افغان حکام کا بارڈر مینجمنٹ سے انکار

افغان حکام کا بارڈر مینجمنٹ سے انکار

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر بندش کے باعث سرحد کے آر پار عوام کی مشکلات اور کاروبار ی خسارہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں اگر چہ قبل ازیں بھی دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی معاملات پر پیچید گیا ںسامنے آتی رہی ہیں لیکن حالیہ واقعات کے بعد آئندہ اس طرح کی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کی خاطر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظامات کو مربوط بہتر اور متفقہ بنانے کی ضرورت نئے سرے سے اجا گر ہوئی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے افغان حکام کو سرحدی انتظامات اور معاملات سنبھالنے میں شراکت اور ذمہ داری نبھانے کے ضمن میں تجاویز دی گئیں مگر دوسری جانب سے مسلسل خاموشی حیرت انگیز امر ہے کیونکہ سرحد کی بندش کے باعث پاکستان سے کہیں زیادہ متاثرہونے والا ملک خود افغانستان ہے۔ سرحدی دہشت گردی اور حملوں کے واقعات کے باعث بجائے اس کے کہ افغان حکام معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرے ان کی جانب سے معاندانہ اور دھمکی آمیز رویہ کا اظہار پاکستان کو یکطرفہ طور پر اقدامات پر مجبور کرنے کا وتیرہ اختیا ر کیا جا رہا ہے جس سے عارضی طور پر کھلنے والی سرحد کی دوبارہ بندش یقینی دکھائی دیتی ہے۔ افغان حکام کا بنیادی طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں کو تسلیم کرنے سے انکار ہی وہ قدیم اور تاریخی اختلافات ہیں جس کے باعث ہمسایہ ممالک کے درمیان کبھی بھی اعتماد کی فضا قائم نہ ہوسکی ۔ قبائلی علاقہ جات کے خیبر پختونخوا میں ضم کئے جانے کے اعلان کے بعد سے تو اس پٹی کا وجود بھی مٹ چکا اور پاکستان کے ایک صوبے کی سرحدیں براہ راست افغانستان سے مل گئی ہیں جس کے بعد بارڈر مینجمنٹ اور سفری دستاویزات کے بغیر سرحد کراس کرنے کی اجازت اور مواقع دونوں باقی نہیں رہے ۔ بہتر ہوگا کہ افغان حکمران ضد چھوڑ کر پاکستان کے ساتھ بہتر سرحدی انتظامات کے طریقہ کار طے کرکے اپنے شہر یوں کو مشکلات سے نکالیں۔ افغانستان کی حکومت جب تک اپنے علاقے میں موجود دہشت گردوں کی سرکوبی نہیں کرتی اور سرحد پار سے پاکستانی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا تب تک دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاملات کا معمول پر آنا ممکن نظر نہیں آتا ۔
عالمی یوم نسواں پر بھی حوا کی بیٹی محروم ہے
وطن عزیز میں عالمی یوم نسواں کے موقع پر خواتین تنظیموں کی جانب سے مختلف سرگرمیوں کے انعقاد کو تکلف گرداننا اس لئے غلط نہ ہوگا کہ اولاً خواتین تنظیمیں عام عورت کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ دوم یہ کہ ان تنظیموں کی طرف سے سطحی اقدامات کے علاوہ خواتین کی حالت زار میں تبدیلی لانے اور ان کوحقوق دلانے میں کوئی ٹھوس پیشرفت کی توقع ہی نہیں مگر اس کے باوجود ان تنظیموں کی سرگرمیاں اس لحاظ سے خوش آئند اور قابل قدر ضرور ہیں کہ قولاً ہی سہی وہ تسلسل کے ساتھ یہ باور کرانے کی سعی میں ضرورمصروف ہیں کہ خواتین بھی اشرف المخلوقات اور اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ معاشرے کے بعض حصوں میں تو خواتین کو کافی زیادہ حقوق حاصل ہیں مگر خواتین کی اکثریت حقوق سے محروم ہے بلکہ ان کے حقوق کے حوالے سے کوئی شعور ہی نہیں کجا کہ ان کے حقوق تسلیم کر کے ان کی ادائیگی کی جائے ۔ عالمی یوم نسواں کے موقع پر صوابی کی دوبار مطلقہ جوانسال خاتون کی سڑک کنارے رہنے کی مجبوری اور کسی جانب سے ان کو کوئی مدد حمایت نہ ملنا اس معاشرے کی بے حسی کی وہ حقیقی تصویر ہے جس سے حقوق نسواں کے علمبر داروں سمیت کسی کو بھی انکار نہیں خاص طور پر جو تنظیمیں خواتین کے حقوق کی دعویدار ہیں۔ وہ سرکاری ادارے جو خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے باقاعدہ وسائل خرچ کرتے ہیں۔ معاشرے کے دیگر افرا د آخر کسی کو بھی کیوں ان بے آسرا خواتین کی مدد کی تو فیق نہیں جو کھلے آسمان تلے زندگی کے دن گزارنے پر مجبور ہیں ۔ خواتین کے حقوق کیلئے نعرے بازی اور اس کو سوداگری بنادینے سے حقوق نسواں کا تحفظ نہیں ہوگا بلکہ عملی کام کرنے سے حقوق کا حصول ممکن ہوگا ۔ حقوق نسواں کو محض نعرہ نہ بنایا جائے بلکہ موجود قوانین او ر دستور کے تحت حکومت کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ بہبود خواتین اور تحفظ حقوق خواتین کی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ علمائے کرام اور معاشرے کے نمائندہ افراد اگر خواتین کو وراثت سپرد کرکے بری الذمہ ہونے کی مہم چلائیں اور بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ نہ دینے کے رواج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو یہ بہت بڑی خدمت ہوگی ۔توقع کی جانی چاہیے کہ معاشرے میں خواتین کو حقوق دلانے کی عملی جدوجہد کا احساس کیا جائے گا اور حقوق نسواں کے علمبر دار نعروں کی بجائے حقیقی کردار اپنائیں گے ۔

متعلقہ خبریں