مشرقیات

مشرقیات

عجائب القصص میں ذیل کا واقعہ درج ہے کہ ایک عرب تاجر بہت سا مال تجارت لے کر اپنے دو غلاموں کے ہمراہ سفر پر روانہ ہو ا، راستے میں اس کے دونوں غلاموں کی نیت خراب ہوگئی اور انہوں نے اپنے مالک کو قتل کر کے آپس میں مال تقسیم کر لینے کا پروگرام بنالیا اور پھر موقع پا کر اسے قتل کرنے لگے تو مالک نے کہا اگر تم مجھے قتل کرنا ہی چاہتے ہو ، تو کم از کم میرے گھر جا کر اتنا تو بتا دینا کہ مجھے ڈاکوئو ں نے قتل کر دیا ہے اور مال بھی لوٹ لیا ہے اور وہ قتل ہوتے وقت یہ شعر پڑھ رہا تھا ۔ ترجمہ : کون ہے جو میری دونوں بیٹیوں کو اطلاع دیدے خدا تمہارا بھلا کر ے اور تمہارے باپ کا بھلا کرے دونوں غلام بولے ٹھیک ہے ، یہ پیغام اور اس شعر کو پہنچا نے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ، ہم تیری یہ خواہش پوری کر دیں گے ، پھر ان دونوں غلاموں نے اسے قتل کر دیا اور اس کا مال وغیرہ ٹھکانے لگا کر اپنے مالک کے گھر گئے ۔ اس کی بیٹیوں کو ان کے والد کے قتل کی اطلاع دی اور یہ کہا کہ مرتے وقت تمہارا والد یہ (مذکورہ بالا ) شعر پڑھ رہا تھا ۔ جب چھوٹی بیٹی نے یہ شعر سنا تو فوراً ننگے پائوں باہر نکل کر شور مچانے لگ گئی ،جس پر بہت سے لوگ اکٹھے ہوگئے تو وہ کہنے لگی : ان دونوں غلاموں نے میرے باپ کو قتل کر دیا ہے ۔ لوگوں نے فوراً غلاموں کو پکڑ لیا اور لڑکی سے پوچھا : تجھے کیسے پتہ کہ ان دونوں ہی نے قتل کیا ہے ۔ تووہ کہنے لگی تم سب فصیح لوگ ہو ، شعر سنتے رہتے ہو ، شعروں کو سمجھتے ہو ، اس شعر کے دونوں مصرعے آپس میںمل نہیں رہے ، ہر مصر عہ دوسرے مصرعے کا محتاج ہے ، گویا یہ دو الگ شعروں کا ایک ایک مصرعہ ہی ہو سکتا ہے ۔ لوگوں نے پوچھا تو پھر تو ہی بتا کہ دونوں شعر کیسے مکمل ہو سکتے ہیں ؟ تو وہ کہنے لگی : یہ شعریوں مکمل ہوں گے ۔ کون ہے جو میری دونوں بیٹیوں کو اطلاع دیدے کہ ان کے باپ کو جنگل میں جکڑ کر ماردیا گیا خدا تمہارا بھلا کرے اور تمہارے باپ کا بھلا کرے
یہ دونوں غلام قصاص میں قتل ہونے سے بچ نہ پائیں
لوگوں نے جب ان غلاموں کی چھترول کی تو انہوں نے قتل کا اقرار کر لیا اور ان سے سارا مال لے کر انہیں قصاص کے طور پر قتل کر دیا گیا ۔
(عجائب القصص،42,41)
عبدالواحد بن زید فرماتے ہیں کہ ایک روز میں بازار گیا ۔ راستے میں ایک شخص ملا جس کو جذام کی بیماری تھی اور بدن میں زخم بھی تھے ۔ گلی کے لڑکے اس کو پتھر مار رہے تھے ، جس کی وجہ سے اس کا چہرہ خون آلود تھا ، لیکن اس کے ہونٹ حرکت کر رہے تھے ۔ میں اس کے قریب گیا تا کہ بات سن سکوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے : میں نے سنا کہ وہ شخص کہہ رہا ہے ، اے میرے رب تو خوب جانتا ہے ،اگرمیری ایک ایک بوٹی قینچی سے کاٹ دی جائے اور میری ہڈیاں آرے سے چیر ڈالی جائیں تو بھی میری محبت تیرے ساتھ بڑھتی جائے گی ، اب تجھ کو اختیار ہے جو چاہے کر ۔
(صفتہ الصفوة ج 4ص 11)

متعلقہ خبریں