فاٹااصلاحات۔۔۔ محرومیوںکاازالہ

فاٹااصلاحات۔۔۔ محرومیوںکاازالہ

''میںنے دہشت گردی کی بیخ کنی اوراس عفریت کوجڑسے اکھاڑنے کیلئے جان کانذرانہ پیش کیا،وطن عزیزکی سرحدوںکے بلا معاوضہ محافظ کے فرائض سرانجام دے رہاہوں، مادر وطن میںامن کے قیام کی خاطراپنی ہی زمین پرآئی ڈی پیز بن کرپردیسی جیسے زندگی گزاری ہے ،کئی دہائیوںسے ایک آس لگائے بیٹھاتھا مگرمیرے ایک مطالبے کو7دہائیوںمیںکسی نے بھی درخوراعتناہی نہیںسمجھا۔ مگر موجودہ وفاقی حکومت نے میراخطہ قومی دھارے میںشامل کرکے کالے قانون کاخاتمہ کردیا۔ہاںمجھے قبائلی پکارا جاتاتھامگر قربانیوں اور جذبہ حب الوطنی سے سرشاری کی بدولت آج فخرسے کہہ سکتاہوںکہ کسی ایک سیاسی جماعت نے تومجھے صلہ دے ہی دیا۔یقینا قبائلی عوام نے ان گنت صعوبتیں برداشت کیںمگرانکے لہجے میںلغزش تک نہیںآئی مگراس سے بھی انکارنہیںکیا جاسکتاکہ ماضی کی حکومتوںنے اس خطے کوقومی دھارے میںلانے کی بالکل سعی نہیںکی جس کے باعث قبائل میںایک اضطراب پایاجاتاتھا۔ایسے میںموجودہ وفاقی حکومت نے جوفاٹاکو قومی دھارے میںشامل کرنے کا وعدہ کیاتھااسے عملی جامہ پہنا دیا گو کہ کئی عناصرنے اسکی مخالفت کی مگروزیراعظم محمد نواز شریف اورانکی ٹیم نے فاٹااصلاحات کی منظوری کے عمل میںتمام اعتراضات کو نظراندازکرکے ملک اور قبائلی عوام کے مفاد میںفیصلہ دیا۔1867ء میں سلطنت برطانیہ نے برٹش انڈیامیںپہلی مرتبہ قتل جیسے جرائم کوروکنے کیلئےMurderous Outrageous Regulation (MOR) نافذکیا تھا،معمولی ترمیم کیساتھ MOR دوبارہ1873میں لاگوکردیاگیاجبکہ 1877میں پختونوںکے فرنٹیئر اضلاع میںغازی ایکٹ کے نام سے پھرنافذکیاگیا ۔مگرپختون حزب اختلاف کوقابورکھنے کیلئے غازی ایکٹ بھی کام نہ آیاتاہم مذکورہ ایکٹ میںوقت کیساتھ ساتھ ترامیم کی جاتی رہیں جو1901 میںفرنٹیئر کرائمزریگولیشن کی شکل اختیارکرگیا۔ ایک ایساکالاقانون کہ جس کے تحت کسی ایک فردکے جرم کی پاداش میںپورے گھرانے کوسزادی جاسکتی تھی، مکینوںکوکسی جرم کی وضاحت کئے بغیرگرفتار کیا جا سکتا تھا۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 247کے تحت پارلیمنٹ کاکوئی بھی ایکٹ فاٹاپرلاگونہیںکیا جاسکتاجب تک صدر پاکستان منظوری نہ دیں۔میری دانست میں توفاٹاکے عوام کیلئے فاٹاکاقومی دھارے میںادغام چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسی افادیت رکھتاہے اوروفاقی کابینہ میں عین منظوری کے بعدہی قبائلی طلبہ ،نوجوان اورعمررسیدہ افرادکی تشکرریلیاںاس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ مطالبہ آخرپوراگیاجس کیلئے ان کے آبائو اجداد نے جدوجہد کی تھی۔2430کلومیٹرطویل سر مور ٹائمر ڈیو ر نڈنے پاکستان اورافغانستان کے درمیان جولائن (ڈیورنڈ) کھینچی تھی اورجسے بعض عناصراچھال رہے تھے تاہم فاٹا کوخیبرپختونخوا میںضم کرکے قومی دھارے میںلانے کے بعدڈیورنڈلائن کامسئلہ بھی مستقل بنیادوںپرحل ہوجائیگااورپاکستان کی سرحدیں افغانستان کیساتھ جغرافیائی طورپر منسلک ہوجائیں گی۔ اب قبائلی عوام کی سوچ کامحورایک ہی سمت ہوگا،سپریم کورٹ اورہائیکورٹ کادائرہ اختیارفاٹاتک بڑھادیا جائیگا جس سے فاٹاکے عوام کومساوی حقوق ملیںگے اوراپنے آپ کوتمام حقوق کاحقدارشہری سمجھیںگے، فاٹامیںقیام امن کیلئے20ہزارلیویزکی بھرتی سے قبائلی جوانوںکوروزگارکے مواقع میسر آئیںگے، بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام،پاکستان بیت المال اور مائیکروفنانس سکیموںکادائرہ کارفاٹاتک بڑھایاجائیگا، مختلف بینکوںکے برانچ قائم کئے جائیںگے،این ایف سی ایوارڈمیں3فیصدحصہ ملنے پرقبائلی علاقہ جات کی ترقی کیلئے خطیر رقم میسرآئیگی، فاٹاکے ترقیاتی فنڈز پولیٹیکل حکام فاٹاسیکرٹریٹ اورمعدودے چند قبائلی مشران کی جیبوںمیںجانے کی بجائے قبائلی عوام پر خرچ ہوں گے۔کابینہ کے اجلاس میںجب فاٹااصلاحات کمیٹی کی سفارشات کوحتمی منظوری دی جا رہی تھی تووزیراعظم نے بڑی عمدہ بات کہی کہ''پاکستان پرتمام پاکستانیوںکاہے اورسب کے یکساںاورمساوی حقوق ہیں''انکے موقف کی وضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات نہیںبلکہ آزاد جموںو کشمیراورگلگت بلتستان کے عوام بھی بہترین مستقبل کے حوالے سے قومی دھارے کاحصہ ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم محمدنوازشریف نے فاٹاکوقومی دھارے میں لا کر قبائلی عوام کوپولیٹیکل اورملک کی زنجیروںسے نہ صرف آزادکردیابلکہ سامراجی نظام کی باقیات کوبھی ختم کردیااورنیشنل ایکشن پلان کے تحت کئے گئے فیصلے کوبھی عملی جامہ پہنایاگیا۔