانے مل جاتے ہیں اور جب تک آہنی شکنجہ ان کی گردن تک پہنچے یا تو وہ دہشت گردی کی واردات کرنے میں کامیاب ہو تے ہیں یا پھر ان کو فرار اور نکلنے کا موقع ملتا ہے۔ ملک بھر میں سادہ لوح افراد اور ہر کس و نا کس سے تو مشکوک افراد کی پہچان اور سیکورٹی کے اداروں سے رابطہ و نشاندہی کی توقع نہیں کی جاسکتی لیکن عمائدین اور باشعور شہری بھی یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور نہ ہی پولیس محلہ کمیٹیاں بنانے اور عوام کی سطح پر اعتماد سازی اور حصول معلومات میں دلچسپی دکھاتی ہے۔ اگر عوام اور پولیس کے درمیان رشتہ مضبوط اور اعتماد کی فضا پیدا کی جائے تو عوام کسی لالچ کے بغیر مشکوک عناصر کی نشاندہی کا فریضہ ادا کرنے میں ہچکچائیں گے نہیں۔ سیکورٹی کے جملہ اداروں کو عوام کے حوالے سے اپنے رویے اور کردار کا دوبارہ جائزہ لینے اور خلیج کا باعث بننے والے اقدامات اور رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں