فوجی عدالتیں' پیپلز پارٹی کی تجاویز اور پارلیمنٹ

فوجی عدالتیں' پیپلز پارٹی کی تجاویز اور پارلیمنٹ

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے سوال پر سینٹ اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس آج ہورہا ہے جس میں پیپلز پارٹی کی نو تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے اگرچہ فوجی عدالتوں کی مدت میںتوسیع کی ضرورت سے اصولی طور پر متفق ہونے کا اعلان کیا ہے تاہم اس کی نو تجاویز میں سے ایک یہ ہے کہ یہ توسیع محض ایک سال کیلئے دی جائے۔ مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت کی تجویز ہے کہ یہ مدت دو سال ہونی چاہیے۔ ایم کیو ایم اس موقف کا اعلان کرچکی ہے کہ فوجی عدالتوںکی مدت میںڈیڑھ سال کی توسیع کی جائے جبکہ حکومتی پارٹی مسلم لیگ نے اس حوالے سے آئینی ترمیم کا جو مسودہ تیار کیا ہے اس میں فوجی عدالتوں کی مدت میں تین سال کی توسیع کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ہر ایک کے پاس اپنے موقف کا جوازہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ تین سال ' دو سال' ڈیڑھ سال یا ایک سال میں کون سی ایسی تبدیلی کی توقع ہے جس کی بنا پر فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کا کام مکمل ہو جائے گا اورمزید توسیع کی ضرورت نہیں رہے گی؟ یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان کے جمہوری نظام میں فوجی عدالتوں کی گنجائش نہیں ہے تاہم فوجی عدالتوں کا قیام ملک میں دہشت گردی کے باعث برپا ہونے والی مخصوص صورتحال کی وجہ سے عمل میں لایا گیا جسے سبھی سیاسی رہنما وقتاً فوقتاً حالت جنگ قرار دے چکے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت خصوصی اقدام محض فوجی عدالتوں کا قیام نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اور بھی اقدامات تھے جن پر کماحقہ عمل نہیں ہوسکا۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کو ختم کرنا بھی پلان کاحصہ تھا جس کیلئے مالیاتی انتقال کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی اور نہ کوئی خصوصی اقدام کیے گئے' ایک ادارہ نیکٹا کے نام سے قائم کرنا مقصود تھا جس کیلئے حکومت نے فنڈز ہی مہیانہیں کیے۔ دہشت گردی کے سہولت کاروں اور معاونین اور محرکین کی سرکوبی کرنا تھی اس حوالے سے قابل ذکر اقدامات نہیں کیے گئے۔ دہشت گردوں کی نرسیاں ختم کرنا بھی نیشنل ایکشن پلان کا تقاضاتھا اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ دہشت گردوں کی تحسین و توقیر کا انسدادکرناتھا۔ انٹیلی جنس اداروں میں رابطے کا بندوبست کرناتھا۔ الغرض نیشنل ایکشن پلان کے تحت خصوصی اقدامات فوجی عدالتوں کے قیام سمیت مقصود تھے۔ سارے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمدسے یہ توقع قائم کی گئی تھی کہ دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا گیاہے۔ فوجی عدالتو ں کی دو سال مدت ختم ہونے کے بعد سویلین حکومت نے ان کی مدت میں توسیع کے حوالے سے خاموشی اختیارکی بلکہ بعض وزراء نے کہاکہ ان کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن کوئی ایسی رپورٹ پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی جس میں بتایا گیا ہو کہ حکومت نے پلان پر کس حد تک عمل کرلیا ہے۔ البتہ اعلیٰ ترین عہدیدار یہ کہتے رہے کہ ہم نے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیاہے یا اس کی کمر توڑ دی ہے۔ اس کیلئے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کو بنیاد بنایا گیا۔ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے فاٹا کودہشت گردوںسے خالی کرایا گیا لیکن اس کے نتائج کو محفوظ بنانے کیلئے ایک وسیع تر آپریشن ردالفساد کے نام سے شروع کیا گیا ہے جس کا دائرہ کار سارے ملک پر محیط ہے اور جو آپریشن ضرب عضب کا تسلسل ہے۔ ایسے بیانات کے بعد کہ فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں رہی کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے آئینی ترمیم کاایک مسودہ پیش کیا ہے جس پر ساری سیاسی جماعتوںکی رضامندی حاصل کرنے کیلئے پارلیمانی پارٹیوں کے لیڈروں کے اجلاس بلائے گئے۔ اس حوالے سے جواجلاس آج منعقد ہو رہاہے اس میں پیپلز پارٹی جو قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت ہے اورسینٹ میں جسے اکثریت حاصل ہے جس کی منظوری کے بغیر آئینی ترمیم کیلئے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکتی بڑی لیت و لعل کے بعد نو تجاویز لیکر شریک ہو رہی ہے۔ جن میں سے ایک تجویز یہ ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں محض ایک سال کی توسیع کی جائے۔ یہ وضاحت نہیں کی جارہی کہ اس ایک سال میںکیا اقدامات ہونے کی امید ہے جو فوجی عدالتوں کی دو سال کی مدت میں نہیں ہوسکے۔ ان تجویز کو تسلیم کرنے سے فوجی عدالتیں فوجی عدالتیں نہیں رہیں گی بلکہ ان کے منصفوں میں سویلین جج بھی شامل ہوں گے اور یہ زیادہ سے زیادہ نیم فوجی عدالتیں ہو جائیں گی۔ فوجی عدالتوںکے مخصوص طریقہ کار کی بجائے ان میں مروجہ قانون شہادت کو نافذ العمل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے اس قانون شہادت کی وجہ سے عدالتوںمیں ہزاروں مقدمے سالہاسال سے زیرسماعت ہیں تو ایک سال میں فوجی عدالتیں کتنے مقدمات کی سماعت مکمل کرسکیں گی۔ اس لئے پیپلز پارٹی کی تجاویز فوجی عدالتوں کی ضرورت کوتسلیم کرنے کااعلان کرتے ہوئے ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا یا اگر یہ قائم بھی ہو پائیںتوان کو غیرموثر بنانا ہے۔لگتاہے سیاسی پارٹیاں مختلف تجاویز دے کر اور تحفظات پیش کرکے قومی اہمیت کے اس معاملے پر اپنا بھائو بڑھانے کاکھیل کھیل رہی ہیں۔پارلیمنٹ کی متفقہ منظوری کے بعد نیشنل ایکشن پلان کسی آئینی دستاویزحیثیت اور توقیر کاحامل سمجھا جانا چاہیے۔ متفقہ منظوری کے بعد پارلیمنٹ کی ذمہ داری تھی کہ اس پر عملدرآمد کویقینی بنایا جاتا اور اس عملدار کی نگرانی کی جاتی۔ سیاسی لیڈر یہ تو کہتے رہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے لیکن پارلیمنٹ کی اس ذمہ داری پر متوجہ نہیں ہوئے کہ جو ایکشن پلان پارلیمنٹ نے حکومت کے سپرد کیاہے اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری بھی نبھائے۔ ساری قوم دہشت گردی کے خاتمے پر متفق ہے ' ارکان پارلیمنٹ کا بھی دعویٰ یہی ہے لیکن پارلیمنٹ نے جو ایکشن پلان خودطے کیاتھا اس پر عملدرآمدکے مراحل کاجائزہ نہیں لیا۔ عوام پارلیمنٹ سے یہ توقع وابستہ کرنے میں حق بجانب ہوںگے کہ ان کا نمائندہ ادارہ اپنے منظور کردہ ایکشن پلان پر عملدرآمد کاایک تفصیلی جائزہ عوام کے سامنے پیش کرے۔

متعلقہ خبریں