پاک افغان تعلقات کا نیا باب

پاک افغان تعلقات کا نیا باب

پاکستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر کے بعد افواجِ پاکستان کی طرف سے ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کی جانے والی کارروائی کے ساتھ ساتھ الزامات کی جنگ میں بھی پاکستان نے اس مرتبہ انتہائی سخت لہجہ اپنایا تھا۔ لیکن ان کارروائیوں اور الزامات کے بعد پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف نے دہشت گردی کے ناسور سے مل کر لڑنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ کیا اس طرح کے الزامات کے بعد مصالحت کی باتیں پاکستانی پالیسی کا حصہ ہیں ؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے جغرافیے کا جائزہ لینا ہوگا۔ پاکستان کی سرحدیں دنیا کے چار ممالک کے ساتھ ملتی ہیں جس میں سے پوری مشرقی سرحد بھارت کے ساتھ ملتی ہے۔ جنوب میں بحرِ ہند ، شمال میں چین اور مغرب میں افغانستان اور ایران ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی قومیت ان سب ممالک سے ملتی ہے لیکن ان سب میں سے افغانستان ایسا ملک ہے جس کے ساتھ قومیت کے لحاظ سے سب سے زیادہ مضبوط رشتہ ہے۔ افغانستان کی اکثریت آبادی کی طرح خیبرپختونخوا کی آبادی کی اکثریت اور بلوچستان میں دوسری بڑی اکثریت پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اگر پاکستان کو جنوبی ایشیائ، مشرقیِ وسطیٰ اورسینٹرل ایشیاء کو جوڑنے والا چوک کہا جائے تو پاکستان کو سینٹرل ایشیاء تک رسائی کے لئے افغانستان سے گزرنا پڑتا ہے یا پھر چین کے راستے بھی سینٹرل ایشیاء تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن چین والا راستہ زیادہ طویل اور دشوار گزار ہے۔ان حالات میں جب بھارت کے ساتھ ہمارے حالات ہمیشہ کی طرح کشیدہ ہیں، ایران کے ساتھ تعلقات کو بمشکل معمول کے مطابق کہا جاسکتا ہے ، ان حالات میں افغانستان کا بھارتی کیمپ میں جانا کسی بھی لحاظ سے پاکستان کے لئے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ غیر محفوظ افغانستان، پاکستان کے لئے اورغیر محفوظ پاکستان، افغانستان کے لئے شدید خطرے کا باعث ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کے سرحد پار منتقل ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل کے آغاز کے بعد پاکستان نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر افغانستا ن کو طالبان قائد ملا محمد عمر کی وفات کے بارے میں نہ بتانے کا فیصلہ کیا ۔ یہ خبر ایک نہ ایک دن منظر عام پر آنی تھی اور ایسا ہی ہوا۔ اس خبر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد حامد کرزئی اور ان کے حامیوں نے اسے پاکستان کی طرف سے جان بوجھ کر دیا جانے والا دھوکہ قرار دیا جس کے بعد افغانستان میں پاکستان مخالف حلقوں کو مفاہمتی عمل سبوتاژ کرنے کا موقع مل گیا اوروہ دونوں ممالک کے تعلقات دوبارہ خراب کرنے میں کامیاب رہے۔ ان حالات کے تناظر میں اشرف غنی بھی اپنی مفاہمتی کوششوں سے پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے پاکستان کی طرف سے 500 ملین ڈالر کی امداد مسترد کردی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سب سے زیادہ فائدہ طالبان نے اٹھایا اور سرحد کی دونوں جانب نئی کارروائیوں کا آغاز کردیا۔ اس کے علاوہ کشیدگی کی وجہ سے ایسے لوگوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی جو ایک نئی 'پراکسی وار' کی شروعات کرنا چاہ رہے تھے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد پاکستان کی طرف سے مزاحمت ہونی تھی اور ایسا ہی ہوا لیکن ہمیں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ ہمسائے تبدیل نہیں کئے جاسکتے۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی سیکورٹی کا خیا ل رکھنا ہوگا جس کی بدولت ان کے اپنے ملک میں بھی سیکورٹی کی صورتحال معمول کے مطابق رہے گی۔ افغانستان کو 'لینڈ لاک یا ٹرانزٹ ' ملک کہا جاتا ہے لیکن افغانستان کو ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کی ٹرانزٹ کامرس کا راستہ بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان یا ایران سے گزرتا ہے۔ اگر بھارت کے اکسانے پر افغانستان پاکستان کی بجائے ایران کے راستے تجارت کو ترجیح دیتا ہے تب بھی پاکستان افغانستان کا ہمسایہ اور ٹرانزٹ ٹریڈ کا سب سے سستا راستہ ہی رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں بھی یہ چاہتی ہیں کہ افغانستان ان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے پاکستان کا روٹ ہی استعمال کرے۔ دونوں ممالک میں بسنے والی ایک بڑی آبادی پشتونوں پر مشتمل ہے جو نہ صرف اپنی مہمان نوازی بلکہ حوصلے اور خطرات کا سامنا کرنے کی صلاحیتوں کے لئے بھی مشہور ہیں۔ جہاں پشتونوں کی بہادری مشہور ہے وہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پشتونوں کو دھوکا دینا بھی آسان نہیں ہے اور نہ ہی افغانستان میں بسنے والے پشتون اپنے ملک کے لئے پاکستان کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد افغانستان سے رابطہ ایک نہایت خوش آئند اقدام ہے ۔ افغانستان سے بھی یہی توقع کی جارہی ہے کہ وہ پچھلی باتیں بھلا کر پاکستان کے خیر سگالی کے جذبے کی قدر کرے گا۔ پاکستان کی طرف سے ملا عمر کے انتقال کے بارے میں افغانستان کو بے خبر رکھنا معاندانہ کی بجائے ایک بیوقوفانہ اقدام تھا اور اب پاکستان کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ مستقبل میں ایسا کچھ نہیںہوگا جس سے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی فضاپیدا ہو۔ دونوں ممالک کے درمیان بہت سی اقدار مشترک ہیں اور کوئی بھی ملک اپنا ہمسایہ تبدیل نہیں کرسکتا، اس لئے جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے دیئے جانے والے بیان پر عمل کرتے ہوئے دونوں ممالک کو اپنے مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں۔ 

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں