کرکٹ ڈپلومیسی

کرکٹ ڈپلومیسی

ڈینگی بخار سے اس دفعہ اللہ نے قوم کو تاحال محفوظ رکھا ہے لیکن ہم نے اس عرصہ میں اپنی ذاتی کاوشوں سے سارے ملک کو کرکٹ کے بخار میں ضرور مبتلا کر دیا ہے ۔ پی ایس ایل فائنل تو شکر ہے بخیر و خوبی اختتام پذیر ہو چکا ہے ۔ اُس کے آفٹر ایفیکٹس ابھی باقی ہیں۔ روزانہ اس کہانی میں نئے نئے موڑ آتے ہیں۔ ابھی گزشتہ رات ہی پی ٹی آئی کے چیئر مین نے پی ایس ایل کے مقابلوں میں شریک غیر ملکی کھلاڑیوں کو جانے کیوں پھٹیچر کہہ دیا ۔ بس پھر کیا تھا ، ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ، وزیر مشیر سب چیئر مین کے ایسے پیچھے پڑے ، کہ پی ٹی آئی کے ایک اہم رکن کو اپنی پارٹی کی جانب سے معذرت کرنا پڑی۔ اس سے پہلے بھی خان صاحب نے اس ایونٹ کو پاگل پن کہا تھا بعد میں وہ بھی ہماری طرح اُسکی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے رہے ۔ سچ پوچھئے تو ہمیں اپنے تمام روایتی کھیل ، کبڈی ، کشتی،پٹ پٹو نڑے،انگی سوک دے مل دے ، پتنگ بازی دل وجان سے پسند ہیں لیکن کرکٹ کے حق میں قطعاً نہیں کہ اس سے وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ ہمارے بہت سے دوستوں نے تو اسے بنیادی عوامی مسائل سے قوم کی توجہ ہٹانے کی ایک چال قرار دیا ہے ، اُن کی یہ رائے ،وزن بھی رکھتی ہے۔ اس کھیل کے مقابلوں کے دوران پانامہ لیکس جس کاگزشتہ ایک سال سے چرچا تھا ، کسی نے اُس پر ایک لفظ تک نہیں کہا ۔ اس عرصہ میں تین بار پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ کسی اپوزیشن لیڈر نے اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا ۔ دہشت گردی کے واقعات بھی ہوتے رہے جس میں پولیس اور فوج کے جانباز سپاہی جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہے ۔ اخبارات میں اُسکی خبریں ضرور لگتی رہیں لیکن الیکٹرانک میڈیا پر کرکٹ کی خبریں ہی نمایاں رہیں ، تاکہ لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل میچ کا لطف بر قرار رہے ۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ تو خیرون مین شو کا کوئی موقع ضائع ہونے نہیں دیتے چاہے اسکے لئے انہیں سر پر بابالکھ پتی کا جوتا ہی کیوں نہ کھانا پڑے ایک دوسری سیاسی جماعت کے ایک نہایت ہی سنجید ہ رہنما جو اُس جماعت کی امارت کے منصب پر بھی فائز ہیں کرکٹ فائنل میچ میں بہ نفس نفیس شریک ہوئے اور کھیل کو سند قبولیت عطا کی ۔ پی ایس ایل فائنل کو ملک گیر سطح کا ایونٹ قرار دیا جارہا ہے ۔ اس ضمن میں ہم یہی عرض کر سکتے ہیں کہ وطن عزیز کے 25 کروڑباشندوں میں سے صرف 25ہزار افراد کو اتنی ہی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کی حفاظت میں یہ مقابلہ دیکھنے کا موقع ملا۔ کیا ہم اسے ملک گیر سطح کا کھیل کہنے میں حق بجانب ہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے پاکستان سپرلیگ کے دوسرے ایڈیشن کے فائنل میچ کے کامیاب انعقاد کو شہیدوں اور غازیوں کے نام کر نے کا اعلان کیا ہے ۔ خوشی سے نہال خادم اعلیٰ نے اس موقع پر یہ بھی فرمایا کہ فائنل صرف ایک کرکٹ میچ نہیں بلکہ ایک جنگ تھی جس میں دشمن ہار گیا اور پاکستان کو فتح حاصل ہوئی ۔ شہدا ء کی بے مثال قربانیوں سے کسی طور بھی انکار ممکن نہیں لیکن ہمیں یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ شہدا ء کی قربانیاں لاہور میں کرکٹ میچ کے کامیاب انعقاد کر لئے ہر گز نہیں تھیں اُنہوں نے وسیع ترمفادکے لئے اپنی جان کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ اُن کی قربانیوں کا مقصد اس قدر محدود سوچ کے نام کرنا ہم اسے ایک مذاق ہی کہہ سکتے ہیں ۔ کل خبر لگی کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے پشاور زلمی کے لئے دو کروڑ کے انعام کا اعلان کیا ہے ۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی سامنے آئی کہ صوبے کے سرکاری ٹیوب ویل بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کے نتیجہ میں بند پڑے ہیں اور اتفاق سے بقایاجات بھی دو کروڑ بنتے ہیں اس سے ہماری ترجیحات کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں ۔ ہمارے مسائل عدم تحفظ پسماندگی غربت جہالت اور نا انصافی ہے جبکہ فی الوقت ہماری اولین ترجیح ، کرکٹ بن چکی ہے۔ ڈرامے ، بالی ووڈ ، کھابے فلانے کی مچھلی اور کباب اور فلانے کی نہاری جیسے شوق اسکے علاوہ ہیں۔ پی پی پی نے گزشتہ دنوں جو کانفرنس منعقد کی تھی اس میں ایک خبر کے مطابق حاضرین کی تواضع 15قسم کے پکوانوں سے کی گئی ۔ خادم اعلیٰ تو قذافی سٹیڈیم میں فائنل کے انعقاد سے پہلے تمام وقت امن و امان قائم رکھنے کے اقدامات میں مصروف رہے ہمارے محبوب وزیر اعظم نے ایک اخباری اطلاع کے مطابق میچ سے ایک روز پہلے لاہور شہر کا فضائی جائزہ لیا ۔ بالیقین چیف ایگزیکٹوکو اس فضائی جائزے کے دوران اندرون شہر اور اسکے مضافاتی علاقوں میں غلاظتوں کے ڈھیر ، گلی کوچوں میں کھڑا پانی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ، اور ٹریفک جام بھی نظر آیا ہوگا ۔ کرکٹ کے لئے انتظامات کو تو انہوں نے تسلی بخش قرار دیا تھا ہمیں یقین ہے کہ انہوں نے لاہور کی انتظامیہ کو متذکرہ مسائل پر بھی توجہ دینے کے احکامات صادر کر دیئے ہونگے ۔ یہ امر بھی بڑا حوصلہ افزاء اور خوش آئند ثابت ہوا کہ قذافی سٹیڈیم کے قرب و جوار میں واقع ریسٹورنٹ اور شادی ہالوں کو ایک ہفتہ پہلے سے بند کر دیا گیا تھا جسکی وجہ سے شادیوں کی بہت سے تقریبات منسوخ کرنا پڑیں۔ شادی ہال کے مالکان کو جولا کھوں روپے کا نقصان اُٹھاناپڑا وہ انہوں نے ایک بڑے قومی مقصد کے لئے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ جب جانی قربانیوں کو کرکٹ میچ کے کامیاب انعقاد کے نام پر کیا جا سکتا ہے تو مالی قربانی تو اُسکے مقابلے میں کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ہاں یاد آیا لاہور کے تعلیمی ادارے بھی تین روز پہلے بند رکھے گئے تھے۔ فائنل کے بعد وزیراعظم نے فرمایا کہ کرکٹ ہمارے دل کے قریب ہے اور یہ کہ کرکٹ کے کامیاب فائنل میچ کے انعقاد سے ثابت ہوگیا کہ ہماری تنہائی کے دن ختم ہوگئے ہیں اور یہ سب باتیں پاکستان کی سلامتی کے لئے نیک شگون ثابت ہونگی ۔ کرکٹ ڈپلومیسی نے اس سے پہلے بھی ہماری خارجہ پالیسی میں اہم کردا ر ادا کیا ہے ۔ پی ایس ایل کے فائنل میچ سے اس پالیسی کو مزید تقویت ملی ہے ۔ قوم کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے ۔ 

منحصرکرکٹ پہ ہو جسکی امید
پر امیدی اس کی دیکھا چاہیے

متعلقہ خبریں